یوم جمہوریہ پر خصوصی تحریر

26 جنوری محض ایک تاریخ نہیں بلکہ قومی شعور، آئینی وقار اور جمہوری عزم کی درخشاں علامت ہے

ڈاکٹر سراج الدین ندوی۔بجنور
ممبر پریس کلب آف انڈیا

ہندوستان کی تاریخ میں 26 جنوری محض ایک تاریخ نہیں بلکہ قومی شعور، آئینی وقار اور جمہوری عزم کی درخشاں علامت ہے۔ یہی وہ دن ہے جب طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد ہندوستان نے اپنے لیے ایک متفقہ آئین کو نافذ کر کے خود کو ایک خودمختار، جمہوری اور فلاحی ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ 26 جنوری فرد کی آزادی کو قانون کی بالادستی سے جوڑنے، حقوق و فرائض کے توازن کو قائم کرنے اور کثرت میں وحدت کے ہندوستانی تصور کو عملی شکل دینے کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ عدل، مساوات، رواداری اور باہمی احترام پر قائم ایک زندہ اخلاقی نظام ہے، جس کی حفاظت ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آزادبھارت کادستور بنانے کے لیے آزادی حاصل ہونے سے قبل ہی نومبر1946ء میں قانون ساز اسمبلی وجود میں آ گئی تھی۔اسمبلی کے ارکان کو منتخب کرنے کے لئے باقاعدہ انتخاب کرائے گئے۔برٹش انڈیا کی 296نشستوں میں سے 211نشستوں پر کانگریس اور 73نشستوں پر مسلم لیگ کی جیت ہوئی۔اس طرح اسمبلی نے ایک خود مختار ادارے کی شکل اختیار کرلی جو اپنی مرضی کے مطابق اپنا پسندیدہ آئین وضع کرسکتی تھی۔دستور سازاسمبلی کا پہلا اجلاس 9دسمبر 1946ء کو ہوا جس کے بعد 11دسمبر1946ء کو ڈاکٹر راجندر پرشاد اس کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ آئین کو وضع کرنے کے لیے بہت سی کمیٹیاں بھی قائم کی گئی تھیں اور ان کمیٹیوں کی رپورٹ کی بنیاد پر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی صدارت میں 19اگست 1947ء کو ایک ڈرافٹنگ کمیٹی وجود میں آئی،جس میں ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر کے علاوہ کے ایم منشی، علادی کرشن سوامی آئیر، سرمحمد سعد اللہ، این مادھوا راو ،ٹی ٹی کرشنما چاری اور گوپالا سوامی آیانگرکے نام شامل تھے۔۔ فروری 1948ء میں اس قانون کا مسودہ (ڈرافٹ)شائع کیا گیا، دستور ہند کا مسودہ دستور ساز اسمبلی میں 284 اراکین اسمبلی کے دستخط کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔26نومبر 1949ء کو مسودے کو منظوری دے کر آئین کی شکل دے دی گئی اور اس کا اطلاق 26جنوری 1950ء کو ہوا۔ 1950ء سے اب تک اس آئین میں سوسے زیادہ ترامیم ہو چکی ہیں۔
سب جانتے ہیں کہ بھارت کا آئین سیکولر ہے ۔اس میں کسی قسم کا بھید بھائو نہیں ہے ،یہ کمزوروں کا پاسبان ہے ،اس کے تحت ہر شخص کو ترقی کرنے کے مواقع دیے گئے ہیں ۔آئین کے مطابق ہر شہری کو درج ذیل بنیادی حقو ق حاصل ہیں ۔
حق مساوات: ملک کا ہر شہری حکومت کی نظر میںبرابر ہے ۔آئین کی دفعہ 15,14 میں کہا گیا ہے:۔ ’’مملکت کسی شخص کو ملک کے اندر قانون کی نظر میں مساوات یا قوانین کے مساویانہ تحفظ سے محروم نہیں کرے گی۔‘‘ اور ’’مملکت محض مذہب، نسل، ذات، جنس، مقام پیدائش یا ان میں سے کسی کی بناء پر کسی طرح کا امتیاز نہیں برتے گی۔‘‘ سرکاری ملازمت کے سلسلے میں تمام باشندگان کو ملے ہوئے حقوق کا ذکر آئین کی دفعہ 16میں کیاگیا ہے۔ ’’تمام شہریوں کو مملکت کے کسی عہدے پر ملازمت یا تقرر سے متعلق مساوی موقع حاصل ہوگا۔‘‘
