تحریر: محمد وسیم راعین

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ".(صحیح البخاري :645،صحیح مسلم :650،واللفظ له)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا تنہا نماز پڑھنے سے ۲۷/گنا بہتر ہے۔

ہمارا دین ہمیں متحد و متفق دیکھنا چاہتا ہے، اتحاد واتفاق کی ترغیب دیتا ہے، اس کے فضائل و فوائد بھی بیان کرتا ہے، معاشرے میں اتفاق و اتحاد کو پروان چڑھانے کے ذرائع بھی سکھاتا ہے – تفرقہ بازی، تعصب ، افتراق و انتشار سے ڈراتا ہے اور اس کے نقصان کو بھی واضح کرتا ہے۔

اسلام میں اجتماعیت کے متعدد مظاہر ہیں جن سے مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا درس دیا جاتا ہے انہیں مظاہر میں سے ایک مظہر نماز باجماعت کی فرضیت ہے۔

مذکورہ بالا حدیث سے نماز با جماعت کی فضیلت واضح ہے – ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی بھی ہے کہ باجماعت نماز کا ثواب 27 گنا زیادہ ہے لیکن کچھ روایتیں ایسی ہیں جومذکورہ بالا روایت سے بظاہر متعارض ہیں ۔

( 1 ) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ". (بخاری: 646)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : نماز با جماعت تنہائی کی نماز سے ٢٥/گنا بہتر ہے۔

(۲) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا ". (صحیح البخاري :477،مسلم:649، واللفظ له) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جماعت کی نماز تم میں سے کسی کی تنہائی کے نماز سے ۲۵/حصہ افضل ہے۔

(۳)عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ".(سنن النسائي :839)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ نماز باجماعت اکیلے کی نماز سے پچیس ( ۲۵ ) درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ۔‘‘

ان احادیث میں جو تعارض نظر آرہا ہے اس میں جمع کرنے کے سلسلہ میں متعدد اقوال پائے جاتے ہیں:

(1) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (٢/ ٤٨٣) میں گیارہ اقوال ذکر کئے ہیں اور ان میں سے یہ اختیار کیا ہے کہ یہ ثواب جہری اور سری نماز کے اعتبار سے ہے یعنی جہری نماز با جماعت کا ثواب ۲۷ / اور سرّی نماز کا ثواب ۲۵ / گنا ملتا ہے۔ اور ۲۷، ۲۵ / گنا ثواب کے اسباب کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان اسباب کو فتح الباری ( ٢/ ٤٨٤۔٤٨٥)میں دیکھا جا سکتا ہے۔

(۲) شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ نے یہ وجہ جمع اختیار کی ہے کہ پہلے آپ ﷺ کو ۲۵ / گنا ثواب بتایا گیا پھر بعد میں ۲۷ / گنا ثواب بتایا گیا ۔

اس حدیث سے مستفاد فوائد :

اس حدیث سے بہت سارے فوائد حاصل ہوتے ہیں

(1) نماز با جماعت کی فضیلت – اور یہ فضیلت معذور شخص کے علاوہ دوسروں کے لئے ہے کیونکہ معذور شخص شرعی عذر کے سبب مسجد میں حاضر ہو کر با جماعت نماز نہیں ادا کر سکتا ہے تو اسکو کامل ثواب ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : ” اذا مرض العبد أو سافر كتب له مثل ما كان يؤدى صحيحا مقيما “ ۔ ( بخاری:٢٩٩٦) جب بنده بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لئے ایسے ہی ثواب لکھا جاتا ہے جیسا وہ بیماری اور سفر سے پہلے کیا کرتا تھا۔

 (۲) یہ ۲۷ / گنا افضل منفرد کی نماز کو شامل کر لیں تو ۲۸ / گناہو جاتا ہے۔

(۳) با جماعت نماز نہ پڑھنے والوں کی نماز درست ہے ۔

کیونکہ اکیلے نماز پڑھنے میں بھی ایک گنا ثواب بتایا گیا ہے اور اگر منفرد کی نماز درست نہ ہوتی تو ثواب نہیں بتایا جاتا۔

(٤) نماز با جماعت کی ترغیب ، کیونکہ اس حدیث سے صرف نماز با جماعت کا ثواب بتلانا مقصود نہیں ہے بلکہ باجماعت نماز کی ترغیب بھی ہے۔

 (۵) اللہ سبحانہ وتعالی کے عظیم فضل کا بھی پتہ چلتا ہے کیونکہ ایک باجماعت نماز ۲۷ / گنا افضل ہے تو ٥/ وقت کی نماز ١۳۵ / گنا افضل ہوئی۔ اس سے اللہ کے عظیم اور لامتناہی فضل کا علم ہوتا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالی کا نیکی کا بدلہ ١٠/ گنا سے ۷۰۰/ اور جسےچاہیں اس سے بڑھا کے بھی دیتے ہیں۔

