میرؔبیدری ، بیدر،کرناٹک
رنگ میں اُس کے ہی دیکھاجانا ہے
عشق بھی یارو یہ، پہلا پہلا ہے
تم مگر جذبات میں بہہ جاتے ہو
بات اپنی ہے ، یہ قصہ اپناہے
ہاتھ دو ہیں، کیسے ہوگا انتخاب ؟
بانسری ہے اور بجانے طبلہ ہے
اے خدا ، مصروف ہیں ،پھر بھی ہمیں
اُڑتے پنچھی کے پروں کو گننا ہے
پوچھنے والوںنے پوچھا ہے یہی
کتنا جذبہ ہے ، کہاں سے لاتاہے
نعمتوں کا ذائقہ چکھتے ملے
تم بھی بتلاؤ کہ ہوتا کیسا ہے
تم کہ اندازے لگاتے رہنا میرؔ
میں چلاجاؤں ، اُس کاجلسہ ہے

