رخسانہ نازنین

بیدر، کرناٹک

اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ایک بار پھر ہمیں رمضان المبارک کا مبارک ومقدس مہینہ نصیب فرمایا. ہمیں زندگی دی ، صحت دی ، اس ماہ کی عبادتوں ، رحمتوں ، برکتوں ، فضیلتوں سے دامن بھرنے کا موقع دیا. ہم گناہگار بندوں کے لئے شفاعت کا ذریعہ عطا کیا. اب ہماری کوشش یہی ہونی چاہئے کہ ہم رمضان المبارک کے ایک ایک لمحے کو قیمتی جانیں اور تمام لغولیات سے دور رہیں اور اپنے شب وروز یاد الہی میں بسر کرنے اور اسکی رضا حاصل کرنے کی کوشش میں گزاریں۔
رمضان کا مقصد تقوی ہے ، تزک نفس ہے.  خواہشات کو مارنا اور صبر کرنا اسکا پیغام ہے. ہمیں اسکے بنیادی مقصد کو سمجھتے ہوئے اپنے معمولات کا شیڈول ایسا بنانا چاہئے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادت کا وقت ملے. ایسا نہ ہو کہ ہم خواتین صرف کچن میں مصروف رہیں اور انواع اقسام کی ڈشیں بناتی رہیں اور رمضان گزر جائے.!  یا پھر بازاروں کے چکروں میں اس مقدس ماہ کے انمول لمحات بیت جائیں اور ہم کف افسوس ملتے رہ جائیں. کیا پتہ اگلے سال ہمیں رمضان ملے یا نہ ملے……  اسلئے اسے غنیمت جانیں اور فضولیات میں وقت برباد نہ کریں. گھروں کی صفائی بھی ایک اہم کام ہوتا ہے. رمضان کے آغاز سے قبل ہی اس کام سے فارغ ہوجائیں تو سکون اور اطمینان سے عبادات کی جاسکتی ہیں۔
اس ماہ کا ایک اور اہم فرض ہوتا ہے زکوۃ کی ادائیگی. اکثر خواتین اس معاملے میں تساہل اور لاپرواہی سے کام لیتی ہیں. اور شوہروں کی ہی ذمے داری سمجھتی ہیں. جبکہ یہ ادائیگی ان پر بھی لازم ہے. کیونکہ مال ومتاع کی مالک وہ بھی ہوتی ہیں. میکے اور سسرال سے ملے ہوئے زیورات انہی کی ملکیت ہوتے ہیں.  اگر شوہر اسکی زکوۃ دینے میں کوتاہی کریں تو انہیں ادائیگی کی سبیل نکالنی ضروری ہے . اسلئے اپنے زیوارات کی قیمت کا درست تخمینہ کیا ہوگا اسکا حساب کریں اور اس معاملے میں شوہروں کو متوجہ کریں  اور انکی معاونت کریں. اور آج کل تو خواتین ملازمت پیشہ بھی ہیں. انکے اپنے ذرائع آمدنی ہیں. وہ اپنے مال کی زکوۃ خود نکال سکتی ہیں. اس معاملے میں شعور کی بیداری ضروری ہے. کیونکہ زکوۃ کی صحیح ادائیگی ہماری قوم وملت کی مفلسی دور کرسکتی ہے اور ہزاروں گھروں میں خوشیاں بکھیر سکتی ہے۔

صدقہ وخیرات کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں. سحری وافطار میں ضرورت مند پڑوسیوں کا خیال رکھیں. اپنے دسترخوان کو کشادہ کریں. اپنی نیتوں کو پاک وصاف رکھیں کہ اللہ تعالی عمل سے زیادہ نیت کا اجر دینے والا ہے. ریاکاری سے بچیں کہ یہ ہماری نیکیوں کو تباہ کردے گی. تلاوت کلام پاک کے ساتھ نوافل کا بھی اہمتمام کریں اور ممکن ہو تو تراویح کا بھی. سب سے زیادہ ضروری ہے کہ اپنا محاسبہ کریں کہ اس سال ہم سے کونسے گناہ سرزد ہوئے یا کہاں کہاں ہم نے اللہ تعالی کی نافرمانی کی. دانستہ ونادانستہ گناہوں کی معافی طلب کریں اور اپنے پروردگار کے حضور بخشش طلب کریں کہ وہ غفور الرحیم ہے۔

حالیہ دور میں ” استقبال رمضان ” کے بے شمار پروگرام ہوا کرتے ہیں اور رمضان کے مقصد اہمیت اور افادیت سے واقف کروایا جاتا ہے. میں ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہونگی کہ یہ پروگرام ہمیں سلم علاقوں میں کرنا چاہئے جہاں غربت اور جہالت کی تاریکی ہے. ہمیں انہیں گمراہی سے بچانا ہے. مگر ہوتا یہی ہے کہ ہم ان تک پہنچ نہیں پاتے جنہیں اسکی ضرورت ہے. الحمدللہ تعلیم یافتہ طبقہ تو رمضان کی فضیلتوں کی آگہی رکھتا ہے مگر ہمیں ان لوگوں کو روزے کے حقیقی مفہوم سے آشنا کروانا چاہئے جو صرف بھوکا رہنے کو روزہ کہتے اور سمجھتے ہیں.! ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ انہیں دینی تعلیم کی طرف راغب کریں اور درس قرآن ، سماعت قرآن کی محافل کا اہتمام  تفسیر کے ساتھ ان علا قوں میں کیا جائے۔

بازاروں میں خواتین کا  ہجوم معیوب ہے اور یہ شیطان کی خوشنودی کا باعث ہے. اسلئے حتی الامکان اس سے بچنے کی کوشش کریں. بار بار بازاروں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے رمضان سے قبل ہی اپنی خریداری مکمل کرلیں یا پھر ایک دو بار میں ہی اسے نپٹالیں. عید کی تیاری ضروری ہے مگر اللہ تعالی کی رضا کے ساتھ.۔
اللہ تعالی ہم گناہگاروں کی بخشش فرمائے اور ہمارا رمضان خیر وعافیت سے گزرے اور ہمارے ذہن وقلوب کو پاک وصاف کردے. آمین ثم آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے