ایم۔ اے اشرف

کچھ لوگ وقت کے دھارے کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو وقت کا رخ بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ عبید الرحمن الحسینی بھی انہی شخصیات میں سے ایک ہیں جن کے دل میں قوم کی بیداری کا درد اور علم کی روشنی کو عام کرنے کی تڑپ موجزن ہے۔ انہوں نے قوم کی خاموشی میں ایک صدا جگائی، غفلت کی تاریکی میں شعور کا چراغ روشن کیا، اور مایوسی کے اندھیروں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا کی۔

انہوں نے دیکھا کہ قوم کا سب سے بڑا المیہ جہالت ہے، وہ جہالت جو خوابوں کو محدود کر دیتی ہے، جو صلاحیتوں کو دبا دیتی ہے، اور جو نسلوں کو کمزوری کے حصار میں قید کر دیتی ہے۔ یہی احساس ان کے دل میں ایک آگ بن کر بھڑکا، ایک عزم بن کر ابھرا، اور اسی عزم نے انہیں قوم کو بیدار کرنے کے لیے میدانِ عمل میں لا کھڑا کیا۔

عبید الرحمن الحسینی نے صرف الفاظ کے ذریعے بیداری کا پیغام نہیں دیا بلکہ عمل کے ذریعے ایک مثال قائم کی۔ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اگر قوم کو جگانا ہے تو علم کے دروازے کھولنے ہوں گے، اگر مستقبل کو روشن کرنا ہے تو تعلیم کے چراغ جلانے ہوں گے۔ اسی فکر، اسی درد، اور اسی خواب کی تعبیر کے طور پر *أنس ویلفیئر ٹرسٹ* کا قیام عمل میں آیا۔

أنس ویلفیئر ٹرسٹ محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے، ایک فکر کی عملی تصویر ہے، اور ایک ایسے دل کی آواز ہے جو قوم کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی میں لانا چاہتا ہے۔ اس ادارہ کے ذریعے غریب بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں دی جا رہی ہیں، مایوس آنکھوں میں امید جگائی جا رہی ہے، اور کمزور قدموں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا جا رہا ہے۔

عبید الرحمن الحسینی کی نگاہوں میں ایک ایسا مستقبل آباد ہے جہاں کوئی بچہ علم سے محروم نہ ہو، جہاں کوئی بیٹی جہالت کے اندھیروں میں نہ رہے، اور جہاں ہر گھر علم کی روشنی سے منور ہو۔ ان کا یقین ہے کہ جب علم عام ہوگا تو قوم خود بخود بیدار ہوگی، اور جب قوم بیدار ہوگی تو ترقی اس کا مقدر بن جائے گی۔

ان کی جدوجہد دراصل ایک خاموش انقلاب ہے، ایک ایسا انقلاب جو تلوار سے نہیں بلکہ قلم سے برپا ہو رہا ہے، جو طاقت سے نہیں بلکہ علم سے دلوں کو فتح کر رہا ہے۔ *أنس ویلفیئر ٹرسٹ* اسی انقلاب کی پہلی کرن ہے، ایک ایسا چراغ جو جل چکا ہے اور اب مسلسل روشنی پھیلا رہا ہے۔

بلاشبہ، عبید الرحمن الحسینی کا یہ سفر محض ایک فرد کی کوشش نہیں بلکہ ایک قوم کی تقدیر بدلنے کی جدوجہد ہے۔ ان کی یہ کاوش آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال، ایک زندہ تحریک اور ایک عظیم صدقۂ جاریہ ہے۔ وہ چراغ جو انہوں نے جلایا ہے، وہ صرف آج کو نہیں بلکہ آنے والے کل کو بھی روشن کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے