کرناٹک کے نئے قانون پر سیاسی بے چینی کی کہانی
از: عبدالحلیم منصور
؎ ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
کرناٹک کی سیاست اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ بیلگاوی کے جاری سرمائی اجلاس میں پیش کیا گیا ’کرناٹک ہیٹ اسپیچ اینڈ ہیٹ کرائمز (پریوینشن) بل 2025‘ اس ریاست کو ایک نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے—ایک ایسی سمت جو مذہبی منافرت، سیاسی اشتعال اور معاشرتی انتشار کے مقابل شفاف قانون کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ لیکن جیسے ہی یہ بل پیش ہوا، بی جے پی اور سنگھ پریوار نے جس شدت اور غصے کے ساتھ اس کی مخالفت کی، وہ خود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس قانون سے کس کے مفادات کو خطرہ ہے، کون اس کے نافذ ہونے سے بے چین ہے اور کیوں۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستانی سیاست کا ماحول نفرت، مذہبی تقسیم، زہریلے بیانیوں اور اشتعال انگیزی سے اس قدر آلودہ ہوا کہ امن پسند طبقہ بھی گہری تشویش میں مبتلا ہے۔ کرناٹک اس معاملے میں بدقسمتی سے ایک تجربہ گاہ بن چکا ہے، جہاں کَلڈکا پرابھاکر بھٹ سے لے کر یتنال، سی ٹی روی اور پرتاپ سمہا تک درجنوں چہروں نے نفرت انگیزی کو سیاست کا اوزار بنا کر ریاستی ہم آہنگی کو مسلسل کمزور کیا۔ ایسے میں اگر ایک ریاست اپنی سماجی اور مذہبی فضا کو محفوظ بنانے کیلئے قانون سازی کرتی ہے تو اس پر اعتراض کس بنیاد پر؟
اگر یہ بل واقعی صرف نفرت پھیلانے والوں کو روکنے کے لئے ہے، تو پھر بی جے پی کو اس سے اتنی تکلیف کیوں؟ آخر وہ کیوں چیخ رہی ہے؟ کیا اس لئے کہ نفرت کا کاروبار بیٹھ جائے گا؟ کیا اس لئے کہ مذہبی اشتعال انگیزی کے بغیر ان کی سیاست ادھوری ہے؟ یا اس لئے کہ اگر اشتعال انگیز تقاریر پر واقعی قدغن لگ گئی تو اُن کی انتخابی حکمت عملی ہی زمین بوس ہوجائے گی؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو عوام کے ذہنوں میں اُبھر رہے ہیں — اور بی جے پی کے پاس ان کا کوئی مدلل جواب نہیں۔
بل کے اہم نکات میں نفرت انگیز تقریر، تحریر، ویڈیو یا سوشل میڈیا پوسٹ کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے، اور مذہب، زبان، جنس، قومیت، ذات، لسانی یا جنسی شناخت کی بنیاد پر اشتعال پھیلانے والوں کو ایک سے سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔ بار بار جرم کرنے پر سزا دس سال تک جاسکتی ہے۔ یہ سزا اس لئے رکھی گئی ہے کہ معاشرے میں نفرت کو معمول بنانے کا جو رجحان پیدا کیا گیا ہے، اس کا تدارک محض معمولی دفعات سے ممکن نہیں رہا۔
تاہم اس بل میں ایک پہلو ایسا بھی ہے جس پر بحث ضروری ہے—پولیس کو مکمل اختیارات دینا۔ ہندوستان کا پولیس نظام بدعنوانی، سیاسی دباؤ اور طاقت کے غلط استعمال کے واقعات سے پاک نہیں۔ دہلی پولیس سے لے کر چھتیس گڑھ، آسام اور یوپی تک، ہزاروں واقعات ایسے موجود ہیں جن میں پولیس نے سیاسی حکم پر بے گناہوں کو حراست میں لیا، جعلی مقدمات بنائے، یا سماجی کارکنوں کو برسوں جیل میں ڈال کر انصاف کے نام پر ظلم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ حلقوں نے اس قانون کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ لیکن اس تشویش کے باوجود یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ’’استعمال‘‘ نہیں بلکہ ’’عدم استعمال‘‘ ہے۔ یعنی موجودہ قوانین میں اتنی کمزوریاں ہیں کہ نفرت کے سوداگر پوری آزادی کے ساتھ اشتعال پھیلاتے پھرتے ہیں، اور پولیس اور عدالتیں اکثر مجبور، یا خاموش رہتی ہیں۔
یہ بل اس لئے بھی ضروری ہے کہ پچھلے برسوں میں عدالتوں کا رویہ بھی کبھی کبھی چونکا دینے والا ثابت ہوا۔ جنوبی کرناٹک کی مسجد میں گھس کر ’’جئے شری رام‘‘ کے نعرے لگانے والے ملزمان کو ہائی کورٹ نے صرف چند ہفتوں میں ایف آئی آر سے چھوٹ دے دی، اور دورانِ سماعت جج نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’’ایسا نعرہ لگانے سے بھلا کس کے جذبات مجروح ہوتے ہیں؟‘‘ ایسے مناظر صرف کرناٹک ہی نہیں، پورے ملک میں ایک عام رجحان بن چکے ہیں۔ جب انصاف کے تقاضے اس حد تک دھندلائے جائیں کہ ظلم اور اشتعال کی پہچان مٹ جائے، تو قانون سازی حکومت کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ وہ بی جے پی، جو گلی گلی ’’قانون کی حکمرانی‘‘ کے نعرے لگاتی ہے، وہی بی جے پی جب نفرت سے متعلق قانون سامنے آتا ہے تو اسے ’’اظہارِ آزادی‘‘ پر حملہ قرار دیتی ہے۔ اگر بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈران واقعی نفرت نہیں پھیلاتے، اگر وہ واقعی امن و ترقی کے حامی ہیں، تو پھر انہیں اس قانون سے گھبراہٹ کیوں؟ آخر نفرت کے کاروبار سے انہیں اتنی محبت کیوں ہے؟ ہندوستان کی ترقی، امن، معاشی ترقی، اور سماجی اتحاد کے مخالف کون ہوسکتے ہیں سوائے اُن کے جو اپنی سیاست نفرت کے بدنما ستونوں پر کھڑی کرتے ہیں؟
یہ بل کئی اعتبار سے ملک بھر میں ایک نظیر بن سکتا ہے۔ پہلی بار کسی ریاست نے نفرت انگیزی کو ایک واضح، جامع، اور سخت قانونی تعریف میں لانے کی کوشش کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسے ایک متوازن، غیر سیاسی، اور آئینی دائرے میں نافذ کیا جائے گا یا نہیں۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس قانون کا نشانہ مخالف سیاسی آوازیں نہ بنیں بلکہ وہ عناصر بنیں جو برسوں سے مذہبی اشتعال اور نفرت کے نام پر عوام کو تقسیم کرتے آئے ہیں۔
آخر میں یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ہندوستان کی جمہوریت اس وقت ایک امتحان سے گزر رہی ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی اور سماج میں امن و اخوت— دونوں کی حفاظت ضروری ہے۔ نفرت کی سیاست کو بے لگام چھوڑ دینا ملک کے اجتماعی مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ کرناٹک کا یہ قدم اگر درست سمت میں اٹھایا گیا اور اسے صحت مند قانونی نگرانی کے ساتھ نافذ کیا گیا، تو یہ نہ صرف نفرت کو کمزور کرے گا بلکہ اس جمہوریت کو بھی مضبوط کرے گا جس کی بنیاد محبت، مساوات اور انسانی شرافت پر رکھی گئی تھی۔
؎ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
haleemmansoor@gmail.com

