ریاض (منصور قاسمی): گلوبل جھارکھنڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام جشن جمہوریت کے عنوان سے ایک یادگار اور شاندار محفل مشاعرہ 29 ؍جنوری بروز جمعہ گارڈن ریسٹورنٹ ۔2 میں منعقد ہوا ،جس کی صدارت مشہور شاعر ظفر محمود ظفر نے کی؛ جبکہ نظامت کے فرائض منصور قاسمی نے انجام دیے- مہمان خصوصی کی حیثیت سے الشفاء کلینک کے روح رواں ڈاکٹر محمد ادریس شریک ہوئے۔ ریاض میں مقیم ہندوستان کی سماجی ، مذہبی اور ادبی حلقوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کیں۔
افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے گجوا کی صدر شاہ زین ارم نے شعرا ء و سامعین کا خیر مقدم کرنے کے بعد کہا : اس سے پہلے بھی گجوا نے کامیاب شعری محفل کا انعقاد کیا تھا اور آج بھی محفل مشاعرہ منعقد کر کے خوشی ہورہی ہے اور یہ آپ سب کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔،، تنظیم کے نائب صدر ڈاکٹر تنویر عالم نے گلوبل جھارکھنڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور مستقبل کے اہداف سے روشناس کرایا ۔
مشاعرے کا باضابطہ آغاز مولانا عابد ندوی کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا۔ اس مشاعرے میں جن شعرا نے شرکت کی ان کے نام ہیں ۔ ظفر محمود ظفر ، افتخار راغب ، سہیل اقبال ، حسان عارفی ،منصور قاسمی اور عبد الرحمن راشد۔ مشاعرے میں شریک تمام شعرا نے شاندار اور محفل کو مسحور کر دینے والے اشعار پیش کیے جن کو سن کر سامعین نے خوب داد دی ۔بلا شبہ گجوا کا یہ مشاعرہ، معیاری اور تعمیری شاعری کا شاہکار تھا۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر ادریس نے اس محفل کو ایک تاریخ ساز محفل سے تعبیر کرتے ہوئے کہا: ریاض میں اردو ادب کی شمع پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہے جہاں ادیب و شاعر یکجا ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ :یہاں اس طرح کی محفلیں سجتی رہنی چاہئیں۔اس موقع پر شاہ زین ارم اور ڈاکٹر تنویر نے ڈاکٹر ادریس کو تہنیت پیش کتے ہوئے ایک یادگاری مومنٹو پیش کیا –
واضح رہے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں گلوبل جھارکھنڈ کے تمام ممبران کا بہت اہم کردار رہا ۔ محمد سرفراز کے کلمات تشکر کے ساتھ ناظم مشاعرہ نے مشاعرے کے اختتام کا اعلان کیا۔پیش ہے پڑھے گئے منتخب اشعار
یہ بات حقیقت ہے سبھی جان رہے ہیں
ہم اہل وفا دیس کی پہچان رہے ہیں
عبد الرحمن راشدعمری
جان سے پیارا سمجھ رہا ہے تو جس کو
جانی دشمن تیرا بھی ہے۔۔ میرا بھی
منصور قاسمی
اشارے دو نہ مجھے بار بار آنکھوں سے
اب اٹھ چکا ہے مرا اعتبار آنکھوں سے
حسان عارفی
اس لئے ہوشیار رہتا ہوں
میرے کرتے میں آستین بھی ہے
سہیل اقبال
پردیس میں رہ کر کوئی کیا پانو جمائے
گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے
افتخار راغب
کیا کہوں آپ سے محبت ہے
یہ بتانے میں تھوڑی دیر لگی
ظفر محمود ظفر