 (٦) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اعمال آپس میں ایک دوسرے سے فضل میں کم زیادہ ہیں۔ اور جب اعمال فضل و درجات میں کم زیادہ ہونگے تو اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ان کے کرنے والے بھی متفاضل ہونگے ۔

نماز با جماعت کے فوائد :

نماز باجماعت کے بہت سے فوائد ہیں ، درج ذیل فوائد شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے بلوغ المرام کی شرح (٤/ ٣٠١۔ ٣٠٤) میں ذکر کیا ہے۔

(١) اسلام کے اس عظیم رکن کا اظہار، کیونکہ نماز جب مسجد میں ادا کی جائے گی تو چھوٹے ، بڑے ، مرد اور عورت سب لوگ دیکھیں گے کہ لوگ مسجد جارہے ہیں تو یہ رکن ظاہر، مشہور اور واضح ہوگا۔

(٢) مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ چاق و چوبند کرنا، کیونکہ آدمی تنہا نماز پڑھے گا تو سستی ،کاہلی محسوس کریگا برخلاف نماز باجماعت کے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے آدمی میں چستی اور تازگی آتی ہے اور اطمینان وسکون سے نماز ادا کرتا ہے۔

(۳) اس سے الفت و محبت میں اضافہ ہوگا کیونکہ سب لوگ جب ایک جگہ جمع ہونگے تو اس سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔

 (٤) لوگوں کے مابین ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات کا اظہار، کیونکہ جب کسی کو نماز میں آتے نہیں دیکھتے ہیں تو لوگ اس کے بارے میں دریافت کرتے ہیں اور اس کی غیر حاضری کا سبب معلوم کرتے ہیں اور اسکا حال جانتے ہیں۔

(۵) جاہل کیلئے تعلیم کا ذریعہ ہے جیسا کہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں ایک جاہل شخص جس نے کبھی کسی مدرسہ کی شکل نہیں دیکھی وہ بھی نماز پڑھنا جانتا ہے مسجد میں نماز با جماعت کی وجہ سے۔

(٦) شریعت اسلامیہ کے ہر ناحیہ سے کامل ہونے کا علم ہوتا ہے۔ شارع نے ایمانی اور اسلامی وحدت کی بقاء کے ذرائع مشروع قرار دئے ۔ کیونکہ لوگوں کا ایک جگہ اس عظیم عمل کی ادائیگی کے لئے جمع ہونا وحدت کے بڑے ذرائع میں سے ہے۔

 اللہ سبحانہ و تعالی نے نماز کے لئے تین طرح کے اجتماع مشروع قرار دئے ہیں: ایک یومی اجتماع ، دوسرا ہفتہ واری اجتماع اور تیسرا سالانہ اجتماع ۔ یومی اجتماع پانچ وقت کی نمازیں ہیں ، ہفتہ واری اجتماع جمعہ کی نماز ہے اور سالانہ اجتماع عیدین کی نماز ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک عظیم حکمت ہے۔

(۷) انسان کے معاملات منظم ہوتے ہیں اسلئے کہ وہ ایک امام کی اقتداء سے امام اعظم رسول اللہ ﷺ کی جانب منتقل ہوتا ہے۔

(۸) کفار و منافقین کے غضب کا سبب ہے۔ کیونکہ جب وہ اس طرح مسلمانوں کے درمیان وحدت و اتفاق کو دیکھیں گے تو یہ ان کے غصہ میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔

(٩) بہت سے اجر وثواب کے حصول کا ذریعہ ہے۔کیونکہ جب انسان اپنے گھر سے وضو کر کے مسجد کو نکلتا ہے تو ہر قدم پر اس کا ایک گناہ معاف اور ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے اور یہ بڑا فضل ہے۔

اسی طرح نماز با جماعت انفرادی نماز کے مقابلہ میں ۲۷ /گنا ثواب کا باعث ہے اور نماز کے انتظار میں رہنے والا گویا کہ نماز میں ہے۔

(۱۰) نماز با جماعت مساجد کو آباد کرنا ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اگر نماز کے لئے جماعت مشروع نہ ہو تو نہ مسجدیں ہونگی اور نہ ہی لوگ مسجد میں جمع میں ہونگے ۔

(١١) منافقین اور اہل ایمان کے مابین تمیز کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ منافقین اس کا اہتمام نہیں کرتے لہذا نماز با جماعت ان کے لئے اللہ کی جانب سے ابتلاء و آزمائش ہے تا کہ مومن اور منافق کی تمیز ہو سکے۔

 یہ کل گیارہ فوائد ہیں جو حقیقت میں کسی کتاب میں ایک جگہ نہیں پائے جاتے، فقہاء غالباً تین چارفوائد ذکر کرتے ہیں اگر یہ فوائد جمع کر لئے جائیں تو انسان ان سے بہت زیادہ مستفید ہوگا ان شاء اللہ۔

اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں باجماعت نماز ادا کرنے اوران فوائد اور ان جیسے دوسرے فوائد سے بہرہ ور ہونے کی توفیق دے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے