محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹ

۱۔ دوہزار کی رقم 
اس نے بھیک مانگتے قلمکار کو دیکھاتو اس کے اندر بہت کچھ ٹوٹ پھوٹ گیا۔ وہ خودبھی معروف قلمکار تھا۔
اس نے آگے بڑھ کر قلمکار کے جیب میں 2؍ہزارروپئے ٹھونسے اور اپنے جیب کاقلم اس کو دے کر کہا’’جابھائی۔۔۔۔اپناکام کر، لکھ ،ڈھیرسالکھ کہ دنیا کمینوں ، مادہ پرستوں اور قاتلوں کے نشانے پر ہے۔ عوام کوآواز دے ، جگاانھیںاپنے قلم سے، تو نہیں جگائے تو پھر عوام کو کون جگائے گا؟ تیرے سواکوئی عوام کواس کاحق دلانے والا کون ہوگا؟‘‘وہ بے اختیار روپڑا۔ بھیک مانگ رہے قلمکار کو خوشی تھی کہ اسے دوہزار کی رقم مل چکی ہے۔ آگے کی باتیں سمجھ میں نہیں آسکی۔ وہ اس شخص کو چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔
۲۔ افراتفری 
ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات کے درمیان جنگ شروع ہوچکی تھی۔ عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آرہاتھاکہ وہ کیاکرے ؟ کیایوں ہی مرجائے ؟ اچانک ہی ایک طویل آدمی ہراساں وپریشان افراد کے درمیان نکل آیا۔ اور لوگوں کو پریشان ہونے سے روکنے لگا۔ ایک شخص نے غصہ میں کہا’’تمہیں کیاپتہ جنگ کیاہوتی ہے ؟ تم لمبے آدمی ہو، تمہاری عقل تو گھٹنوںمیں ہوتی ہے ‘‘
طویل آدمی نے برامانے بغیر کہا’’بھائیو، جنگ کیاہوتی ہے یہ کسی کو نہیں پتہ ہوتا۔ خود لڑنے والے دونوں تینوں یا پوری دنیاکو پتہ نہیں ہوتاکہ جنگ کہاں لے جاتی ہے ۔کیوں کہ جنگوںکے پیچھے انسانوں کاازلی دشمن شیطان چھپاہوتاہے لہٰذا جنگ کے موقع پر اپنے ہواس درست رکھو۔ اللہ پر بھروسہ رکھو۔ ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘وہاں کے بھاگتے اور ہراساں ہوتے افراد کی سمجھ میں آیاکہ لمباآدمی تو ہمیں عقل دینے کی کوشش کررہاہے لیکن اس وقت وہ کیاکرسکتے تھے۔ افراتفری جاری ہے۔
۳۔ معصوم کردار 
’’سارے کردار اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں ، اسی لئے کہانی میں پختگی نہیں ہے‘‘ بتانے پر پوچھاگیاکہ ’’کیاآوارہ کردار پختہ ہوتے ہیں ‘‘ ڈائرکٹر نے کہا’’بالکل صحیح سوچ رہے ہو، آوارہ کردار ہی پختہ ہوتے ہیںجبکہ معصوم کردار وں کوبچہ کردار کہتے ہیں‘‘ ہنسوڑ مزاج پروڈیوسر نے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ ’’جب کہ ہماراسماج معصوم کرداروں سے ہی چلتاہے ‘‘ ڈائرکٹر نے زچ ہوتے ہوئے پروڈیوسرکی مداخلت پر کہا’’فلمیں معصوم کرداروں سے نہیں چلتیں۔ فلموں کے کردار بہادر،جیالے ، کئی افراد کا خون کرنے والے ہوتے ہیں، تب ہی ہمیں پیسہ ملتاہے ورنہ کروڑوں کی رقم ڈوب جاتی ہے ‘‘
۴۔ بے فکرعوام 
اُدھر جنگ شروع ہوچکی تھی اور ملک میںبدستور مآب لنچنگ جاری تھی۔ جو لوگ مآب لنچنگ میںمارے جارہے تھے ان کے طبقہ کے افراد اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ مآب لنچنگ پر قابو پانے کی تراکیب پر غور کرنے کے موڈ میں وہ ہرگز نہیں تھے۔اسلئے کوئی اس طبقہ کی سرگرمیوں کی طرف متوجہ بھی نہیں تھا۔بے فکر لوگوں کے حق میں اپنے کیمرے یااپناقلم صحافتی برادری نہیں اٹھاتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے