وہ لوگ زمانے کے جو ٹکڑوں پہ پلے ہیں
ہم جیسے شہنشاہوں سے اچھے ہی بھلے ہیں
اپنے ہوں یا کہ غیر ہوں یا کوئی ہوں مگر
ہم جب بھی ملے جن سے ملے دل سے ملے ہیں
فرقت میں تیرے غم سے میں دیوانہ بنا ہوں
مٹا بھی دو ترے دل میں جو اب شکوے گلے ہیں
فریب تھا یا دھوکہ تھا، سراب تھا جس سے
دامن بھی جلا ،روح جلی، دل بھی جلے ہیں
رحمت کی گھٹا میں مرے مولا انہیں رکھنا
گلشن میں مرے جتنے بھی یہ پھول کھلے ہیں
ہمدم یہ میری ماں کی دعاؤں کا ہے صلہ
ہر وقت بلا سر سے جو آفت کے ٹلے ہیں

عبدالمبین منصوری
(ہمدم سیوانی)
سدھارتھ نگر، یو پی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے