????????????????????????????????????

فوٹو کیپشنس: بائیں جانب سے محترم پرواز رحمانی صاحب،مولانا فاروق خان صاحب،جناب سید حامد محسن صاحب،جناب اے یو آصف صاحب اور جناب خورشید عالم صاحب۔

سید حامد محسن

چئیرمین سلام سنٹر ،بنگلور
سہ روزہ ’’دعوت‘‘، نئی دہلی کے چیف ایڈیٹر، جناب پرواز رحمانی صاحب  ؒاب ہمارے درمیان نہیں رہے۔
اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُون۔
        محترم پرواز رحمانی صاحب ؒبلاشبہ جتنے ذہین، سنجیدہ اور باوقار صحافی تھے، اتنے ہی شفیق، بااخلاق اور بلند کردار انسان بھی تھے۔ پرواز رحمانی صاحبؒ اپنے قلم کے استعمال کا شعور رکھتے تھے۔ ان کی نگاہ میں زندگی کا ایک واضح مقصد تھا:اللہ کی بندگی، اس کی زمین پر امن و آشتی کا قیام، صالح طرزِ زندگی کا فروغ، اور انسانوں کے درمیان اخوت، خیر خواہی اور صلہ رحمی کو عام کرنا۔اسی مقصد کے تحت وہ خبروں کا انتخاب کرتے، اپنے تجزیے کے ذریعے شر کی نشاندہی کرتے اور خیر کی طرف رہنمائی فراہم کرتے تھے۔ ان کے نزدیک صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس مشن کی حیثیت رکھتی تھی۔
سہ روزہ’’ دعوت ‘‘سے میرا تعلق ہمیشہ جذباتی بھی رہا ہے، شعوری بھی اور ایک مستقل قاری کی حیثیت سے بھی۔ میں نے بچپن ہی سے اسے پڑھنا شروع کردیا تھا۔ میرے بے باک اور صاف گو اندازِ گفتگو کی تشکیل میں پرواز رحمانی صاحب ؒکے کالم’’خبر و نظر‘‘ کا نمایاں کردار رہا ہے۔ الحمدللہ!
       محترم پرواز رحما نی صاحبؒ ہمارے سلام سنٹر کے دعوت الی اللہ کے کاموں کو دل و جان سے پسند کرتے تھےاور دعوتی کام کرنے والوں کوقدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اور وہ چاہتے تھے کہ امت مسلمہ میں دعوت دین کا شعور بیدار ہو اور سلام سنٹر کے دعوتی طریقہ کار سے Inspiration  حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہم سب کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ میں محترم پرواز رحمانی صاحب سے ملاقات کے لیے مرکز جماعت اسلامی ہند، نئی دہلی پہنچا۔ وہیں ایک گوشے میں سہ روزہ دعوت کا دفتر قائم تھا۔ اس وقت میرے ذہن میں یہ تصور تھا کہ ’’دعوت جیسے مشہور و معروف اخبار کے چیف ایڈیٹر پرواز رحمانی صاحب سے ملنے جا رہا ہوں؛ وہ قیمتی سوٹ بوٹ میں ملبوس ہوں گے، ان کا ایک شاندار دفتر ہوگا، معاونین موجود ہوں گے اور شاید ملاقات کے لیے وقت بھی لینا پڑے گا۔‘‘
انہی خیالات کے ساتھ جب میں ان کے دفتر پہنچا تو جو منظر سامنے آیا، اس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔
 میں نے دیکھا کہ آپ ایک نہایت سادہ سی شیروانی میں ملبوس ہیں اور سادگی و انکساری کا جیتا جاگتا نمونہ نظر آتے ہیں۔
      ان کے اندازِ گفتگو نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے عرض کیا کہ میری دلی خواہش ہے کہ میری لکھی ہوئی سیرتِ رسول ﷺ پر کتاب’’فالومی‘‘ کا ہندی ترجمہ، کلامِ نبوت کے مصنف اور قرآنِ مجید کے ممتاز ہندی مترجم، حضرت مولانا فاروق خان صاحبؒ کے ہاتھوں انجام پائے۔
یہ بات سنتے ہی پرواز رحمانی صاحب نہایت خوش ہوئے اور فرمایا: ’’کیوں نہیں!‘‘
  اپنی مصروفیات کو ایک طرف رکھ کر خود میرے ساتھ آنے کے لیے آمادہ ہو گئے۔
پھر وہ خود مجھے مولانا فاروق خان صاحبؒ کے پاس لے گئے۔راستے میں میرے ذہن میں یہ تصور ابھر رہا تھا کہ میں ایک ایسے عظیم اسلامی اسکالر اور جلیل القدر عالمِ دین سے ملنے جا رہا ہوں جنہوں نے بیش قیمت اور معیاری کتابیں تصنیف کی ہیں، لہٰذا یقیناً وہ ایک خوشحال اور معیاری زندگی بسر کر رہے ہوں گےایکPosh Locality کے کسی شاندار بنگلے میں رہتے ہوں گے اور ملاقات بھی نہایت پر وقار ماحول میں ہوگی۔ میں ذہنی طور پر باوقار انداز میں گفتگو کے لیے الفاظ ترتیب دے رہا تھا اور خود سے یہ بھی سوال کر رہا تھا کہ اتنے بڑے عالمِ دین سے ملاقات کے وقت میرا حلیہ کیسا ہونا چاہیے؟
اسی دوران ہم چتلی قبر پہنچے تو محترم پرواز رحمانی صاحب ؒنے جماعت اسلامی ہند کے ایک قدیم دفتر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ کبھی یہی تحریکِ اسلامی ہند کا ہیڈکوارٹر ہوا کرتا تھا، اور نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر سے بڑے بڑے علماء اور دانشور یہاں آیا کرتے تھے۔ یہ سن کر میں حیرت میں ڈوب گیا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ ہمارے اکابر اور قائدین نے تحریکِ اسلامی کو آگے بڑھانے کے لیے کس قدر عظیم قربانیاں دی ہیں۔
اس کے بعد ہم تنگ گلیوں سے گزرہے تھے تو میں نے پرواز رحمانی صاحبؒ سے پوچھا آپ مجھے یہ کہاں لے جارہے ہیں۔اس پر انہوں نے جواب دیا کہ محسن صاحب آپ اطمینان رکھیں ہم مولا نا سے ہی ملنے جارہے ہیں۔
اس کے بعدہم جوں توں کرکےمولاناکے گھر پہنچے۔
جوں ہی میں مولانا  محترم کے گھر داخل ہوا تو مولانا نے بلند آواز میں کہا خوش آمدید خادم قرآن خوش آمدید۔
      گھر کا منظر میرے تمام تصورات کے بالکل برعکس تھا۔ ایک چھوٹا سا کمرہ، ایک جانب کتابوں کی ڈھیر، دوسری جانب ایک سادہ سا پلنگ،ایک الماری، دیواروں پر دو تین شیروانیاں لٹکی ہوئی، ایک اسٹوو جس پر چاول ابل رہے تھے، اور ایک
خستہ حال کرسی۔جیسے ہی میں اس کرسی پر بیٹھنے لگا تو مولانا فاروق خان صاحب ؒنے فوراً فرمایا:’’وہاں نہیں، آپ میرے پاس، میرے برابر بیٹھیں۔‘‘اس کے بعد محترم پرواز رحمانی صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ ہمیں ہائی کورٹ میںتقسیم قرآن کے بارے میں بتائے۔اس پر میں نےپروگرام کی تفصیلات سنائی جس کو سن کر دونوں صاحبان بہت خوش ہوئے اور   مبارکبا پیش کیا۔
اس کے بعد میں نےدونوں بزرگوں کوپرگتی میدان نئی دلی میںمنعقدورلڈ بک فئیر میں واقع سلام سنٹر کے ’’قرآن پویلین‘‘ تشریف لانے کی دعوت دی، جسے دونوں بزرگوں نے فوراً خوش دلی کے ساتھ قبول فرما لیا۔
ان دونوں بزرگوں نے اپنی سادگی سے مجھے بیحد متاثر کیا ،چنانچہ اس ملاقات کے بعد میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ یہ کتنی بڑی حقیقت ہے کہ دین کے کاموں میں ہمہ وقت مشغول رہنے والی ایسی عظیم شخصیات، جنہیں بے شمار نامور ہستیاں جانتی ہیں، اپنی ذاتی زندگی میں اس قدر سادہ اور بے تکلف ہیں۔ ان کی سادگی اور طرزِ زندگی نے مجھ پر ایسا گہرا اثر ڈالاکہ اسی لمحے میں نے اپنے فائیو اسٹار ہوٹل کے کمرے سے چیک آؤٹ کر لیا،جو بارہ دنوں کے لئے بک کرالیا تھا۔ جس کا یومیہ کرایہ پندرہ ہزار روپے تھا، اور پرواز رحمانی صاحب ؒسے درخواست کی کہ اسی علاقے میں کسی سادہ ہوٹل میں میرے قیام کا انتظام کروا دیں۔
محترم پرواز رحمانی صاحبؒ مجھے وہیں کریم ہوٹل کے روبرو واقع ہوٹل بمبئی اورینٹ لے گئے، جہاں ایک دن کا کرایہ محض دو ہزار روپے تھا۔ جیسے ہی ہم ہوٹل میں داخل ہوئے، وہاں کا پورا عملہ احتراماً کھڑا ہو گیا اور نہایت محبت اور عقیدت کے ساتھ محترم پرواز رحمانی صاحب کا استقبال کرنے لگا۔ یہ منظر بھی ان کی شخصیت کے وقار اور لوگوں کے دلوں میں ان کی قدر و منزلت کا مظہر تھا۔
اگلے ہی دن، طے شدہ وقت کے مطابق صبح دس بجے، مولانا فاروق خان صاحب اورجناب پرواز رحمانی صاحبؒ  پرگتی میدان نئی دلی میںورلڈ بک فئیرکے ہمارے قرآن پویلین میں تشریف لائے۔اس موقع پر مشہور ومعروف سینئیر جرنلسٹ جناب  اے۔ یو آصف صاحب  اور جناب خورشید عالم صاحب بھی موجود تھے۔
       یہاں پر ایک بات یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ اس دن اجرا کی تقریب صبح دس بجے منعقد ہونی تھی،جو تقریباً تین گھنٹے کی تاخیر سے، دوپہر ایک بجے عمل میں آئی ،تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ قرآن حاصل کرنے والے غیر مسلموں کا ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ ہم بھول ہی گئے کہ فالومی کتاب کا اجرا کرنا ہے۔اجرا کئے بغیر ہی  دونوں بزرگوں نے غیر مسلموں میںتراجم قرآن  کے ساتھ
سیرت رسولﷺ پر بزبان لکھی گئی کتاب’’فالومی‘‘کا ہندی ترجمہ’’ محمدﷺ سے وفا‘‘ بھی تقسیم کرنے میں مصروف ہوگئے۔
اس موقع پر جناب پرواز رحمانی صاحب ؒ نے کہا کہ ’’سب سے بڑی غلط فہمی غیر مسلموں میںاور بیشترمسلمانوں میںپائی جاتی ہے کہ  حضرت محمد ﷺ صرف مسلمانوں کے پیغمبر ہیں، بلکہ آپﷺ تمام انسانوں کے لئے پیغمبر ہیں۔
  اور قرآن خود اس کی گواہی دیتا ہے کہ محمدﷺرحمت للعالمین ہیں۔‘‘
 قرآن پویلین سے واپس لوٹتے ہوئے دونوں بزرگوں نے دعائیں دیں اور اپنے جذبات کا اظہار بھی فرمایا،
’’سلام سنٹر کے قرآن پویلین میں آ کر اندازہ ہوا کہ عام انسان کس قدر حق کا متلاشی ہے، اور یہاں آ کر جو ہم نے اپنا فرضِ منصبی ادا کیا ہے، یہ ہمارے لیے باعثِ شرف ہے۔اگر ہم جناب حامد محسن کاتعاون نہیں کریں گے تواور کون کرےگا؟ ‘‘
اس موقع پر میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے کچھ نصیحتیں فرمائیں۔ اس پر انہوں نے نہایت محبت اور انکساری کے ساتھ فرمایا:
’’محسن صاحب! آپ کو نصیحت کرنے کی کیا ضرورت ہے، بلکہ ہمیں خود آپ سے دعوت دین  کے لئے فکر اورتڑپ کا جذبہ سیکھنا چاہیے۔‘‘
      محترم پرواز رحمانی صاحب ؒنےسہ روزہ دعوت کو ایک معتبر اخباربنا دیا جو ملک کے بڑے بڑے مدارس اور اسلامی تنظیموں اور ملی اداروںکی لائبریریوں تک پہنچتا ہے اور جس کا مطالعہ ممتاز علما اور دانشوران کرتے ہیں۔
میں پورے یقین اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ یہ اعتراف کرتا ہوں کہ سلام سنٹر کے کاموں کا تعارف نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرونِ ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر کرانے میں محترم پرواز رحمانی صاحب کےسہ روزہـ’’ دعوت‘‘ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس احسانِ عظیم پر میں دل کی گہرائیوں سے ان کا ممنون، مشکور اور قدردان ہوںاور ان کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم محترم پرواز رحمانی صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی صحافتی اور دعوتی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔آمین یا رب العالمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے