ٹیپو سلطان صرف کرناٹک ہی نہیں بلکہ جنوبی ہند کے ایک وسیع خطے کے عادل و روادار حکمران تھے
بیجاپور۔ 14؍نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری): بروز جمعرات 13 نومبر2025 بعد نماز مغرب ادارہء ادب اسلامی ہند شاخ بیجاپور کے زیرِ اہتمام ”یومِ اسلاف ” نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اجلاس کی صدارت معروف استاد شاعر جناب محمود انعامدار محمود صدر ادارہء ادب اسلامی ہند بیجاپورنے کی، اجلاس کا آغاز مولانا فصیح الدین قاضی کی پُراثر تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مومن بیجاپوری نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ پاک پیش کی۔استقبالیہ کلمات ادارہء ادب اسلامی بیجاپور کے سیکریٹری جناب آصف بالسنگ نے پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہء ادب اسلامی ہند ایک فکری و تعمیری تحریک کا حامل ادارہ ہے، جس کا مقصد ادب کے ذریعے مذہب و ملت سے بالاتر ہوکر اسلامی افکار و مقاصد کو عوام تک پہچانا ہے۔اجلاس میں بطورِ مہمانِ خصوصی اور مقالہ نگار ڈاکٹر عبدالغنی عمارت والے، ڈاکٹر سید علیم اللہ حسینی اور جناب محمد حسین ڈونی شریک رہے، جنہوں نے اپنے وقیع مقالات پیش کیے۔ڈاکٹر سید علیم اللہ حسینی نے ”اردو زبان کی ترقی اور جدید رجحانات” کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان نے زمانے کے مختلف ادوار طے کرتے ہوئے آج ایک بین الاقوامی زبان کا درجہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر زبان و تہذیب کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور اسی اوصاف کی بنا پر ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔داستان سے افسانہ تا افسانچہ اور مثنوی سے آزاد نظم تک کا سفر اس کی ترقی کا ضامن ہے۔ ڈاکٹر عبدالغنی عمارت والے، جو ایک معروف مورخ ہیں،انہوں نے اپنے مقالہ بعنوان ”ٹیپو سلطان: ایک سیکولر حکمران” میں کہا کہ ٹیپو سلطان صرف کرناٹک ہی نہیں بلکہ جنوبی ہند کے ایک وسیع خطے کے عادل و روادار حکمران تھے۔ انہوں نے مساوات، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور متعدد مٹھوں کو مالی تعاون فراہم کیا۔تیسرے مقالہ نگار جناب محمد حسین ڈونی نے مولانا ابوالکلام آزاد کی علمی و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد نہ صرف مجاہدِ آزادی تھے بلکہ بہترین نثرنگار، مترجم قرآن، مفکر اور مصلح بھی تھے۔ ان کی تصانیف غبارِ خاطر، ترجمان القرآن اور خطباتِ آزاد اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔جو ان کی علمی خدمات کاجیتا جاگتا ثبوت ہیں، الہلال اور البلاغ رسالے جس سے مسلمانوں کو جگانے اور حریت کا جوش بھرنے کا فریضہ انجام دیا جو کہ ان کی علمی بصیرت کا نتیجہ ہیں۔صدرِ اجلاس جناب محمود انعامدار نے اپنے خطاب میں کہا کہ تینوں مقالہ نگاروں نے اپنے اپنے عنوانات کے ساتھ انصاف کیا اور علمی و ادبی سطح پر قیمتی معلومات پیش کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارہء ادب اسلامی ہند، اپنی شعری و ادبی سفر کے ساتھ موقع بہ موقع ایسے اجلاس بھی منعقد کرتا آرہا ہے اور اپنے اسلاف کی علمی و فکری خدمات کو یاد کر کے نئی نسل تک ان کے پیغام کو پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔اس موقع پر جناب عبدالقدیر ساحلؔ کو ریاستی سیکریٹری کے طور پر منتخب کیے جانے پر تہنیت پیش کی گئی،جناب مومنؔ بیجاپوری اپنی نظم ” اردو زبان ہماری ” مترنم آواز میں پیش کرتے ہوئے اجلاس کو اردو کے رنگ میں رنگ دیا۔اجلاس میں جماعت اسلای ہند کے امیر مقامی جناب محبوب علی بلگابور بھی شریک رہے۔ آخر میں جناب مزمل ملا نے شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کی نظامت نہایت خوش اسلوبی سے جناب رضوان احمد رضوان نے انجام دی۔اس بات کی اطلاع جناب آصف بالسنگ نے دی ہے۔
