پریس ریلیز / سدھارتھ نگر
کون آدمی آیا شہر میں میرے مونس
جس سے شہر کی اب تک ہر گلی مہکتی ہے
معروف صحافی، صاحب طرز ادیب درجنوں کتابوں کے مصنف و مؤلف جناب سہیل انجم کی سدھارتھ نگر آمد پر شان دار استقبال ہوا۔ آپ کی یہ ہماری دوسری دید اور روبرو دوسری گفت و شنید ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشہور شاعر جناب مونس فیضی نے کیا۔
جناب نور اللہ خان نے کہاکہ سدھارتھ نگر ایک تاریخی سرزمین ہے۔ اور یہاں جس طرح علمی شخصیات کا استقبال ہوتا ہے اور ادبی سرگرمیاں جاری ہیں یہ اس مصروف عہد میں یہاں علم دوست افزاد کی علم دوستی کا مظہر ہے۔
ہائی ریج سولیوشن ممبئی کے ڈائریکٹر جناب عتیق خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ الحمدللہ آج کی اس نشست میں علماء بھی ہیں، ادبا بھی ہیں شعراء بھی ہیں، نامہ نگار بھی ہیں، سخن سنج بھی ہیں اور سچے ادب نواز بھی ہیں، آج اردو، ہندی میڈیا، اخبار نویش اور اردو داں طبقہ میں سہیل انجم صاحب کو کون نہیں جانتا، آپ منجھے ہوئے قلم کار، با کمال انشاء پرداز، عظیم خاکہ نویس ، درجنوں کتابوں کے مصنف و مؤلف، دینی و عصری علوم کے ماہر غواص ہیں۔ آپ نے کہاکہ ایسے علمی کاموں سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزا آئی نہ صرف ہمارا فرض ہے بلکہ یہ وقت کا تقاضا ہے اور علمی ماحول کی سازگاری اور علمی میدان سے وابستہ افراد کو مثالی بناکر پیش کرنا نہایت ضروری ہے۔
میزبان فاروق احمد صاحب نے کہاکہ آپ اہل علم کے دلوں میں بستے ہیں ۔ موصوف کو ادب نوازی قلمی سرمایہ ورثہ میں ملا ہے ۔ آپ کے والد گرامی ایک مستند جید عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑے قلم کار اور استاد شاعر تھے، پدری چمک موصوف میں موجود ہے بلکہ علمی و ادبی افق پر نجوم و کہکشاں بن کر چمکتے ہیں اس لیے آپ کا ذکر جمیل و اعزاز و تعارف ضروری ہو جاتا ہے آپ نے اپنے والد گرامی کی قربانیوں اور خدمات کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پرو کر اسے صفحۂ قرطاس پر ہیرے موتی کی مانند پھیلا دیا ہے۔
آپ کی دو کتابیں میرے حصے میں آئی ہیں نقوش انجم، دوسرے نقش بر آب اس کتاب کا پہلا ورق کیا کھولا جب تک آخری صفحہ پڑھ نہیں لیا سکون نہیں آیا یہ کتاب شخصی خاکوں کا مجموعہ ہے اس میں آپ نے اپنے ابا حضور محترم انجم پر جو خاکہ کھینچا ہے، ایک بیٹے نے اپنے باپ کی زندگی کی جو عکاسی کی ہے اسے ہر بیٹے کو پڑھنا چاہیے۔
مورخ یوں جگہ دیتا نہیں تاریخ عالم میں
بڑی قربانیوں کے بعد پیدا نام ہوتا ہے ۔
صاحبو! آپ کی تحریروں میں نزاکت گل بھی ہے، صلابت سنگ بھی، تخیل بھی ہے سنجیدگی بھی، غم پسندی بھی ہے خوش طبعی بھی، نشتر بھی ہے، مرہم بھی، پھول کی رعنائی بھی ہے، زمانے کی تلخیاں بھی، پڑھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مختلف کیفیات کے اظہار کے لیے مختلف اسالیب تراشے ہیں سہیل انجم صاحب کو اگر دیکھنا ہے تو ان کی تحریروں میں انہیں دیکھیں جہاں ان کی شخصیت جھلکتی ہے یہ میرے مشاہدات ہیں۔ ہم آپ کے مصاحبین کا دل کی گہرائیوں سے استقبال کرتے ہیں
آپ کے استقبال میں چند اشعار کا پرخلوص نزرانہ ہم پیش کرتے ہیں۔
مہکتا ہوا دل کا اب گلستاں ہے
انہیں پا کے محفل ہوئی شادماں ہے
مونس فیضی صاحب کی کوآرڈینیشن اور میزبان فاروق احمد صاحب کی فیاضی سے بڑی سہولت رہی۔ سامعین کی بڑی تعداد میں شرکت سے پروگرام بہت کامیاب رہا۔اور مونس فیضی صاحب کے کلمات تشکر کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
سہیل انجم آئے ہیں بزم ادب میں
زمیں پر اے مونس بچھی کہکشاں ہے
