مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
آزادیِ نسواں اور حقوقِ انثیٰ کے نام پر پوری دنیا میں جو تماشے ہو رہے ہیں ، اور جس طرح عورتوں کو بازار کی زینت بنا دیا گیا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں، صنفِ نازک کی عریاں تصویر کے بغیر ماچس کی ڈبیہ تک مارکیٹ میں نہیں آتی ، کھلے عام بے محابا آزادی کے نام پر جسم کی نمائش ، کلبوں میں رقص وسرور کی فن کاری اور اداکاری یہ سب عورتوں کو سرِ بازار رسوا کرنے اور ان کی آبروریزی تک آسانی سے پہونچنے کے لیے مغرب نے ہتھکنڈوں کے طور پر شروع کیا تھا ، مشرق نے اس کی نقالی کی اور یہاں بھی عورتوں کو نچانا فیشن ہو گیا، فن کے نام پر ، ثقافت و تہذیب کے حوالہ سے انہیں ننگا کر دیا گیا اور اب تو یہ صورت حال ہے کہ عورتیں "کاسیات عاریات”، ملبوس ہو کر بھی ننگی نظر آتی ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ اس سے ان کا حسن دوبالا ہو رہا ہے، ان کی پذیرائی ہو رہی ہے، اور ان کے جلوے دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہے ہیں، ابھی حال ہی میں پاکستان کی بعض عورتوں کا یہ نعرہ اخبارات کی زینت بنا تھا کہ "میرا جسم میری مرضی” یعنی وہ جس طرح چاہیں گی، اپنے جسم کی نمائش کریں گی اور جس کے ساتھ رات گزارنے کی مرضی ہوگی اپنا جسم پروس دیں گی ، مذہب ، اخلاق ، کریکٹر وکردار، سماجی بندھن اور تہذیبی روایات سب کا جنازہ اس جملے نے نکال دیا، لوگ تالیاں پیٹ رہے ہیں کہ عیاشی ، فحاشی ، بدکاری، زناکاری کی راہ آسان ہو گئی ہے، اور عورتیں خوش ہیں کہ ہم آزاد ہیں، ہمارے جسم و جان پر کسی کی حکومت نہیں ہے۔
ہندوستان نے جو کچھ مغربی ممالک سے برآمد کیا ، اس نے رشتوں میں توڑ کو بڑھاوا دیا، پہلے یہ حکم آیا تھا کہ اٹھارہ سال کی عمر سے قبل شوہر کا جنسی تعلق قائم کرنا زنا بالجبر کے زمرے میں آئے گا اور عورتوں کو ہراساں کرنے ، تشدد برتنے اور ریپ ( عصمت دری ) کی جو سزا ہے وہ انہیں دی جائے گی ، اٹھارہ سال کے بعد بھی اگر کسی نے بیوی کی مرضی کے بغیر جنسی تعلق قائم کیا تو وہ بھی عصمت دری شمار ہوگا ، اور بیوی چاہے تو اسے جیل کی ہوا کھلا سکے گی ، عدالت عظمیٰ ( سپریم کورٹ) نے عورتوں کے حقوق کے حوالہ سے جو بات کہی ہے وہ فاضل جج صاحبان کے نزدیک حقوقِ نسواں کے تحفظ کی ایک صورت ہے، لیکن اس سے خاندان ٹوٹ کر رہ جائے گا ، اور عورتوں کے نام نہاد حقوق کے نام پر شوہر کی حق تلفی ہوگی ، اس کی طرف معزز جج صاحبان کا ذہن نہیں گیا ، عدالت کا خیال ہے کہ بیوی کوئی منقولہ جائیداد نہیں ہے کہ شوہر ساتھ ساتھ لے کر گھومتا اور چلتا رہے، اگر بیوی اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہے تو شوہر اپنی خواہش کے باوجود بیوی پر دباؤ نہیں بنا سکتا کہ وہ اس کے ساتھ رہے ہی، یہ بات عدالت نے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہی ، سماعت کے دوران جسٹس مدن لویوکور اور دیپک گپتا کی مشترکہ بینچ نے شوہر پر واضح کر دیا کہ اگر آپ کی بیوی آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے تو آپ اس کے ساتھ کیسے رہیں گے ، اس لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ ساتھ رہنے کی اپنی خواہش پر نظر ثانی کرے۔
میاں بیوی کے تعلقات کی اساس و بنیاد آپسی محبت ہے، اس محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں، خوشی و غمی میں ایک دوسرے کے رفیق بن کر رہیں ، ایک دوسرے سے مشکلات اور پریشانیاں بیان کرنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے، دونوں مل کر بچے کی تربیت کرتے ہیں ، مرد باہر کا نگراں ہوتا ہے اور عورت گھر کے داخلی اور اندرونی نظام کو دیکھتی ہے، روزی روٹی اور نان و نفقہ شریعت نے شوہر کے ذمہ کیا تا کہ عورتیں اس بکھیڑے سے آزاد رہیں، اور اپنی پوری توجہ گھریلو نظام کی درستگی اور بچوں کی پرورش و پرداخت پر مرکوز رکھیں، شریعت اسلامی میں اس رشتہ کی قربت کے لیے ایسی تعبیر اللہ رب العزت نے اختیار کی کہ اس سے زیادہ قربت کا کوئی تصور نہیں ہو سکتا، قرآن کریم میں اللہ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ، لباس جسم سے چمٹا ہوتا ہے، سردی گرمی سے بچاتا ہے، جسمانی عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے اسی طرح زن و شو اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی کمی کوتاہی پر پردہ ڈالنے کا کام کرتے ہیں ۔
عدالت کے اس حکم سے جسم و جان کی وہ قربت باقی نہیں رہ سکے گی، تو محبت کا جنازہ نکل جائے گا، ایک دوسرے سے یہ دوری مرضی اور ملازمت وغیرہ کے تقاضوں کی بناپر ہو تو گاڑی چلتی رہتی ہے، لیکن اگر کسی دن بیوی نے عدالت کے اس جملے ہی کو دہرا دیا کہ میں منقولہ جائیداد نہیں ہوں، میں آپ کی مرضی کے مطابق آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی ، تو سوچیے خاندان کا کیسا تیاپانچہ ہو جائے گا ، اور مرد کے لیے اس کے علاوہ کیا چارہ کار رہ جائے گا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر الگ کر دے، اگر سارا نظام خود ہی دیکھنا ہوگا ، اندر بھی اور باہر بھی، تو ہمیشہ کی جدائی کیوں نہ اختیار کر لی جائے ، تاکہ نکاح ثانی کر کے نئی زندگی شروع کی جاسکے۔
