محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
’’آج کی تازہ خبر، آج کی تازہ خبر ‘‘حمداللہ ہاتھ میں اخبار لئے آہستہ آہستہ ’’آج کی تازہ خبر‘‘کاورد کئے جارہے تھے۔ ساتھ بیٹھے برادرِ نسبتی نے پوچھ لیا ’’وہ کیاخبر ہے بھائی جان ؟کل کی خبر آج ہمارے سامنے آکر تازہ ہوگئی ہے ‘‘ حمد اللہ نے برادرنسبتی برکت خان سے کہا’’بھائی جان ، آ پ نے سنانہیں ،جہاں جاگووہاں سویرا، ویسے ہی جو خبر جب سن لی جائے یا پڑھ لی جائے تب وہ تازہ ہوجاتی ہے ‘‘اتنے میں حمد اللہ کی اہلیہ نے چائے اور بسکٹ لاکر تپائی پر رکھااور اندر چلی گئیں۔
برکت خان چائے کی چسکیاں لے رہے تھے ۔ حمد اللہ خبرپڑھنے لگے کہ ’’ خبر کی سرخی ہے ، دفتر میں رومانس، میکسیکو کے بعد ہندوستان دوسرے نمبرپر‘‘ برکت خان کے منہ سے بے اختیار نکلا’’واہ ۔۔۔واہ ‘‘ حمد اللہ نے اپنے سالے کو عجیب سی نظروں سے دیکھا اوراخبار کا پڑھنا جاری رکھا’’ 11ممالک پرمشتمل ایک وسیع مطالعہ کیاگیا۔ اس سروے سے پتہ چلاکہ دفاتر میں رومانس کے معاملہ میں ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے۔ ‘‘پوری خبر پڑھنے تک برکت خان کی چائے اور بسکٹ ختم ہوچکے تھے۔ حمد اللہ کی چائے ویسے ہی تپائی پر رکھے رکھے ٹھنڈی ہورہی تھی ۔
حمد اللہ نے کہا’’برکت خان صاحب ، پھر تو مزے ہی مزے ہیں، دفتر میں رومانس ہوگا تو پورا منظر ہی بدل جائے گا۔ پولیس چوکی جو خطرناک جگہ ہے وہاں رومانس ہو گاتو کتنا اچھالگے گا‘‘ برکت خان نے کہا’’بالکل اچھالگے گا، ورنہ اکثرپولیس چوکیوں میں مارتوڑ جیسی غیرانسانی باتیں ہوتی ہیں ‘‘ ڈپٹی کمشنر دفتر میں رومانس ہورہاہوگا۔ تحصیل میں رومانس ہورہاہوگا، ضلع وتعلقہ پنچایت میں رومانس ، اوقافی اداروں میں رومانس ، عدالت میں بھی رومانس ممکن ہے ۔ یعنی جہاں دفتر ہوگا وہاں رومانس ہوگا۔۔۔۔ہے نا‘‘
برکت خان نے کہا’’رومانس ہوگانہیں ، خبر میں رومانس ہورہاہے لکھاہے ۔یہ سب شاہ رخ خان کی دین ہے ۔ وہی ہندوستانی فلموں میں رومانس کابادشاہ کہلاتا ہے ‘‘
حمداللہ کے چہرے پر فکرمندی بڑھی ہوئی تھی ۔ انھوں نے کہا’’برکت خان آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ مسلمان اپنی لڑکیوں کوپڑھارہے ہیں،اعلیٰ تعلیم دلارہے ہیں، اسلئے تاکہ دفاتر بھیج کر اپنااقبال بلند کرسکیں۔ لڑکوں سے زیادہ لڑکیوںکو پڑھانے اورانھیں افسر بنانے میں دلچسپی ہے ‘‘ برکت خان نے کہا’’بالکل ، اس سے آنیو الی نسل میں تعلیم بڑھے گی ‘‘ حمد اللہ نے کہا’’آنے والی نسل میں تعلیم ضرور بڑھے گی مگررومانس نامی اس درمیانی فتنہ کا کیاکریں گے؟اپنی لڑکیوں کو مسلمان کیسے بچاپائیں گے ؟یا بچانانہیں چاہیں گے‘‘اب برکت خان کے چہرے پر فکرمندی نظر آنے لگی ۔ یہ باتیں گھر کے اندر تک سنی جارہی تھیں۔کھانا بناتے بناتے حمد اللہ کی اہلیہ نے سوچا ’’ چلواچھاہے ، بیٹی نہیں ہے ہمیں اور حمداللہ کسی دفتر میں ملازم نہیں ہیں۔ چھوٹا کاروبار ہے اپناکاروبار ہے ، حمد اللہ اس درمیانی فتنہ سے بچے ہوئے ہیں‘‘
اسی اثناء میں حمد اللہ کی آواز آئی۔ ’’برکت خان صاحب ، ایساہوگاکہ عنقریب پرائیویٹ سیکٹر کا سروے ہوگاتو پتہ چلے گاکہ وہاں تو دفاتر سے زیادہ رومانس ہے۔ اسکول اور کالج میں لڑکے ہی نہیں ٹیچراور لیکچررس بھی رومانسی فتنہ میں ازحد مبتلا ہیں ، کھیتوں میں کام کرنے والے مرد اور عورت رومانس میں لگے ہیں وغیرہ وغیرہ‘‘برکت خان نے کہا’’جہاں لڑکی ہوگی ، عورت کاوجودہوگا وہاں رومانس کاہونا یقینی ہے‘‘برکت خان کی آواز پختہ تھی۔ حمد اللہ کی آواز آئی ’’پھر تو دین کے نام پر ہونے والے لڑکے لڑکیوں اور مردوخواتین کے ملے جلے عظیم الشان اجتماعات میںبھی رومانس کا ہونا ممکن ہے، اس کاسروے ہونا چاہیے ‘‘ برکت خان کی کوئی آواز نہیں آئی ۔ دونوں بھی خاموش ہوگئے تھے۔ حمداللہ کی اہلیہ سوچ رہی تھیں کہ ایسا ممکن ہے یانہیں ؟انھوں نے اپنے بھائی کی آواز کو اپنے کانوں میں گونجتا پایا ’’جہاں لڑکی ہوگی ، عورت کاوجود ہوگا وہاں رومانس کاہونا یقینی ہے‘‘ ۔
