(حافظ) افتخار احمد قادری
عصرِ حاضر فکری انتشار، تہذیبی اختلاط اور اعتقاد کمزوریوں کا دور ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں مذہب کو محض ایک ذاتی معاملہ بناکر پیش کیا جا رہا ہے اور اجتماعی سطح پر عقائد، عبادات اور شعائرِ مذہب کی حدود کو دانستہ طور پر غیر واضح کیا جا رہا ہے۔ عالمگیریت، سیکولر تہذیب اور نام نہاد بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر ایسی فضا تشکیل دی جا رہی ہے جہاں حق و باطل، ایمان و کفر، توحید و شرک اور اسلامی تشخص و غیر اسلامی شعائر کے درمیان امتیاز کو دقیانوسی قرار دے کر ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی فکری گمراہی درحقیقت اس امت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ کیونکہ جب عقیدے کی سرحدیں مٹتی ہیں تو ایمان کی حفاظت ممکن نہیں رہتی۔ اسی فکری پس منظر میں غیر مسلم مذہبی تہواروں، بالخصوص عیسائیوں کے مذہبی تہوار کرسمس کے تعلق سے مسلمانوں میں پائی جانے والی فکری بے احتیاطی ایک نہایت سنگین مسئلہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ بعض حلقے اسے محض سماجی رواداری، اخلاقی حسنِ سلوک یا تہذیبی کشادگی کا نام دے کر کرسمس کی مبارکبادی، تقریبات میں شرکت اور اس دن خوشی کے اظہار کو جائز بلکہ مستحسن قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں یہ مسئلہ محض اخلاقی یا معاشرتی نہیں بلکہ براہِ راست ایمان اور عقیدے سے جڑا ہوا ہے۔ کرسمس عیسائی مذہب کا خالص مذہبی تہوار ہے جس کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے اس عقیدے پر ہے جس میں انہیں الله کا بیٹا یا الوہیت کا درجہ دیا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اس عقیدے کی نہایت صراحت کے ساتھ تردید فرمائی ہے۔ سورہ اخلاص میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ﴾ یعنی الله نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا۔ اسی طرح سورہ مائدہ میں فرمایا گیا: ﴿لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ﴾ ترجمہ: یقیناً وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ الله ہی مسیح ابنِ مریم ہے۔ قرآنِ مجید نے متعدد مقامات پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الله کا بندہ اور رسول قرار دیا ہے اور ان کی ابنیت اور الوہیت کی قطعی نفی کی ہے۔ ایسے میں کسی مسلمان کا کرسمس جیسے تہوار کو اچھا جاننا، اس کی تعظیم کرنا، اس پر خوشی کا اظہار کرنا یا مبارکبادی پیش کرنا محض ایک سماجی فعل نہیں رہتا بلکہ ایک اعتقادی مسئلہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ یہ عمل براہِ راست ایک باطل مذہبی عقیدے کی تائید اور تحسین کے مترادف ہو جاتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے غیر مسلم اقوام کے مذہبی امتیازات اختیار کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ سنن ابی داؤد میں حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ» (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب فی لبس الشہرة، حدیث: 4031) یعنی جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا۔ آئمہ و فقہاء نے اس حدیث کی شرح میں واضح فرمایا ہے کہ کفار کے مخصوص مذہبی شعائر، تہوار اور عبادات میں مشابہت اختیار کرنا ایمان کے لیے نہایت خطرناک ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رحمہ الله نے اس مسئلہ پر نہایت واضح دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف اختیار فرمایا ہے۔ آپ اپنی مشہور کتاب غمز العیون البصائر میں تحریر فرماتے ہیں: ”جس شخص نے کفار کے کسی فعل کو اچھا جانا اور اس کی تحسین کی وہ مشائخ کے اجماع سے کافر ہو گیا“۔ (غمز العیون البصائر:127) فتاویٰ رضویہ میں متعدد مقامات پر یہ اصول تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ کفار کے مذہبی تہواروں کو اچھا جاننا یا ان کی تعظیم کرنا اسلام سے خروج کے مترادف ہے۔ فتاویٰ رضویہ جلد 14، صفحہ 601 پر آپ فرماتے ہیں کہ کفار کے تہوار پر خوشی کا اظہار کرنا ان کے کفر پر راضی ہونے کے مترادف ہے اور کفر پر رضا بھی کفر ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر کوئی شخص دل میں اس تہوار کو برا جانتے ہوئے محض دنیاوی مصلحت، معاشرتی دباؤ، ملازمت کے خوف یا ذاتی فائدے کی خاطر ایسی مجالس میں شریک ہوتا ہے یا مبارکبادی پیش کرتا ہے تو اگرچہ اس پر کفر کا قطعی حکم نہیں لگایا جاتا مگر فقہاء کے نزدیک وہ شدید گناہ، لعنت اور عذابِ الٰہی کا مستحق ضرور ہوتا ہے۔ شریعت ظاہر پر حکم لگاتی ہے۔ نیتوں کا حال الله تعالیٰ بہتر جانتا ہے لیکن ظاہری افعال کے خطرناک شرعی نتائج سے انکار ممکن نہیں۔ اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک، عدل اور انسانی احترام کی تعلیم ضرور دی ہے جیسا کہ سورہ ممتحنہ میں ارشاد ہے کہ الله تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کرتے۔ مگر اسی کے ساتھ اسلام نے عقیدے کے باب میں کسی قسم کی مداہنت یا مصلحت پسندی کی اجازت نہیں دی۔ غیر مسلم کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ایک چیز ہے اور اس کے مذہبی شعائر کی تعظیم یا تائید بالکل دوسری چیز۔ ان دونوں کے درمیان فرق نہ کرنا دینی بصیرت کے فقدان اور علمی بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔ آج مسلمان وقتی شہرت، سماجی قبولیت اور میڈیا کی واہ واہی کے بجائے اپنے ایمان کی حفاظت کو مقدم رکھیں۔ علما اور اہلِ قلم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نازک مسئلہ کو حکمت، دل سوزی اور علمی دیانت کے ساتھ امت کے سامنے رکھیں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ جذبات، ماحول اور دباؤ کے تحت اپنے دینی تشخص کا سودا نہ کریں۔ تاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں نے اپنے عقیدے پر سمجھوتہ کیا وہ آخرکار تہذیبی و دینی طور پر مٹ گئیں۔ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ کرسمس یا کسی بھی غیر مسلم مذہبی تہوار کی مبارکبادی یا اس کی مجالس میں شرکت اگر تعظیم اور استحسان کے ساتھ ہو تو ایمان کے لیے نہایت تباہ کن ہے اور اگر محض دنیاوی مصلحت سے ہو تب بھی شدید گناہ اور سنگین شرعی جرم ہے۔ مسلمان کی شان یہی ہے کہ وہ عقیدے میں واضح، عمل میں محتاط اور ایمان کی حفاظت میں بے حد حساس ہو۔ یہی اسلاف کا راستہ ہے، یہی فقہِ اسلامی کا موقف ہے اور یہی شریعتِ مطہرہ کا اٹل تقاضا۔
اس مضمون کا وہ نہایت حساس اور دردناک پہلو سامنے آتا ہے جس پر عموماً خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں اور وہ ہے مسلم بچوں کی عیسائی اسکولوں میں کرسمس کی تقریبات میں شرکت۔ یہ محض ایک تعلیمی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست والدین کے ایمان، دینی غیرت اور آخرت کی جواب دہی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلمان والدین اپنے بچوں کے مستقبل، دنیاوی کامیابی اور انگریزی تعلیم کے نام پر انہیں ایسے اداروں کے حوالے کر دیتے ہیں جہاں اسلامی شعور، دینی شناخت اور ایمانی حساسیت کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہوتی۔ پھر یہی بچے کرسمس کے موقع پر سانتا کلاز کے لباس پہنتے ہیں، کرسمس ٹری سجاتے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے گیت گاتے ہیں، اسٹیج پر ڈرامے کرتے ہیں اور میری کرسمس کے نعرے لگاتے ہیں اور والدین فخر کے ساتھ ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر ڈال کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب محض معصومانہ سرگرمیاں ہیں؟ یا درحقیقت یہ ان کے دل و دماغ میں ایک باطل عقیدے کو معمول بنا کر راسخ کرنے کی خطرناک کوشش ہے؟
بچہ چونکہ شرعی مکلف نہیں ہوتا اس لیے گناہ کا بوجھ اس کے ناتواں کندھوں پر نہیں ڈالا جاتا لیکن یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ بچے کا عقیدہ، اس کا ذہنی سانچہ اور اس کی دینی سمت والدین کی تربیت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ شریعت نے والدین کو محض نان و نفقہ فراہم کرنے والا نہیں بلکہ عقیدہ و کردار کا نگہبان بنایا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» یعنی تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ کل قیامت کے دن والدین سے یہ سوال کیا جائے کہ تم نے اپنے بچے کو کس ماحول میں پروان چڑھایا؟ تم نے اس کے سامنے کن تہواروں کو خوشی اور فخر کے ساتھ منانے کی اجازت دی؟ تم نے اس کے دل میں اسلام کی عظمت بٹھائی یا غیر اسلامی شعائر کو کلچر کے نام پر قابلِ قبول بنا دیا؟ یہ کہنا کہ بچہ تو کچھ نہیں سمجھتا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بچپن کے مشاہدات ہی انسان کے شعوری اور لاشعوری رویوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ جو بچہ بچپن میں کرسمس کو خوشی، تحفے اور جشن کے ساتھ دیکھتا ہے اس کے دل میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ تمام مذاہب ایک جیسے ہیں اور سب کے تہوار قابلِ احترام ہیں۔ یہی وہ فکری زہر ہے جو بعد میں توحید و رسالت کی غیرت کو آہستہ آہستہ بے حس کر دیتا ہے۔ آج اگر بچہ کرسمس میں شریک ہو رہا ہے تو کل وہ عیدین کی امتیازی حیثیت کو بھی سوالیہ نشان بنانے لگے گا۔ یہاں والدین کا عذر کہ اسکول کی مجبوری ہے یا شرکت نہ کرنے سے بچے پر دباؤ پڑتا ہے شریعت کے سامنے کوئی وزن نہیں رکھتا۔ کیا دین کے معاملے میں مجبوریوں کا سہارا لیا جا سکتا ہے؟ کیا ایمان کی حفاظت سے زیادہ کوئی مجبوری ہو سکتی ہے؟ اگر کوئی ادارہ واضح طور پر غیر اسلامی شعائر میں شرکت کو لازم قرار دیتا ہے تو ایسے ادارے کا انتخاب ہی از سرِ نو غور کا متقاضی ہے۔ کم از کم اتنا تو ممکن ہے کہ والدین انتظامیہ سے بات کریں، تحریری طور پر عدمِ شرکت کی اجازت لیں یا بچے کو ان تقریبات سے دور رکھیں۔ لیکن جب والدین خود خاموش تماشائی بن جائیں بلکہ بعض اوقات شریکِ کار بن جائیں تو پھر یہ صرف کوتاہی نہیں بلکہ دینی خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔ یاد رکھیں کہ اگر بچہ کسی غیر اسلامی فعل میں شرکت کرے اور اس کی بنیاد والدین کی اجازت، رضامندی یا غفلت ہو تو فقہاء کے نزدیک اس گناہ کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ وہی اس کے نگران، مربی اور فیصلے کرنے والے ہیں۔ شریعت نے یہ اصول واضح کر دیا ہے کہ جو شخص کسی گناہ کے اسباب فراہم کرے وہ بھی گناہ میں شریک ہوتا ہے۔ پس جب والدین خود اپنے بچے کو کرسمس کی مجلس میں بھیج رہے ہوں تو وہ کس طرح اس ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟ مسلمان والدین کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو کس سمت لے جا رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم انہیں دنیا میں کامیاب اور آخرت میں ناکام بنانے کی تیاری کر رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری غفلت آنے والی نسلوں کے ایمان کو کھوکھلا کر رہی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ امتیں تلوار سے نہیں بلکہ تربیت کی غلطیوں سے مٹتی ہیں۔ ضروری ہے کہ مسلمان اپنے گھروں، اپنے تعلیمی انتخاب اور اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ کرسمس ہو یا کوئی اور غیر مسلم مذہبی تہوار اس میں شرکت سے اپنے بچوں کو بچانا محض ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ نسلوں کے ایمان کی حفاظت کا سوال ہے۔ اگر ہم نے آج یہ ذمہ داری ادا نہ کی تو کل ہمارے پاس سوائے ندامت کے کچھ نہیں بچے گا۔ مسلمان کی پہچان اس کی نماز، اس کا عقیدہ اور اس کی غیرتِ ایمانی ہے۔ اگر یہ سب بچوں کے دل سے نکل گیا تو بڑے بڑے تعلیمی سرٹیفکیٹ بھی ہمیں الله کے حضور سرخرو نہیں کر سکتے۔ یہی وہ کڑا مگر سچا پیغام ہے جسے سمجھنا اور ماننا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
Post Views: 288
