روزہ کے دینی، روحانی اور طبی فوائد

از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی

خادم:دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان)
اسلام کے ارکانِ خمسہ میں روزہ ایک عظیم الشان عبادت ہے جس کی فرضیت کا اعلان خود ربِّ کریم نے قرآنِ مجید میں فرمایا۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔)
یہ آیتِ مبارکہ روزے کے مقصد کو واضح کرتی ہے: تقویٰ۔ یعنی دل میں اللہ کا خوف، زندگی میں پرہیزگاری اور کردار میں پاکیزگی۔
روزہ: بندے اور رب کے درمیان راز
حدیثِ قدسی میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
“روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔”
سوچیے! نماز، زکوٰۃ، حج سب عظیم عبادات ہیں، مگر روزے کے بارے میں خصوصی اعلان ہے کہ اس کا اجر خود اللہ ربّ العزت عطا فرمائے گا۔ اس سے بڑھ کر شرف اور کیا ہو سکتا ہے؟
دینی فوائد: تقویٰ، اطاعت اور مغفرت
تقویٰ کی دولت:
روزہ انسان کو حلال چیزوں سے بھی روک دیتا ہے، تو وہ حرام کے کیسے قریب جا سکتا ہے؟ جو شخص دن بھر پانی اور کھانا چھوڑ سکتا ہے، وہ گناہوں سے بھی بچ سکتا ہے۔
اطاعتِ الٰہی کی عملی مشق:
سحری سے افطار تک ایک بندہ صرف اللہ کے حکم پر چلتا ہے۔ کوئی دیکھنے والا نہ ہو، پھر بھی وہ پانی کا ایک قطرہ نہیں پیتا۔۔۔ یہ اخلاص کی معراج ہے۔
گناہوں کی معافی:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”
جہنم سے نجات:
روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے۔ قیامت کے دن روزہ دار کے لیے خصوصی دروازہ “ریان” ہوگا۔
روحانی فوائد: نفس کی اصلاح اور قلب کی صفائی
روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں؛ یہ نفس کی تربیت کا مہینہ ہے۔
نفس کا محاسبہ: جب پیٹ خالی ہوتا ہے تو دل نرم ہوتا ہے۔
صبر کی عادت: بھوک اور پیاس برداشت کرنے والا انسان مشکلات میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔
خشوع و خضوع: عبادت میں لذت بڑھتی ہے، آنکھوں میں آنسو آتے ہیں، دل میں نور اترتا ہے۔
ایثار و ہمدردی: جب خود بھوک لگتی ہے تو غریبوں کا درد سمجھ میں آتا ہے۔
عبادت کا اصل حسن اخلاص اور ادب ہے۔ روزہ اسی اخلاص کی عملی تصویر ہے۔
طبی فوائد: جدید تحقیق کی روشنی میں
آج کی میڈیکل سائنس بھی اعتراف کرتی ہے کہ اعتدال کے ساتھ رکھا گیا روزہ جسم کے لیے مفید ہے:
نظامِ ہضم کو آرام:
مسلسل کھانے سے معدہ تھک جاتا ہے۔ روزہ اسے آرام دیتا ہے۔
ڈیٹاکسیفکیشن (زہریلے مادوں کا اخراج):
جسم میں جمع فاسد مادے خارج ہوتے ہیں۔
شوگر اور کولیسٹرول میں توازن:
مناسب غذا کے ساتھ روزہ شوگر لیول اور کولیسٹرول کو متوازن رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔
وزن میں اعتدال:
فاسٹ فوڈ اور بے ہنگم کھانے کی عادت کم ہوتی ہے۔
گویا روزہ روح کے ساتھ جسم کی بھی صفائی کرتا ہے۔
روزے سے بے اعتنائی: ایک لمحۂ فکریہ
آج کل کچھ لوگ معمولی کمزوری یا دنیاوی مصروفیات کو بہانہ بنا کر روزہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ذرا سوچئے:
کیا چند گھنٹوں کی بھوک آخرت کی دائمی راحت سے زیادہ قیمتی ہے؟
کیا دنیا کی مشغولیات اللہ وحدہ لاشریک کے حکم سے بڑھ کر ہیں؟
کیا ہم واقعی اتنے کمزور ہیں کہ پانی کا ایک گھونٹ بھی روک نہ سکیں؟
روزہ چھوڑنا معمولی بات نہیں۔ بلاعذرِ شرعی جان بوجھ کر روزہ ترک کرنا سخت گناہ ہے۔
ایک درد بھری اپیل:
اے میرے عزیز بھائیو اور بہنو!
زندگی کا کیا بھروسا؟ نہ معلوم اگلا رمضان نصیب ہو یا نہ ہو۔ اگر ہم نے اس موقع کو ضائع کر دیا تو کل قیامت کے دن کیا جواب دیں گے؟
روزہ صرف ایک عبادت نہیں، یہ اللہ ورسول (جل جلالہٗ/صلی اللہ علیہ وسلم) کی محبت کا امتحان ہے۔
جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی خواہش چھوڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا و آخرت سنوار دیتا ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ روزہ رکھنے کو اپنا معمول بنائیے، کامیابی پائیے-
کیونکہ روزہ ہمیں متقی، صابر، باکردار، صحت مند اور اللہ کا محبوب بندہ بناتا ہے لہٰذا آئیے عہد کریں کہ:
ہم خود بھی روزہ رکھیں گے،
اپنے گھر والوں کو بھی روزہ رکھنے کی ترغیب دیں گے، اور بچوں میں بھی روزے کی محبت پیدا کریں گے-
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ روزے رکھنے، اس کی روح کو سمجھنے اور اس کے نور سے اپنی زندگی روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے