علم، عمل، دعوت اور تصنیف کا حسین امتزاج۔

حافظ صفی الرحمن فرقانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ رب العزت کا یہ مستقل طریقہ رہا ہے کہ وہ ہر دور میں امتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لیے ایسے رجالِ حق پیدا فرماتا رہاہے جو نہ صرف کتابوں کے عالم ہوتے ہیں بلکہ اپنی زندگی کو بھی کتابِ الٰہی اور سنتِ رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھال لیتے ہیں۔ یہی وہ حضرات ہوتے ہیں جو علم کو محض معلومات نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری سمجھ کر آگے منتقل کرتے ہیں۔ انہی خوش نصیب اور مخلص اہلِ علم میں ایک درخشاں اور معتبر نام مولانا ذاکر عباس مدنی حفظہ اللہ کا ہے۔

موصوف کی ولادت ایک دیہی مگر دینی ماحول میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز مکتب سے کیا۔ پھر مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ممبئی، دہلی، بنارس اور بالآخر مدینہ منورہ جیسے عظیم علمی مراکز تک انکا پہنچنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ ان کے دل میں علمِ دین کی سچی پیاس اور خدمتِ دین کا پختہ عزم موجود تھا۔

یہ وہی راستہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

> مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ،،

(جو علم کے حصول کے لیے راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے — مسلم)

جامعہ سلفیہ بنارس اور پھر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے تعلیم حاصل کرنا محض ایک تعلیمی کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری و منہجی پختگی کی علامت ہے، جس کے اثرات ان کی پوری علمی زندگی میں نمایاں نظر آتے ہیں۔

تدریس: علم کی زکوٰۃ کی ادائیگی۔

حصولِ علم کے بعد موصوف نے مختلف اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ مالیگاؤں، کشن گنج، ڈومریاگنج اور دریاآباد جیسے مختلف مقامات پر تدریس کے فرائض انجام دینا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے علم کو اپنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے امانت سمجھ کر آگے منتقل کیا۔

واقعی، یہی وہ عمل ہے جسے حدیث میں علم کی زکوٰۃ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

ان کی تدریس صرف کتابی نہیں بلکہ تربیتی اور فکری بھی رہی، جس کا اثر ان کے شاگردوں کے اخلاق اور منہج میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔

ب*تصنیف و تحقیق: امت کی فکری خدمت

مولانا ذاکر عباس مدنی حفظہ اللہ کی تصنیفی خدمات اس بات کی شاہد ہیں کہ وہ صرف مبلغ یا مدرس نہیں بلکہ محقق مزاج عالم ہیں۔

جرح و تعدیل، اسبابِ نزول، موطأ امام مالک پر تعلیقات، فقہی مسائل، سیرتِ نبوی ﷺ کی تحقیق، بچوں کے لیے عربی نصاب اور غیر مسلموں کے اعتراضات کے جوابات—یہ سب موضوعات اس بات کی دلیل ہیں کہ موصوف نے امت کی علمی، تعلیمی اور دعوتی ضروریات کو سامنے رکھ کر قلم اٹھایا۔

خاص طور پر حدیث اور تفسیر جیسے نازک اور دقیق فنون میں ان کی کاوشیں قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہیں۔ یہ وہ خدمات ہیں جو وقتی شہرت سے نہیں بلکہ طویل المدت افادیت سے پہچانی جاتی ہیں۔

ج*صحافت اور فکری بیداری:

زمانۂ طالب علمی ہی سے موصوف کا قلم سے گہرا تعلق رہا ہے۔ مختلف عربی و اردو مجلات کی ادارت اور ان میں مسلسل علمی و تحقیقی مضامین اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے قلم کو بھی دعوت کا مؤثر ذریعہ بنایا۔

یہی وہ اسلوب ہے جسے اسلاف نے اختیار کیا اور جس کے ذریعے علم نسل در نسل منتقل ہوتا رہا

سادگی، انکساری اور استقامت

اتنی متنوع اور وسیع خدمات کے باوجود موصوف کی شخصیت میں سادگی، تواضع اور خاموش محنت نمایاں نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی وہ اپنے ہم سبق ساتھیوں اور اہلِ علم کے درمیان عزت و محبت سے یاد کیے جاتے ہیں۔

بلاشبہ اصل عظمت شہرت میں نہیں بلکہ اخلاص اور استقامت میں ہوتی ہے۔

ج*دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور دعائیں.

ہم تمام اہلِ علم، طلبہ اور وابستگانِ دین کی جانب سے مولانا ذاکر عباس مدنی حفظہ اللہ کو ان کی گراں قدر علمی، تدریسی، دعوتی اور تصنیفی خدمات پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں دعاگو ہیں کہ:

> 🤲 اَللّٰهُمَّ احْفَظْهُ بِحِفْظِكَ، وَبَارِكْ لَهُ فِي عِلْمِهِ وَعَمَلِهِ، وَاجْعَلْهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ، مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ، وَانْفَعْ بِهِ الْأُمَّةَ أَجْمَعِينَ.

اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرما، انہیں خیر کا دروازہ اور شر کے لیے بندش بنا دے، اور پوری امت کو ان کے ذریعے نفع پہنچا۔

> 🤲 اَللّٰهُمَّ أَطِلْ عُمُرَهُ عَلَى طَاعَتِكَ، وَارْزُقْهُ صِحَّةً وَعَافِيَةً، وَاجْعَلْ ذُرِّيَّتَهُ قُرَّةَ عَيْنٍ لَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.

اے اللہ! ان کی عمر کو اپنی اطاعت میں دراز فرما، صحت و عافیت عطا کر، اور ان کی اولاد کو دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک بنا۔

اللہ تعالیٰ موصوف کو مزید تصنیفی و تحقیقی کاموں کی توفیق عطا فرما، ان کے قلم کو امت کے لیے نافع بنائے، اور ان کی ہر کوشش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے