مشائخِ مارہرہ شریف کی علمی و اصلاحی روایت

✍️ از: قاری رئیس احمد خان

دارالعلوم نورالحق، چرہ محمد پور، فیض آباد، ضلع ایودھیا (یوپی)
وطنِ عزیز ہندوستان کی سرزمین ہمیشہ سے ان نفوسِ قدسیہ کی جلوہ گاہ رہی ہے جنہوں نے علم و معرفت، تقویٰ و طہارت، اور محبت و انسانیت کے چراغ روشن کیے۔
انہی عظیم روحانی مراکز میں سے ایک مرکزِ انوار و برکات خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ ہے- وہ بابرکت خانقاہ جس نے صدیوں سے ملتِ اسلامیہ کی فکری، روحانی، علمی اور اخلاقی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے۔
یہ خانقاہ فیضانِ علم و عرفان کا وہ سرچشمہ ہے جہاں سے محبتِ رسول ﷺ، خدمتِ دین، اور اصلاحِ امت کی نہریں بہتی رہیں۔
یہی وہ مرکز شریعت و طریقت ہے جہاں ولایت نے علم سے مصافحہ کیا، اور تصوف نے تعلیم سے گلے مل کر امت کے لیے روح و عقل کی یکجائی کا پیغام دیا۔
مشائخِ مارہرہ شریف کا نصب العین،علم و عمل کی روشنی:
مشائخِ مارہرہ شریف کی تعلیمات کا جوہر ہمیشہ یہ رہا کہ انسان کو صراطِ مستقیم پر گامزن کیا جائے، تاکہ وہ دنیا میں صالحیت اور آخرت میں فلاح حاصل کرے۔
ان بزرگوں کے نزدیک کامیابی کا معیار دولت یا جاہ و منصب نہیں بلکہ علم، عمل اور خدمتِ دین وملت اور انسانیت ہے۔
ان کی تعلیمات کا محور یہ تھا کہ دنیا دارالعمل ہے- یہاں نیکی، تقویٰ، اخلاص اور علم کے بیج بو کر آخرت کی فصل سنواری جائے۔
یہی وہ فکرِ ربانی ہے جس کی ایک حسین تعبیر اس خانقاہ کے مشہور و مقبول زرّیں قول اور نعرہ میں جھلکتی ہے:
"آدھی روٹی کھائیے، بچوں کو پڑھائیے”
یہ جملہ محض نصیحت نہیں بلکہ ایک انقلابی فلسفہ ہے- ایک ایسی دعوتِ عمل جو علم کی اہمیت، قربانی کی عظمت، اور اصلاحِ امت کی ضرورت کا جامع پیغام بن گئی۔
یہ وہ آواز ہے جو ہر اس دل میں گونجتی ہے جو علم کی حرارت اور دین کی بصیرت سے آشنا ہے۔
علم دوستی کی روایت اور اس کے مظاہر:
مشائخِ مارہرہ شریف نے تعلیم و تربیت کو اپنے مشن کا مرکز بنایا۔ ان کے نزدیک علم محض کتابی معلومات نہیں بلکہ معرفتِ الٰہی کی سیڑھی ہے، جو بندے کو اپنے خالق، اپنے نبی ﷺ اور اپنی حقیقت سے روشناس کرتی ہے۔
اسی لیے انہوں نے خانقاہی مشغولیات کے ساتھ ساتھ درس و تدریس، تصنیف و تحقیق، اور علمی اداروں کے قیام کو اپنی خانقاہی روایت کا جزوِ لازم بنا دیا۔
انہی علمی جہود کا ثمرہ جامعہ احسن البرکات، مارہرہ شریف ہے- جو علومِ دینیہ، تجوید و قرأت، اور اخلاقی تربیت کا حسین سنگم ہے۔
یہاں علم و روحانیت کا وہ امتزاج نظر آتا ہے جو مارہرہ شریف کے فیضان کی پہچان ہے۔
