محمد قاسم ٹانڈؔوی

کہتے ہیں: "عہدہ و اقتدار کا نشہ بھی بڑا عجیب ہوتا ہے، جو اگر ایک بار کسی کے منہ کو لگ جائے تو اترنے یا کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا؛ بلکہ جس طرح نشہ کا عادی شخص موقع ملتے ہی نشہ آور شے کا استعمال کرکے اپنے ذہن و ضمیر کی تسکین کے بعد کام سیدھا کرنے کی کوششوں میں لگتا ہے، ویسے ہی عہدہ و مناصب کا بھوکا شخص بھی اپنی سیاسی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے، اپنے اقتدار کی کرسی کو بچائے رکھنے اور اپنے سے بڑے لیڈروں کی طرف سے دن بہ دن ملنے والی ترقی و اضافہ کے لالچ میں دن نکلتے ہی اناپ شناپ بیانات دینے کا عادی ہو جاتا ہے، جس کے ذریعے وہ ملک و ریاست کے ماحول کو زہر آلود کرنے اور اپنی نفرت انگیز سیاست کے حوالے کرکے اقتدار کی کرسی کے پیروں کو مضبوطی فراہم کرنے والی غذائیں آزماتا رہتا ہے۔”
ایسے مطلب پرست اور کرسی کے لالچی لوگوں کا اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا کہ؛ ہماری اس زہر آلود گفتگو اور شعلہ بیانی سے ملک کے حالات کس رخ پر جائیں گے اور متحدہ سماج کا وہ طبقہ جو نفرت و تشدد پر یقین رکھتا ہے؛ وہ کس کروٹ انگڑائی لےگا؟ ذاتی مفاد کے پیچھے دوڑ لگانے والوں کی اس بات کی قطعا کوئی فکر نہیں ہوتی کہ ہماری اس قسم کی  بےسر و پا باتیں حالات کو کنٹرول کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوں گی یا لوگوں کے مزاج کو مزید بگاڑنے اور فساد پر برانگیختہ کرنے کا باعث ہوں گی؟ انہیں تو صرف اغراض و مقاصد سے بھری کرسی پر براجمان رہنا ہوتا اور نفرت پھیلانے والوں کو مسالہ فراہم کرنا۔ انہیں نہ تو ملک و ریاست کی فوز و فلاح سے کوئی دلچسپی و ہمدردی ہوتی ہے اور نہ قوم و ملت کو درپیش مسائل کے حل کرنے میں کوئی دلچسپی؟ انہیں نہ تو روز بہ روز بڑھتی مہنگائی دکھائی دیتی ہے، جس کو وہ قابو کریں یا کم کریں، اور نہ ان کو بڑھتی بیروزگاری اور ناانصافی نظر آتی ہے، جس سے کہ آج ریاست کا ہر شہری متآثر و پریشان ہے؟
ایسی لچر و واہیات گفتگو اور مبنی بر خرافات سیاست کے پس پردہ جو اصل کوشش و محرکات سمجھ میں آتے ہیں، وہ یہی ہےکہ ایسے مفاد پرست سیاست دانوں اور بدامنی کا ماحول بنانے والے لیڈران کا مقصد دراصل خود کو پی ایم کی ریس میں بنائے رکھنا، اس باوقار و عالیشان عہدہ کے حصول میں اپنا اندراج کرانا اور ہائی کمان کے سامنے خود کےلیے یہ ثابت کرنا کہ ہم ہی سیاست کے بازی گر ہیں، ہم ہی سی ایم کی کرسی سے لےکر پی ایم کے عہدہ تک پارٹی سطح سے لےکر سیاست کے گلیاروں تک نہ صرف متعارف ہیں؛ بلکہ لوگوں پر ہمارا مکمل اثر و رسوخ اور دبدبہ بھی قائم ہے۔ چنانچہ پی ایم کی اس ریس میں تین ریاستوں کے حکمرانوں نے ایسا بوال و دھمال مچا رکھا ہے، جس کا نہ کوئی جواب ہے، نہ کوئی ٹھکانہ ہے، نہ کوئی داروگیر ہے، اور نہ ہی ان کے خلاف ہائی کمان کی طرف سے کوئی کارروائی ہوتی نظر آتی ہے؟ وہ جب چاہتے ہیں ہندو مسلم کی تفریق کرنے لگتے ہیں، جب چاہتے ہیں مسلم مخالف کارروائی کرنے لگتے ہیں، جب چاہتے ہیں کمیونٹی اور میجورٹی   و دن نفرت و تشدد پر مبنی ان کی سیاسی گفتگو جاری ہے، جہاں بھی جاتے ہیں، وہی اسلام دشمنی اور ذات پات کی سیاست شروع ہو جاتی ہے۔ ان میں سے ایک آسام کے وزیر اعلی "ہمنت بسوا سرما” دوسرے اتراکھنڈ کے وزیر "اعلی پشکر سنگھ دھامی” اور تیسرا نام ہے یوپی کے وزیر اعلی "یوگی ادتیہ ناتھ” کا۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیں؛ جب کانگریس میں وزیر ہوا کرتے تھے، تب اسی بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کے خلاف ایک تحریر بہ شکل کتابچہ شائع کی تھی، جس میں سینکڑوں کروڑ روپئے کا گھوٹالہ اور دھوکہ دہی کا الزام عائد تھا؛ مگر جب وہ بی جے پی میں شامل ہوئے تو بی جے پی کی واشنگ مشین نے ان کے کرتوت اور جرائم کے داغ دھبوں کو نہ صرف یکایک صاف کر دیا، بلکہ بی جے پی نے انھیں ریاست کا وزیر اعلیٰ تک بنا دیا۔ پارٹی کی اس سے اوچھی حرکت اور گندی سیاست کی مثال اور کیا دی جا سکتی ہے، جو جرائم پیشہ لوگوں کو اپنی گود میں اور پارٹی میں آتے ہی دودھ کا دھلا مان لیتی ہے اور پھر ان کو اقتدار اعلی کی کرسی تک پہنچا دیتی ہے؟ اس دوہرے معیار اور کرپشن و جرائم میں ڈوبے لوگوں کو اقتدار کے بہانے عہدوں سے نوازا۔ اس کی ایک دو نہیں؛ بلکہ ہر ریاست میں ایسی مثال موجود ہیں، جن کے ساتھ حکمراں پارٹی نے محبت و چاہت اور قربت و وفاداری نبھانے والا معاملہ روا فرمایا۔
یوپی کے سی ایم یوگی جی کو کون نہیں جانتا؟ سیاست میں آنے سے پہلے ان کی کیا حیثیت تھی، اور کیا ان کا نیچر و پیشہ رہا ہے؟ سب واقف ہیں؛ مگر آج وہی شخص ریاست کا ذمہ دار و حاکم بنا ہے اور اسی متشدد و فرقہ وارانہ ذہنیت کی بنیاد پر تابڑ توڑ فیصلے لینا کا ریکارڈ قائم کیا جا رہا ہے۔ مسلسل انتقامانہ سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور ہر اس موقع کو اپنی سیاسی ترقی سے تعبیر کیا جا رہا ہے، جس میں نشانہ پر مسلمان ہوتے ہیں، گھر، مکان اور مذہبی مقامات کی انہدامی کارروائی سے لےکر مسلم تاجروں اور ذاتی پیشے سے وابستہ نوجوانوں کو پریشان کیا جاتا ہے، اور مذہبی شناخت کے معاملہ کو طول دیا جاتا ہے، قدیم ہندو مسلم اتحاد اور آپسی بھائی چارہ کی روایت علامت سمجھے جانے والے قومی و مذہبی میلے ٹھیلے اور بازاروں میں لگائی جانے والی دکانوں کےلیے ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کو پرمیشن جاری کرنا اور دوسروں کو اجازت نہ دینا؛ یہ واضح طور پر ان کی دشمنی اور نفرت انگیز سیاست کو بڑھاوا دینے والا عمل اور گھناؤنی حرکت ہے۔ ایسا ہی کچھ حال اتراکھنڈ ریاست کے وزیر اعلی: "پشکر سنگھ دھامی” کا ہے؛ جو یکطرفہ کارروائی میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور جہاں بھی اسلام اور مسلمانوں کو وہ نشانہ بناسکتے ہیں اور ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، تو پہلی فرصت میں ان کا انتقامی کوڑا برسنے لگتا ہے۔ اپنی سیاسی جڑیں مضبوط کرنے اور ہائی کمان کا دلارا بنے رہنے کےلیے کبھی وہ ‘مسلم مکت بھارت’ کا نعرہ دیتے ہیں تو کبھی وہ ملک کو ‘ہندوراشٹر’ بنانے اور یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ اور یہ سب ہوتا ہے اپنے اپنے اقتدار کو بچانے اور اپنے اپنے جرائم کی پردہ پوشی کرنے کےلیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے