✍️ڈاکٹر شارب مورانوی بارہ بنکی
انسان اور اس کی زبان اس کی شخصیت، اس کی فکری ساخت، اس کے فلسفۂ حیات کو ظاہر کرتی ہے۔ ذیل میں ایک مفصل مضمون پیش خدمت ہے.
انسانی شخصیت: وہ آئینہ ہے جو زبان کے پردے میں پوشیدہ ہے
انسانی زبان کو محض الفاظ کے تبادلے کا ذریعہ سمجھنا اس کی وسعتوں اور گہرائیوں کو نہ سمجھنا ہے۔ زبان درحقیقت ایک ایسا دریچہ ہے جس سے گزر کر ہم انسان کے باطن میں اتر سکتے ہیں۔ یہ اس کے فکر کے محرکات، اس کے عقائد کی بنیادیں، اور اس کے جذبات و خیالات کی کائنات کو سمجھ سکتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں "انسان کی شخصیت اس کی زبان تلے پوشیدہ ہے۔”
۱۔ زبان: شخصیت کا عکاس اور جہان بینی کا آئینہ
جب ہم بات کرتے ہیں تو محض معلومات کا تبادلہ نہیں کرتے، بلکہ اپنی پوری ذات کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
· الفاظ کا انتخاب: کسی کا علمی، ادبی یا فلسفیانہ زبان استعمال کرنا اس کی تعلیم، مطالعے اور سوچ کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔
· تلفظ اور لہجہ: یہ ہمیں اس کی جغرافیائی و ثقافتی پسِ پردہ کے بارے میں بتاتا ہے۔
· بات چیت کا اسلوب: جارحانہ، نرم، استدلالی یا جذباتی اسلوب اس کی نفسیاتی کیفیات کو عیاں کرتا ہے۔
مختصر یہ کہ، ہماری "جہان بینی” (Worldview) — یعنی دنیا کو دیکھنے، پرکھنے اور سمجھنے کا ہمارا اپنا نظریہ — ہماری زبان کے ہر جملے، ہر استعارے اور ہلکے پھلکے تبصرے میں رچا بسا ہوتا ہے۔
۲۔ فزکس اور میٹا فزکس: مادہ اور معنی کی ہم آہنگی
یہ وہ بنیادی تقسیم ہے جو انسان کی فکر کو دو وسیع دائرے عطا کرتی ہے۔
· فزکس (طبیعیات): یہ ہے "طبیعت” کا علم۔ یہ ان چیزوں کا مطالعہ ہے جو ہم دیکھ، چھو سکتے، ناپ تول سکتے ہیں۔ یہ مادے، توانائی، قوانینِ فطرت اور مشاہدے پر مبنی ہے۔ اس کا تعلق "کیسے” (How) کے سوال سے ہے۔ مثلاً، سیب زمین پر "کیسے” گرتا ہے؟
· میٹا فزکس (مابعدالطبیعیات): یہ ہے "فطرت” کے پیچھے کارفرما حقیقتوں کا علم۔ یہ وجود، شناخت، زمان و مکان، causation اور خدا جیسے تصورات سے بحث کرتی ہے۔ اس کا تعلق "کیوں” (Why) کے سوال سے ہے۔ مثلاً، کائنات "کیوں” وجود میں آئی؟ زندگی کا مقصد "کیا” ہے؟
ایک متوازن شخصیت وہ ہے جو ان دونوں دائروں کے درمیان ربط قائم کرتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سیب کا گرنا قوتِ کشش ثقل کا نتیجہ ہے (فزکس)، لیکن اس نظام کائنات میں حکمت اور حسن بھی ہے (میٹا فزکس)۔ یہی ربط "الہیات” (Theology) کو جنم دیتا ہے، جو خالق، مخلوق اور کائنات کے باہمی تعلق کی تشریح پیش کرتی ہے۔
۳۔ طبیعت و فطرت کا ربط: ظاہر و باطن کا رقص
· طبیعت (Nature): یہ ہے وہ مادی دنیا جسے ہم اپنے حواس سے محسوس کرتے ہیں۔ پہاڑ، دریا، ستارے، جاندار۔ یہ کائنات کا "ظاہر” ہے۔
· فطرت (Metaphysical Nature/Inner Disposition): یہ دو معنوں میں آتی ہے۔ پہلا، ہر شے کی وہ بنیادی ساخت اور صلاحیت جو اسے خالق نے عطا کی ہے۔ دوسرا، انسان کی وہ اندرونی ساخت جس میں نیکی، بدی، خیر و شر کو پہچاننے کی innate صلاحیت موجود ہے۔
ان دونوں کا گہرا ربط ہے۔ طبیعت، فطرت کی غمازی کرتی ہے۔ ایک پھول کی ساخت اور خوشبو (طبیعت) اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات حسن و ترتیب کی "فطرت” رکھتی ہے۔ اسی طرح، انسان کی "اندرونی فطرت” اسے اخلاقی خوبصورتی کی طرف راغب کرتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے بیج کی فطرت میں پودا بننا پوشیدہ ہوتا ہے۔
۴۔ ارتقاء (ترقی): سفر بے مقصد یا منزل کی طرف؟
لفظ "ارتقاء” آج کل مادی تصور (Biological Evolution) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس کا وسیع تر مفہوم "ترقی کی منازل” ہے۔
· مادی نقطہ نظر: ارتقاء ایک بے مقصد، بے ہدف اور محض ماحول کے مطابق ڈھل جانے کا عمل ہے۔
· روحانی و فلسفی نقطہ نظر (جیسا کہ اقبال دیکھتے ہیں): ارتقاء درحقیقت "خودی” کی تربیت اور بلندی کا سفر ہے۔ یہ ایک مقصد رکھتا ہے۔ یہ جمود سے حرکت، بے خبری سے آگاہی، اور نفس کی غلامی سے روح کی آزادی کی طرف سفر ہے۔ انسان کی ترقی کی حقیقی منزلیں اس کی علمی، اخلاقی اور روحانی بلندی میں پنہاں ہیں۔ یہی "اشراق” (Illumination) کا راستہ ہے۔
۵۔ فلسفہ اور نظریہ: فکر کے دو پہلو
· فلسفہ (Philosophy): یہ ہے حقیقت، وجود، علم، اخلاقیات وغیرہ کے بنیادی سوالوں پر محض عقل کے ذریعے غور و فکر کرنا۔ یہ سوال اٹھاتا ہے، بحث کرتا ہے اور منطقی frameworks بناتا ہے۔
· نظریہ (Ideology): یہ کوئی خاص سماجی، سیاسی یا معاشی نظام ہے جو ان سوالوں کے عملی جواب دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔ کمیونزم، سرمایہ داری، قوم پرستی وغیرہ نظریات ہیں۔
فلسفہ بنیاد فراہم کرتا ہے، نظریہ اس بنیاد پر عمارت کھڑی کرتا ہے۔ ایک شخص کا فلسفہ اس کی نظریاتی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔
۶۔ دین اور مذہب: شجرِ سایہ دار اور اس کی شاخیں ہیں
· دین (Deen): یہ ایک وسیع اور جامع تصور ہے۔ یہ زندگی گزارنے کا ایک مکمل نظام ہے۔ یہ حقیقت کی ایک کلی تصدیق ہے جس میں عقائد، عبادات، اخلاقیات، معاملات اور معاشرتی قوانین سب شامل ہیں۔ دین، میٹا فزکس کو عملی زندگی سے جوڑنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ یہ فزکس اور میٹا فزکس، طبیعت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی قائم کرتا ہے۔
· مذہب (Religion): عملی طور پر، یہ دین کی رسمی اور تنظیمی شکل ہے۔ اس میں فرقے، روایات اور مخصوص مذہبی رسوم شامل ہو جاتی ہیں۔
دین ایک درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں میٹا فزکس کی گہرائی میں ہیں، اس کا تنا عقیدہ اور اخلاق ہے، اور اس کی شاخیں (مذہبی روایات) مختلف ثقافتوں میں پھیلتی ہیں۔
اس لیے، جب کوئی شخص بولتا ہے، تو وہ محض الفاظ نہیں پھینک رہا ہوتا۔ وہ اپنی شخصیت، اپنی فکری جہاں بینی، فزکس و میٹا فزکس کے درمیان اس کے انتخاب، اس کے نزدیک ترقی کی تعریف، اور دین و مذہب سے اس کے رشتے کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ عکس ہے جو زبان کے شیشے سے گزر کر ہم تک پہنچتا ہے۔ اپنی زبان کو پاکیزہ، با معنی اور گہرائی سے آراستہ کرنا، درحقیقت اپنی شخصیت اور اپنے فلسفۂ حیات کو سنوارنا ہے۔
