گزشتہ کئی سالوں سے سدھارتھ نگر مہوتسو کسی خاص سیاسی پارٹی کے پرچار کا ذریعہ سا بن گیا ہے جیسے۔

سدھارتھ نگر مہوتسو میں شرکت کرنے والے سیلیبریٹی، فنکار، گلوکار يا شاعر جیسے کسی خاص پارٹی کے رکن ہوتے ہیں یا اُن سے اُن کا کوئی گہرا لگاؤ سا رہتا ھے جیسے۔

یادوں کے دریچے سے

(عبدالمبین منصوری)

سدھارتھ نگر: سدھارتھ نگر کے یوم تاسیس پر ضلع میں منعقد ہونے والے کپلوستو مہوتسو پر آخر کس کی نظر لگ گئی۔ وہ بھی کیا دن تھے جب 29 دسمبر سے کپلوستو مہوتسو کا آغاز ہو کر مسلسل دو، تین اور پانچ دن تک کپلوستو مہوتسو کا پروگرام چلتا تھا، جس میں پورا ضلع کپلوستو مہوتسو میں ایک تہوار کے طور پر شرکت کرتا تھا جس سے ضلع کے واحد کپلوستو مہوتسو کی شان و شوکت میں اضافہ ہوتا تھا۔ اس میں سماجی اور ثقافتی پروگرام کے ساتھ ساتھ آل انڈیا کوی سمیلن اور مشاعرہ کا بھی انعقاد ہوتا تھا جس میں ہندوستان اور بیرون ملک کے نامور شاعروں اور ادیبوں کی شمولیت ہوا کرتی تھی جس سے ضلع کا ہر شخص لطف اندوز ہو ا کرتا تھا۔
مہوتسو کی آن بان اور شان گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ مشاعرہ ہی ہوا کرتا تھا جس میں عالمی شہرت یافتہ شاعروں کا جمگھٹہ رہتا تھا اب تو مشاعرے کے نام پر جیسے کورم پورا کر دیا جاتا ہے۔ ضلع کی عوام عالمی شہرت یافتہ شاعروں کی شاعری سے نا آشنا ہونے کے ساتھ ہی ساتھ ان کے دیدار کو ترس سی گئی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ اُن کے جگہ پر بالی ووڈ اور بھوجپوری کے اسٹاروں کے لوگ اور نئی نسل دلدادہ ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن گزشتہ کئی سالوں سے ضلع کا واحد کپلوستو مہوتسو بڑے پیمانے پر سدھارتھ نگر مہوتسو میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے کئی فارمیٹ میں بھی بنیادی طور پر بدلاؤ کر دیئے گئے۔
گزشتہ سال آل انڈیا مشاعرہ اور کوی سمیلن کو سدھارتھ نگر مہوتسو سے اخراج کر دیا گیا تھا جس سے ضلع کے ادب نوازوں کو شدید دکھ پہنچا تھا۔ تاہم ضلع میں ادب سے محبت کرنے والے ہندی اور اردو کی اتنی ادبی تنظیمیں موجود ہیں کہ اگر وہ سب اکٹھے ہو جائیں تو ایک عظیم الشان آل انڈیا کوی سمیلن اور مشاعرہ منعقد کر سکتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ضلع کے یہی ادب نواز وقتاً فوقتاً ہوٹلوں یا لاجز میں مشاعرے اور کوی سمیلن کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ نتیجتاً اس میں ضلع کا ہر شخص شرکت نہیں کر پاتا ہے اور اس سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا ہے۔ آج سے تقریباً 10, 12 سال قبل جس طرح سے مہوتسو کا انعقاد ہوتا تھا اب ویسا پروگرام ہونا کسی گزرے زمانے کی جیسے بات سی ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ دن بھی کیا تھے جب مہوتسو کی جان آل انڈیا کوی سمیلن اور مشاعرہ ہی ہوا کرتا تھا۔ پہلے اور سب سے زیادہ جم غفیر مشاعرے کے پروگرام میں ہی ہوا کرتی تھی اور سامعین بھی مہذب ہوا کرتے تھے۔
پہلے مہوتسو میں کوئی بھی وی آئی پی پاس واس نہیں ہوا کرتا تھا مگر جب سے وی آئی پی پاس کا رواج شروع ہوا تب سے مہوتسو کو کسی خاص طبقے کے ذریعے جیسے ہائیجیک کیا جانے لگا اور عوام کے دل و نظر میں مہوتسو، مہوتسو نہیں بلکہ صرف ایک میلہ بن کر رہ گیا ہے۔ ہر سال مہوتسو میں افرا تفری کا ماحول کہیں نہ کہیں دیکھنے کو مل ہی جاتا ہے۔ امسال بھی دیکھا جائے تو بالی ووڈ کے ہیرو گووندا کو سامعین اور شائقین کی نگاہِ ناز کئی گھنٹے سے مشتاق اور منتظر رہی مگر گووندا تھوڑے سے وقفے کے لئے آئے بھی تو اپنی ہلکی سی جھلک دکھلا کر چلے گئے۔ عوام گھنٹوں بیٹھی اُن کے انتظار میں خود کو ٹھگا محسوس کرتی ہوئی اپنے اپنے گھروں کو بیرنگ واپس لوٹ گئی۔
اسی طرح پون سنگھ کا بھی حال رہا وہ بھی بمشکل نصف گھنٹہ سے بھی کم پرفارمینس کئے۔
مھہوتسو میں باہر اور ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے تاجروں اور دکانداروں کو بھی کافی جدوجہد اور انتظامیہ سے ٹکراؤ کا ماحول ان کے ذریعے ہڑتال کی شکل میں دکھائی دیا جو ان کی مایوسی کو صاف ظاہر کرتا ہے۔
میلہ انتظامیہ اُن دکانداروں سے خاصا رقم دکان لگانے کے عوض میں وصول کرتا ہے مگر بقول دکانداروں کے میلہ انتظامیہ اُنھیں کوئی سہولیت فراہم نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے
اگر مہوتسو اسی رنگ ڈھنگ اور بے ترتیبی کے ساتھ کسی خاص سیاسی جماعت کے لیے پرچار کا باعث بنتا رہا تو مستقبل میں مہوتسو کی تعظیم اور توقیر عوام الناس کے دلوں سے ختم ہوتا جائیگا اور مہوتسو صرف ایک میلے کی شکل تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گا اور مہوتسو کا سارا سماجی اور ثقافتی پروگرام صرف ہلڑبازی کے آغوش میں غوطہ زن ہوکر اپنی پہچان قائم اور دائم رکھنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرتا ہوا دکھائی دے سکتا ہے۔ مہوتسو میں کھیل کود کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، اتنا ہی نہیں مہوتسو کے ذریعے حقیقی طور پر ضلع کے ہونہار فنکاروں اور کھلاڑیوں کو پرموٹ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ ملک اور بیرون ممالک میں اپنا اور اپنے ماں باپ کے ساتھ ساتھ اپنے ضلع اور ملک کا نام بھی روشن کر سکیں جس سے سماج اور ملک کو اس سے فائدہ پہنچ سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے