(افسانچہ)
از: الطاف آمبوری
چاند رات کا شور ہر طرف برپا تھا۔ بازاروں میں رونق تھی اور گھروں میں عید کی تیاریاں عروج پر تھیں۔
عادل نے اطمینان کی ایک گہری سانس لی۔ اُس نے آہستگی سے قرآنِ پاک کو خوبصورت مخملی غلاف میں لپیٹا، اُسے چوما اور الماری کے سب سے اونچے خانے میں رکھ دیا۔ پھر اُس نے جائے نماز کو تہہ کیا اور اُسے بھی اسی خانے میں قرآن کے پہلو میں رکھ دیا۔
"شکر ہے، اللہ کا حق ادا ہو گیا،” عادل نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا۔ "پورا مہینہ باقاعدگی سے تراویح پڑھی، روزے رکھے، تلاوت کی۔ اب اگلے سال تک چھٹی۔” اُس کے لہجے میں ایک عجیب سی ‘آزادی’ کا احساس تھا، جیسے کوئی بھاری بوجھ اُتر گیا ہو۔ وہ اب دوبارہ اپنی اُسی پرانی زندگی کی طرف لوٹنے کو تیار تھا جہاں نہ فجر کی فکر تھی اور نہ عشاء کی پرواہ۔
ابھی وہ الماری کا دروازہ بند کر ہی رہا تھا کہ اُس کی چھ سالہ بیٹی، جو دروازے میں کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی، معصومیت سے بولی:
"بابا! آپ نے جائے نماز اور قرآن اتنا اوپر کیوں رکھ دیا؟”
عادل مسکرایا اور پیار سے بولا، "بیٹا! اب رمضان ختم ہو گیا ہے نا۔ اب ہم اِنہیں اگلے رمضان میں نکالیں گے۔”
بچی نے حیرت سے اپنی بڑی بڑی آنکھیں پھیلائیں اور ایک ایسا سوال کیا جس نے عادل کے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔
"بابا! تو کیا اللہ میاں بھی صرف رمضان میں ہمارے پاس آتے ہیں؟ کیا وہ بھی عید کے بعد کہیں چلے جاتے ہیں؟ اگر کل ہمیں کوئی مشکل پیش آئی یا ہم مر گئے، تو کیا اللہ ہماری بات نہیں سنیں گے کیونکہ رمضان تو ختم ہو گیا؟”
عادل کا ہاتھ الماری کے ہینڈل پر ہی جم گیا۔ اُس کے کانوں میں بیٹی کے الفاظ گونج رہے تھے۔ اُسے اچانک احساس ہوا کہ وہ ‘ربِ رمضان’ کی عبادت کر رہا تھا، ‘ربِ کائنات’ کی نہیں۔
اُس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اُس نے فوراً الماری کھولی، جائے نماز واپس نکالی اور بیٹی کو گلے لگا کر روتے ہوئے بولا:
"نہیں بیٹا! اللہ کہیں نہیں جاتا۔ وہ ہمیشہ ہمارے پاس ہے، ہم ہی اُس سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔”
چاند رات کی رونق باہر جاری تھی، لیکن کمرے کے اندر عادل نے اپنی زندگی کا سب سے سچا سجدہ کیا وہ سجدہ جو عادت کا نہیں، ندامت کا تھا۔