حق آزادی: آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے ،آزادی کے حصول کے لیے ہی ساری جد و جہد کی گئی ،ہر طرح کی قربانیاں دی گئیں ۔آئین سازوں نے اس بات کا التزام کیا کہ ہر شہری کو آزادی ملے۔ اس ضمن میں دفعہ 19 تا 22 میں لکھا ہے: ’’مملکت کے تمام شہریوں کو حق حاصل ہوگا۔(الف) مملکت کے ہرایک حصہ میں تقریر اور اظہار کی آزادی کا۔(ب) امن پسند طریقے سے اور بغیر ہتھیار کے جمع ہونے کا۔(ج) انجمنیں یا یونین قائم کرنے کا۔(د) بھارت کے سارے علاقے میں آزادانہ نقل و حرکت کرنے کا۔(ھ) بھارت کے کسی بھی حصے میں بود و باش کرنے اور بس جانے کا۔(ی) کسی پیشے کے اختیار کرنے یا کسی کام دھندے، تجارت یا کاروبار چلانے کا۔‘‘
مذہب کی آزادی:بھارت ایک کثیر المذاہب ملک ہے ۔اس لیے مذہبی آزادی کو آئین میں بہت اہمیت دی گئی ہے ۔اس سلسلے میں ہمارے سیاسی قائدین نے فہم و فراست کا مظاہرہ کیا کہ انھوں نے یہاں کسی ایک مذہب کو خاص اہمیت نہ دے کر سب کو برابر اوریکساں حقوق دئیے۔ چنانچہ آئین کی دفعہ 25 میں کہا گیا ہے:۔ ’’تمام اشخاص کو آزادی ضمیر اور آزادی سے مذہب قبول کرنے، اس کی پیروی کرنے کا مساوی حق حاصل ہے۔‘‘
ثقافتی اور تعلیمی حقوق: بھارت کثیرالمذاہب کے ساتھ گونا گوں ثقافت کا گہوارہ ہے ،ایک مذہب کے ماننے والوں میں بھی مختلف رسوم و رواج اور کلچرپائے جاتے ہیں ،اپنی تہذیب کی حفاظت ،اپنی زبان اور شعائر کا تحفظ ،اپنی تہذیب کے مطابق اپنی نسلوں کی تعلیم و تربیت وغیرہ وہ امور ہیں جن کے لیے ہر شہری حساس واقع ہوا ہے ۔ ہر شخص کی خواہش ہے کہ اس کو اپنی تہذیب کے مطابق زندگی گزارنے کا اختیار حاصل ہو ۔اس سلسلے میں آئین کی دفعہ 29میں کہا گیا ہے:۔ ’’بھارت کے علاقے میں یا اس کے کسی بھی حصے میں رہنے والے شہریوں کے کسی طبقے کو جس کی اپنی جداگانہ زبان، رسم الخط یا ثقافت ہو اس کو محفوظ رکھنے کا حق حاصل ہوگا۔‘‘ آئین کی دفعہ 30 میں یہ بھی کہا گیا ہے:۔ ’’تمام اقلیتوں کو خواہ وہ مذہبی ہوں یا لسانی، اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اوران کے انتظام کاحق حاصل ہوگا۔‘‘
عدم استحصال حق:کسی بھی انسان کا استحصال اس کو تمام بنیادی حقوق سے محروم کردیتا ہے۔انسانی سماج میں استحصال ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے ،اس لیے بھارت کے آئین سازوں نے پارلیمنٹ کو استحصال کے خلاف قانون سازی کا حق دیا ،شہریوں کو اس کے خلاف احتجاج کرنے اور ضرورت پڑنے پر عدالت سے رجوع کرنے کا حق دیا ۔آئین کی دفعہ 23 میں انسانی اسمگلنگ اور بندھوا مزدوری کے خلاف حقوق دئے گئے ہیں، یہ قانون خواتین، بچوں اور لوگوں کو غیر اخلاقی سرگرمیوں میں جانے سے روکتا ہے۔دفعہ 24 میںنابالغ بچوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے جس کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں کو کام پر نہیں لگایا جاسکتا۔
دستوری چارہ جوئی کاحق: ہمارے آئین کے تیسرے حصے میں ضبط کئے گئے حقوق کو بحال کرانے اوران کی حفاظت کے لئے سپریم کورٹ و دیگر عدالتوں سے چارہ جوئی کرنے کا حق سب کو حاصل ہے۔ متعلقہ عدالتوں کو ان حقوق کی بحالی اور تحفظ کے لئے ہدایات یا احکام یا مختلف خصوصی فرمان جاری کرنے کااختیار دیاگیا ہے۔ آئینی اعتبار سے عدالتی چارہ جوئی کے حق کو صرف دستور میں بیان کی گئی متعلقہ دفعات کے تحت ہی معطل کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کو یہ حق دیاگیا ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ کون سے بنیادی حقوق کس حد تک کسے دیے جائیں۔ غرض کہ آئینی اعتبار سے ملک کے ہر ایک شہری کو آئین کی دفعات 32تا 35 کے تحت کسی بھی معاملے میں دستوری چارہ جوئی کا پورا پورا حق دیاگیا ہے۔
یوم جمہوریہ ہمیں جہاں ہمارے حقوق یاد دلاتا ہے ،وہیں ہمارے فرائض کی جانب بھی متوجہ کرتا ہے ۔یہ ملک ہم سب کا ہے ۔اس کی آزادی میں ہر طبقہ کی جدو جہد ہے ۔سب سے زیادہ مسلمانوں کی قربانیاں ہیں ۔لیکن انھیں ہی بھلادیا گیا ہے ۔ذمہ داران حکومت کی زبانوں پر مشکل سے ہی کسی مسلمان کا نام آتا ہے حالانکہ جب انگریزوں نے ملک پر لشکر کشی کی تو لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا گیا ۔ایک ایک کرکے ساری حکومتیں تاراج کردی گئیں ۔اس کے بعد سے مسلمان مستقل آزادی کی جدو جہد میں لگے رہے ،ہندوستانی عوام کی شمولیت نے جنگ آزادی کو منزل تک پہنچادیا ۔آج جب ہم وطن عزیز کا جائزہ لیتے ہیں تو آئین میں درج بنیادی حقوق کو پامال ہوتے دیکھتے ہیں ۔پورے ملک میں اس وقت ڈر کا ماحول ہے ۔قانونی طور پر ہر شہری کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے ،لیکن عملی طور پر ساری آزادیاں آہستہ آہستہ سلب کی جارہی ہیں ۔ملک رفتہ رفتہ انارکی کی جانب بڑھ رہا ہے ۔مہنگائی آسمان چھو رہی ہے ،سرکاری تعلیمی نظام چوپٹ ہوگیا ہے ،معاشیات کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دیاجارہا ہے ،سرکاری کمپنیاں فروخت کی جارہی ہیں ،مذہبی شدت پسندی کو فروغ دے کر بھائی چارے کی بنیادیں کھوکھلی کی جارہی ہیں۔اقلیتوں کے حقوق غصب کیے جارہے ہیں ،عدالتوں سے انصاف حاصل کرنا مہنگا اوردشوار ہوگیا ہے ۔میں سوچتا ہوں کہ عالم بالا سے مجاہدین آزادی کی روحیں آج کے ہندوستان کا نظارہ کرتی ہوں گی تو اپنا سر پیٹ لیتی ہوں گی ۔
ملک آئین سے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔لیکن یہ کنٹرول اسی وقت تک ہوتا ہے جب تک آئین کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں ۔موجودہ صورت حال ذرا مختلف دکھائی پڑتی ہے ۔مذہب اور کپڑوں کے رنگ دیکھ کر آئین بدل جاتا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں میں کچھ ایسے لوگ براجمان ہیں جو متعصب ہیں ۔جب کسی ملک کی یہ صورت حال ہوتی ہے تو وہاں بے چینی جنم لیتی ہے ۔یہ بے چینی بد امنی میں بدل جاتی ہے ،جس سے ملک کی ترقی کا پہیہ آگے کے بجائے پیچھے کی جانب گھومنے لگتا ہے ۔میں اس موقع پر یوم جمہویہ کی مبارک باد کے ساتھ ارباب حکومت سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ آئین کی بالا دستی کو عملاً قائم کریں اور خود کو بھی آئین کا پابند بنائیں۔ملک کے امر شہیدوں کو یہی سچا خراج عقیدت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے