ابومعاذعبدالعلیم محمدتفسیرصدیقی
نائب۔امیرجمعیت اہل حدیث حلقہ اٹوا سدھارتھنگریوپی
چار سو ظلمت کے بادل چھاۓ ہوۓ تھے پوری انسانیت کفر و شرک کی تاریکیوں میں گھری ہوئی تھی خانہ کعبہ جسے پوری دنیاکے مسلمان بیت اللہ کے نام سے یاد کرتے تھے تین سوساٹھ بتوں کا مسکن بن چکا تھا اور عالم انسانیت بری طرح کراہ رہی تھی ایسے وقت میں مکہ کی سرزمین پر قریش خاندان میں آمنہ نامی خاتون کے بطن سے ٩ ربیع الاول بروز شنبہ صبح صادق کے بعد طلوع آفتاب سے قبل ایک دریتیم پیدا ہوا (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم)جسے کسی نے سرور عالم کا خطاب دیا تو کسی نے پیغمبر عالم کا کسی نے محسن اعظم توکسی نے محسن انسانیت کسی نے شافع المذنبین کہا تو کسی نے سیدالمرسلین کے لقب سے ملقب کیا اور خوداللہ جل شانہ نے رحمتہ العالمین کے لقب سے نوازا۔
ابھی آمنہ کاپھول پوری طرح کھل بھی نہ سکا تھاکہ باد صرصر کا ایک زبردست جھونکا آپہنچا جس نے آغوش مادر سے محروم کردیااب جگرگوشہ آمنہ اپنے داداعبدالمطلب کے گود میں پرورش پانے لگا لیکن شاید رب دوجہاں کویہبھی منظور نہ تھاکہ داداکاسایہتادیرحاصل رہے چنانچہ چنددنوں کے بعدداداعبدالمطلب کا بھی انتقال ہوگیاابآپ کے حقیقی چچاابوطالب کی محبتوں اورشفقتوں کاسہاراملایہ اگرچہ مسلمان نہیں ہوۓتھے مگرشفقت ومحبت اوراخوت والفت کے وہ پھول برساۓ کہ ماں باپ اورداداکی جدائی نے اس پرغم واندوہ کاکوئ اثرنہ ڈالااورزندگی کاکارواں رواں دواں رہا یتیم بچہ لوگوں کی نگاہوں کامرکزبننے لگا یہاں تک کہایک دورایسابھی آیاکہ باشندگان مکہ نےاسے صادق وامین کے لقب سے نوازا وہی مکہ کاصادق وامین ابھی عمرکادوتہائ حصہ(یعنیچالیس سال)ہی گذارپایاتھاکہ غارحراءکے اندرمنجانب اللہ نبوت کاتاج پہنانے کے لۓ جبریئل امین تشریف لاۓ اورآپ کواللہ کی جانب سے ایک بہت بڑی ذمہ داری دی گئی (یعنی دعوت الی اللہ کی)لیکنآپ نے عہدہ تبلیغ دین بخوبی سبھال کرجوں ہی اللہ کی باتیں لوگوںکے کانوں تک پہںچانے کی شعی کیآپ مصیبتوں، دقتوں، مجبوریوں اور پریشانیوں میں گھرگۓ۔ وہی کفار و مشرکین مکہ جوآپ کوصادق وامین کہتے تھے اب ساحر، شاعر، پاگل، دیوانہ و مجنوں کہ کر پکارنے لگے۔اہل وطن کے بچوں،بوڑھوں،جوانوں اورعورتوں نے اتنے ہی پربس نہ کیابلکہ راستے میں کانٹے بچھاۓ،گلیوں میں چلتے توں چھتوںسے آپ کے جسم اطہر پر کوڑا کرکٹ ڈالتے یہاں تک کہ آپ کو اپنے مولد و مسکن کو الوداع کہنے پرمجبور ہونا پڑا۔ مگران تمام مصیبتوں کے باوجودآپ کے اخلاق کریمانہ میں فرق نہیں آیا بلکہ آپ نے صبروتحمل سے کام لیا۔
لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک نہ ایک دن حق کابول بالااورباطل کامنہ کالاہوتاہے۔اورہوابھی یہی کہ مظلوموں کے محسن اعظم کوآزادی کاپروانہ ملا اور اپنا پیارا وطن دوبارہ واپس ملا۔تاریخاس بات پرشاہدہے کہ جب خاتم النبیین کوکفارومشرکین پرفتح مبین حاصل ہوئی اوروطن عزیزمیں آزادانہ وفاتحانہ اورشان وشوکت کے ساتھ داخل ہونے کاموقع ملاتوجنہوں نےآپ پرپتھروں کی بارش کی تھی۔آپ کے ساتھیوں کوگرم گرم ریت پرلٹایاتھااورچٹائیوں میں لپیٹ کرناک میں دھواں دیا تھا۔ رسیوں میں باندھ کرمکہ کی گلیوں میں گھسیٹا تھا۔سینے پر بھاری پتھررکھ کرہتھوڑاچلایاتھا۔آپ کے راستے میں کانٹے بچھاۓتھے۔آپ کے ٹخنوں کو لہولہان کیا تھا۔ آپ کے دندان مبارک کوشہیدکیاتھا۔نمازمیں سجدے کی حالت میں اونٹ کی اوجھڑی گردن پرذال دیتے تھے۔جس کودیکھ کرآپ کی لاڈلی بیٹی لخت جگر نور نظر حضرت فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی آنکھیں آنسوبہائ تھیں۔جن لوگوں نے آپ کی ضیافت گالیوں سے کی تھی جس نےآپ کےپیارے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے کلیجے کوچبایاتھااورمسلمان شہیدوں کے ناک کان کاٹ کرگلے کا ہار بنایا تھا اور آپ کواورآپ کے ساتھیوں کوصفحہ ہستی سے مٹانے کی حتی الوسع کوشش کی تھی۔ لیکن اس کے باوجود صادق ومصدوق رحمتہ اللعالمین جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ وہ دوستانہ اور مشفقانہ سلوک کیا جس کی مثال دنیاۓ انسانیت پیش کرنے سے قا صرہے۔
قربان جایۓ قائدالمجاھدین,امام المرسلین پیغمبرعالم محسن اعظم جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرجنہوں نے دشمنوں پرکلی اختیار پانے کے باوجود شفقت و محبت کے لہجہ میں فرمایا۔ﻻتثریب علیکم الیوماذھبوافانتم الطاقاء،،،آج کے دن تم پرکوئ سرزنش نہیں جاؤتم آزادہو، تمہیں معاف کیاجاتاہے۔ اسی کے بعد آپ نے اعلان فرمایا کہ جوشخص مسجد حرام میں داخل ہوناجاۓ اس کوامان ہے اورجوابوسفیان کے گھرمیں داخل میں ہوجاۓ اس کوبھی امان ہے۔ محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کویہ اعزازعباس کی سفارش پردیاتھااورسیاسی تقاضابھی یہی تھاکہ جوشخص اعزاز کا اہل ہو اسے اعزاز و مرتبہ دیاجاۓ تاکہ وہ شاداں وفرحاں ہوجاۓ اوراس کے دل میں جوشکوک وشبہات پیداہورہے ہیں وہ یکسرختم ہوجایئں، اس کا خوش گواررزلٹ سامنے آیاکہ آگے چل کرابوسفیان مسلمان ہوۓ اوراسلام کے ایک مجاہداورکمانڈربنے رضی اللہ عنہ
پیارے نبیصلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پرکفارمکہ کے ساتھ جوحسن سلوکاورجوطریقہ اپنایااس سے خوش ہوکرہزاروں کی تعدادمیں کفارنے اسلام کی دعوت پرلبیک کہہ کرکلمہ توحید لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ پڑھا اورمعرکہ حنیین میں انہیں لوکوں نے اپنی جوانمردی کاثبوت دیا۔یہ آپ کی سیاسی بصیرت اورعقلمندی کا نتیجہ تھا۔ اگر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں معاف نہ کرتے بلکہ ان سے انتقام و بدلہ لے لیتے توایسی صورت میں اتنی زیادہ تعدادمیں جوق درجوق لوگ مسلمان نہ ہوتے بلکہ اسلام سے کنارہ کشی کرکے کفرہی کی حالت میں مرجانا پسند کرتے۔
محسن انسانیت نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ سے کافروں کے سخت دل موم ہوگۓ اوران کے قلوب میں ایمان وعمل کی روشنی رچ بس گئی اورمسرت وشادمانی کے ترانہ گاتے ہوۓ مشرف بہ اسلام ہوکر صحابہ کرام کی فہرست میں اپنانام شامل کالیا ۔یہ تھیں چندجھلکیاں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ عالم انسانیت بالخصوص داعیان اسلام کو آپؐ کے نقش قدم پر چل کر چمن ہاۓ دین مبیں کی آبیاری کرنے کی توفیق بخشے ۔آمین۔