جامعہ میں ہر سال عرس قاسمی برکاتی کے مبارک موقع پر ملک گیر سطح پر مظاہرۂ قرأتِ قرآن و مقابلۂ حسنِ قرأت کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں قاریانِ قرآن اپنی تلاوت سے دلوں کو منور کرتے ہیں، اور سامعین کے قلوب ذکرِ الٰہی سے معطر ہو جاتے ہیں۔
یہ مناظر اعلان کرتے ہیں کہ مارہرہ شریف آج بھی قرآن و علم کے قافلے کو رواں دواں رکھے ہوئے ہے-
یہ وہ قافلہ ہے جو نہ رکتا ہے، نہ تھکتا ہے، نہ جھکتا ہے۔
جامعۃ البرکات علی گڑھ، فکرِ برکاتی کا عملی پیکر:
مارہرہ شریف کی اسی علمی و اصلاحی فکر کی ایک عظیم تمثیل جامعۃ البرکات، علی گڑھ کی صورت میں جلوہ گر ہے-
ایک ایسا علمی گلشن جو برکاتی فکر کی خوشبو سے معطر ہے۔
یہ جامعہ نہ صرف عصری علوم کا گہوارہ ہے بلکہ دینی تعلیم کے میدان میں بھی رہنمائی کا مینار ہے۔
یہاں مشائخِ مارہرہ شریف کا وہ پیغام زندہ ہے جو امت کو یہ درس دیتا ہے کہ:
"علم کے بغیر عبادت ادھوری، اور تربیت کے بغیر علم بےنقاب تلوار ہے۔”
فیضانِ برکاتی، روحانی و علمی مرکزیت:
خانقاہِ برکاتیہ نے نہ صرف اپنے حلقۂ ارادت میں اصلاح و تربیت کا نظام قائم کیا بلکہ پورے ملک میں مدارس، جامعات اور مکاتب کا جال بچھایا۔
آج ہندوستان کے مختلف گوشوں میں جو مدارس علم و دین کی شمعیں روشن کر رہے ہیں، ان کی بنیادوں میں یقیناً مشائخِ مارہرہ کا فیضان پیوست ہے۔
یہ وہی فیضان ہے جس نے بدایوں، بریلی، اعظم گڑھ، لکھنؤ، دہلی اور حیدرآباد تک علم و عرفان کی خوشبو پھیلائی۔
اہلِ علم و اہلِ دل اس حقیقت کے معترف ہیں کہ خانقاہِ برکاتیہ محض ایک خانقاہ نہیں بلکہ فیضانِ ولایت و علم کا تابندہ مرکز ہے،
جہاں آج بھی ذکر کی محفلوں سے دلوں کو طمانیت ملتی ہے، اور دروسِ علم سے اذہانِ امت کو روشنی حاصل ہوتی ہے۔
علم کی وراثت اور امت کی ذمہ داری:
آج جب دنیا مادّیت کے بھنور میں الجھی ہوئی ہے،
ضرورت ہے کہ ہم مشائخِ مارہرہ شریف کے اس پیغام کو پھر سے زندہ کریں:
کہ آدھی روٹی کھانا گوارا کر لیں مگر اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں، انہیں علم و دین سے آشنا کریں۔
یہی ملت کی بقا کا راز ہے، یہی امت کی ترقی کا نشان۔
اگر والدین اپنی اولاد کو دینی و اخلاقی تربیت کے ساتھ  مفید تعلیم دیں، تو یہی نسلیں امت کے چراغ، قوم کے معمار، اور دین کے خادم بنیں گی۔
یہی وہ عملی پیغام ہے جسے مشائخِ مارہرہ شریف نے اپنے کردار و گفتار سے روشن کیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان نفوسِ قدسیہ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے،
ہماری نسلوں میں علم و ایمان کی شمعیں فروزاں رکھے،
اور ہمیں علمِ نافع، عملِ صالح، اور اخلاصِ کامل کی دولت سے نوازے۔
آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے