مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ 
بچے اور بچیوں کے ذہن و دماغ کی اٹھان اور ان کی نشو و نما کی ایک عمر ہوتی ہے۔ اس عمر میں بچوں کے ذہن و دماغ کو جس رخ پر موڑ دیا جائے وہ مڑ جاتا ہے اور پھر زندگی بھر اسی انداز میں کام کرتا ہے۔ بدقسمتی سے اگر اس کی یہی نشو و نما خدا بیزار، الحاد پسند یا دوسرے مذاہب سے متعلق اداروں میں ہوتی ہے تو وہ اس کی زندگی کا لازمہ بن جاتا ہے اور پوری زندگی عملی طور پر ایمانی ، اسلامی اخلاق واقتدار سے کٹ جاتی ہے، وقت گزرنے کے بعد ہم اس کے ذہن و دماغ ، افکار واقتدار کو بدلنے کے لیے کچھ بھی نہیں کر پاتے ، اسی وجہ سے بڑے مشورہ دیا کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کے لیے پہلے بنیادی دینی تعلیم اور ایمانی اسلامی تربیت کا انتظام کرنا چاہیے، تا کہ وہ کچھ بھی بنے، اس کی اسلامیت اس سے دور نہ ہو ۔ ابتدائی دینی تعلیم کے لیے مدارس اسلامیہ بہترین جگہیں ہیں اس کے بعد وہ تعلیمی ادارے کنونٹ وغیرہ جہاں بچوں کی ایمانی و اسلامی تربیت کا خیال رکھا جاتا ہے، بدرجہ مجبوری ان اداروں میں بھی جایا جا سکتا ہے جسے چلاتے تو دوسرے  لوگ ہیں لیکن ان میں قرآن کریم کلمہ نماز اور ضروریات دین سکھانے کا نظم ہوا کرتا ہے۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ کم عمری میں بچے معنی اور مفہوم کم سمجھتے ہیں لیکن اگر انہیں جنرل نالج یا دینی معلومات سوال و  جواب کے طریقے پر رٹا دیا جائے تو وہ باشعور ہونے کے بعد ان کے ذہن اور وجدان کا حصہ ہو جاتا ہے اور ان پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے، اس لیے مختلف حضرات نے سوال و جواب کی صورت میں دینی، اسلامی سیرت النبی اور معلومات عامہ کے موضوعات پر کتابیں مرتب کی ہیں اساتذہ نے طلبہ کو رٹا دیا اور وہ ان کے لیے بعد میں بہت مفید ثابت ہوئے اس سلسلہ کا بڑا مقبول سلسلہ کئی جلدوں میں تعلیم الاسلام کا ہے جو آج بھی مدارس دینیہ میں داخل درس ہے اور حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔
سوال و جواب کے ذریعہ معنی اور اہمیت کی تفہیم کا یہ طریقہ قرآن کریم میں اللہ رب العزت کے طریقہ سے ماخوذ ہے، اللہ رب العزت نے ارواح کو جمع کر کے یہ سوال کیا تھا ” آلَستُ بِرَبِّكُمْ ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں، ارواح نے بیک آواز کہا، "بلیٰ” کیوں نہیں ، اسی طرح اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا ” وَمَا تِلْک بِيَمِينِكَ يَمُوسیٰ“ اے موسیٰ ! تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تفصیلی جواب دیا کہ یہ لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں، اپنی بکریوں کو ہنگاتا ہوں اور کچھ دوسرے کام بھی لیتا ہوں ، اس طرح کے سوال و جواب کی قرآن کریم میں اور بھی مثالیں ہیں، کہنا صرف یہ ہے کہ یہ طریقہ تدریس و تعلیم بندے کی نئی ایجاد نہیں ہے۔ اس کی جڑیں طریقہ الٰہی میں بھی دستیاب ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں تو کثرت سے سوال جواب مذکور ہے، یعنی سوال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اور جواب صحابہ کرام کے۔
مولا نا محمد نصیر الدین مظاہری بن حضرت قاری شعیب احمد صاحب علیہ الرحمہ ناظم دارالقرآن مدرسہ عظمتیہ برانچ انصار نگر، نوادہ، بہار نے اسی انداز میں دینی علمی معلومات کے نام سے مفید مجموعہ تیار کیا ہے، جس میں نماز ، نماز عیدین ، مسائل قربانی ، مسائل جنازہ سیرت سے متعلق معلومات، جنگ آزادی کی تاریخ مخارج حروف وغیرہ کو سوال و جواب کی شکل میں بچوں کی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے مختصر سہل اور آسان اردو زبان میں مرتب کر دیا ہے میں نے اسے مدارس دینیہ کنونٹ اور اسکولوں کے لیے مفید پایا ، کتاب اس لائق ہے کہ اسے مختلف مدارس اور ابتدائی تعلیمی اداروں میں داخل نصاب کیا جائے ، یہ بڑی اچھی بات ہے کہ مولانا نے نظامت کے ساتھ لکھنے کے شغف کو جاری رکھا ہے ورنہ عام طور پر انتظام و انصرام میں لگ کر یہ کام پس پشت چلا جاتا ہے اللہ تعالی مولانا کی اس توفیق کو باقی رکھے۔
وما توفيقى الا بالله عليه توكلت واليه انيب۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے