ابو احمد مہراج گنج
برنارڈ شا سے منسوب یہ جملہ محض ایک تلخ تبصرہ نہیں، بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں دورِ حاضر کے مسلمانوں کو اپنی تصویر صاف نظر آنی چاہیے ۔ یہ جملہ مذہب کی آفاقی سچائیوں اور ماننے والوں کے عملی رویوں کے درمیان موجود خلیج کو واضح کرتا ہے۔
اسلام صرف چند عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو عدل و انصاف، مساوات، علم دوستی اور اخلاقیات پر مبنی ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں جہاں امانت اور دیانت اولین شرط ہے۔حقوق العباد کو خالق کی رضا کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔صفائی ستھرائی اور نظم و ضبط کو ایمان کا حصہ بنایا گیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے ان اصولوں کو تھاما، وہ دنیا کے امام رہے اور اقوام عالم ان کی اقتداء کرتی رہی۔ ان کا نظامِ عدل ایسا تھا کہ غیر مسلم بھی اپنی شکایات لے کر مسلم قاضیوں کے پاس آتے تھے۔
لیکن آج جب ہم برنارڈ شا کے جملے پر غور کرتے ہیں، تو ہمیں اپنے گرد و پیش میں اسلام کی تعلیمات کے برعکس ایک الگ ہی دنیا نظر آتی ہے۔اخلاقی زوال جس مذہب نے جھوٹ، ملاوٹ اور دھوکہ دہی کو حرام قرار دیا، آج اسی کے ماننے والوں کے معاشروں میں یہ بیماریاں عام ہیں۔اسلام نے "امتِ واحدہ” کا تصور دیا، لیکن آج مسلمان رنگ، نسل اور فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے دست و گریبان ہیں۔پہلی وحی کا آغاز "اقرأ” (پڑھ) سے ہوا، مگر آج مسلم دنیا تعلیمی اور تحقیقی میدان میں دوسروں کی محتاج ہے۔
"بدترین پیروکار” کیوں؟
مسلمانوں کو "بدترین پیروکار” اس لیے کہا گیا کیونکہ انہوں نے مذہب کو صرف رسومات (Rituals) تک محدود کر دیا اور اس کی روح (Spirit) کو فراموش کر دیا۔ جب ایک غیر مسلم اسلام کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے وہاں امن، حقوقِ نسواں اور دیانتداری ملتی ہے، لیکن جب وہ ایک مسلمان کے عمل کو دیکھتا ہے تو اسے اکثر اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ابھی دو دن قبل ہی یہ خبر دیکھنے کو ملی ہے کہ مسلمانوں کا جھگڑا ان کے گلی کوچوں سے نکل ان کی مسجد تک پہنچ گیا اور انتظامیہ کو مسجد میں تالا لگانا پڑا ۔ابھی اس حماقت پر پچھتاتے کا عمل جاری ہی تھا کہ دوسری خبر نیشنل میڈیا میں چلی کہ مٹھائی کی تقسیم کو لیکر مسجد میں لات گھونسے چلے یہ تضاد ہی دراصل اسلام کی تبلیغ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
یہ جملہ ہمارے لیے مایوسی کا پیغام نہیں بلکہ احتساب کا موقع ہے۔ اسلام کی خوبصورتی اس وقت تک دنیا پر واضح نہیں ہوگی جب تک مسلمانمذہب کو اپنی ذات اور اخلاق میں نافذ نہ کریں۔سچی دیانتداری اور انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار نہ بنائیں۔عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات (لین دین اور سماجی رویوں) کو درست نہ کریں۔
اسلام کی حقانیت کسی انسان کے عمل کی محتاج نہیں، لیکن دنیا اسلام کو مسلمانوں کے کردار سے پہچانتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں "بہترین پیروکار” تسلیم کرے، تو ہمیں اپنے عمل کو قرآن کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔ بقول علامہ اقبال:
> وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
> اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
