حالات کو پرامن بنائے رکھنا میری اولین ذمہ داری : وزیر داخلہ

بنگلورو۔ 25؍فروری (محمدیوسف رحیم بیدری): پولیس اپنی ذمہ داری کو قانون کے مطابق ادا کرتی ہے تو حالات کو پرامن بنائے رکھنا مشکل کام نہیں ہے،اس کی اچھی مثال منگلور علاقہ ہے۔ساحلی علاقے میں حالات بہتر ہوئے ہیں،بہتر بنانے میں تمام طبقات کے رول کے ساتھ پولیس کا اہم رول ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب مسعود عبدالقادر صاحب کنوینر کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ نے وزیر داخلہ ڈاکٹر پرمیشور سے آج صبح ان کے گھر پر ملاقات پر کہی۔ریاست میں ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں اور پنچایت انتخابات قریب میں منعقد ہونے والے ہیں،ایسے موقع پر فرقہ پرست اپنے مفادات کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ہماری ریاست پر امن ہے،یہاں ہندو،مسلمان،سکھ،عیسائی،مزدور اور کسان،دلت اور آدی واسی،لنگایت اور وکلیگاز اور پچھڑے طبقات کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں،انہوں نے کہاکہ پرامن حالات کو جو کوئی بگاڑنے کی کوشش کرے ان پر سخت کارروائی ہونا چاہئے۔جناب محمد یوسف کنی جوائنٹ کنوینر نے وزیر داخلہ سے کہاکہ باگلکوٹ ایک پر امن شہر ہے، چند دن قبل شیواجی مہاراج کے جنم دن پر ایک مسجد کے سامنے ڈیڑھ گھنٹہ تک ہم ’’مندر وہیں بنائیں گے ‘‘گانا بجتا رہا،’’ہندوستان میں رہنا ہو تو رام رام کہنا ہوگا‘‘ نعرے لگاتے رہے،بے بیباکی کے ساتھ ایک لیڈر مسجد کو تالا لگانے کی بات کر رہے تھے۔ یوسف کنی نے گرفتار شدہ مسلم نوجوانوں کو رہائی کا مطالبہ کیا۔وزیر داخلہ سے اس بات کا پرزور مطالبہ کیاگیا کہ SIR اپریل میں نافذ ہونے والا ہے،کانگریس پارٹی، منتخب ایم ایل ایز عوام کی رہنمائی اور مدد کرے،میپینگ کا کام زوروں پر جاری ہے مگر عوام میں شعور کی کمی کی وجہ سے اور BLO  کی عدم تربیت کی وجہ سے ووٹرز کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔حکومت بھی متوجہ ہونا چاہئے۔اس موقع پر وزیر داخلہ نے کہاکہ حالات کو پرامن بنائے رکھنا میری اولین ترجیح ہوگی۔اس سلسلے میں اعلٰی افسران کے ساتھ تبادلہ خیال بھی ہوا ہے۔SIR کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یقیناً عوام کے مسائل کو حل کرنا ہے،اس سلسلے میں پارٹی میٹنگ میں بھی گفتگو کروں گا۔ڈاکٹر پرمیشور نے کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ کے ساتھ مختلف ایشوز پر تبادلہ خیال کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بہت جلد ایک میٹنگ منعقد کریں گے۔آج کی ملاقات میں جناب اللہ بخش اداولآمری صاحب،جناب تفہیم اللہ معروف صاحب،جناب اعجاز احمد صاحب،حافظ محمد فاروق صاحب،جناب محمد اسماعیل صاحب موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے