ظہیرآباد/کوہیر 25 دسمبر(مشرقی آوازجدید): کوہیر منڈل کے موضع سجا پور میں دلت فرد کی جانب سے زیر تعمیر مکان کی دیواروں کو گرام پنچایت کی جانب سے غیر قانونی سرکاری اراضی پر مکان کی تعمیر کرنے پر گرام پنچایت سکریٹری کی جانب سے متعلقہ مکان کے زیر تعمیر کام کو روک دینے کی ہدایت دیتے ہوئے مکان تعمیر کرنے والے دلت شخص کو نوٹس جاری کی گئی تھی جس پر مکان کے تعمیری کام کو جاری رکھنے پر گرام پنچایت میں اس غیر قانونی مکان کی تعمیر پر متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے اس زیر تعمیر مکان کی دیواروں کو منہدم کردیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد موضع میں یہ معاملہ سیاسی رنگ میں تبدیل ہوگیا، برسر اقتدار جماعت کے نومنتخبہ سرپنچ کے فرزند کانگریس پارٹی قائد و صنعتکار کے پرساد ریڈی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زیر تعمیر مکان موضع میں واقع پلے پرکروتی ونم کے لیے مختص کردہ اراضی کے راستے پر غیر قانونی طور پر مکان تعمیر کیا جارہا تھا جس کو گرام پنچایت کی جانب سے نوٹس جاری کرتے ہوئے غیر قانونی مکان کی تعمیر کو روکنے کی ہدایت دی گئی تھی جس پر زیر تعمیر مکان کے کاموں کو نہ روکنے پر زیر تعمیر مکان کی دیواروں کے انہدام کو انہوں نے جائز اور موضع کی ترقی و مفاد میں فیصلہ قرار دیا تو وہیں حزب اختلاف کی سیاسی جماعت نے موضع میں دلت فرد کے زیر تعمیر مکان کے انہدام کو دلت طبقہ پر حملے سے تعبیر کرنٕے پر موضع سجاپور میں سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ اس دوران آج تلنگانہ ایس سی ایس ٹی کمیشن چیئرمین بی وینکٹیا نے موضع سجاپور کا دورہ کرتے ہوئے متاثرہ دلت فرد سے ملاقات کی اور منہدمہ مکان کا معائنہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موضع میں دلت فرد کے زیر تعمیر مکان کے انہدام کو انہوں نے دلت طبقہ پر حملہ قرار دیا اور انہوں نے کہا کہ انہیں محکمہ پولیس کی جانب سے اطلاع ملی ہے کہ دلت شخص کے زیر تعمیر مکان کے انہدام میں ملوث ہونے والے چھ افراد پر کیس درج ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ دلت خاندان کو انصاف ملنے تک وہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر وہ ضروری ہوا تو رکن اسمبلی ظہیرآباد، رکن پارلیمنٹ ظہیرآباد بالخصوص چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی سے بھی ملاقات کریں گے۔

اس موقع پر موضع میں محکمہ ریونیو محکمہ پولیس کے حکام کے علاوہ برسراقتدار اور حزب اختلاف جماعتوں سے وابستہ پارٹی قائدین کے بشمول مقامی عوام کی کثیر تعداد موجود تھی.۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے