غزل

ستمبر 29, 2025

میرؔبیدری ، بیدر،کرناٹک

رنگ میں اُس کے ہی دیکھاجانا ہے
عشق بھی یارو یہ، پہلا پہلا ہے

تم مگر جذبات میں بہہ جاتے ہو
بات اپنی ہے ، یہ قصہ اپناہے

ہاتھ دو ہیں، کیسے ہوگا انتخاب ؟
بانسری ہے اور بجانے طبلہ ہے

اے خدا ، مصروف ہیں ،پھر بھی ہمیں
اُڑتے پنچھی کے پروں کو گننا ہے

پوچھنے والوںنے پوچھا ہے یہی
کتنا جذبہ ہے ، کہاں سے لاتاہے

نعمتوں کا ذائقہ چکھتے ملے
تم بھی بتلاؤ کہ ہوتا کیسا ہے

تم کہ اندازے لگاتے رہنا میرؔ
میں چلاجاؤں ، اُس کاجلسہ ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے