✍️ محمد شمیم احمد نوری مصباحی
خادم:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ،سہلاو شریف، باڑمیر(راجستھان)
عیدالفطر مسلمانوں کے لیے محض ایک تہوار نہیں بلکہ رحمتوں، مغفرتوں اور ربِ کریم کے انعامات کے ظہور کا مبارک دن ہے۔ یہ وہ مبارک ومسعود ساعت ہے جب ایک ماہ کی مسلسل عبادت، روزہ، تلاوت اور مجاہدۂ نفس کے بعد بندہ اپنے رب کے حضور سرخرو ہو کر حاضر ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کی رخصتی کے بعد عید کا چاند گویا اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے خوشیوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔
لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہماری عید صرف ظاہری خوشیوں، لباس و خوراک اور دنیاوی مصروفیات تک محدود رہنی چاہیے؟ یا ہمیں اس مبارک دن کو اس کے حقیقی روحانی پیغام کے ساتھ منانا چاہیے؟ آئیے اسی پہلو پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔
عید کی رات: مغفرت و انعام کی رات
عیدالفطر کی رات کو لیلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات کہا جاتا ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی کرم فرماتا ہے، ان کی عبادات کو شرفِ قبولیت بخشتا ہے اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ فرشتے اس رات خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور صبح کے وقت بندگانِ خدا کو ندا دیتے ہیں کہ آؤ اپنے رب کی بارگاہ میں، جو بے حساب عطا فرمانے والا اور بڑے بڑے گناہوں کو بخش دینے والا ہے۔
لہٰذا اس مبارک رات کو بے مقصد مصروفیات، بازاروں کی چہل پہل اور لہو و لعب میں ضائع کرنے کے بجائے ذکر و اذکار، نوافل، تلاوتِ قرآن اور دعا میں گزارنا چاہیے، تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو جائیں جن پر اللہ کی رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔
صدقۂ فطر: عید کی حقیقی روح
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو معاشرتی مساوات اور اجتماعی خوشی کا درس دیتا ہے۔ اسی لیے عیدالفطر کے موقع پر صدقۂ فطر کو واجب قرار دیا گیا تاکہ معاشرے کا کوئی فرد خوشیوں سے محروم نہ رہے۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صدقۂ فطر روزے دار کے لیے لغزشوں کا کفارہ اور محتاجوں کے لیے رزق کا ذریعہ ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ عید کی نماز سے پہلے اسے ادا کیا جائے تاکہ غریب و نادار افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
عید کا دن: سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق
عید کے دن کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق گزارنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ چند اہم اعمال درج ذیل ہیں:
فجر کی نماز باجماعت ادا کرنا،غسل کرکے صاف ستھرا لباس پہننا،خوشبو لگانا، عیدگاہ جانے سے پہلے طاق عدد میں کھجور یا کوئی میٹھی چیز کھانا،راستے میں تکبیرات پڑھنا:
الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد
یہ تمام اعمال نہ صرف سنت ہیں بلکہ ان میں روحانی سرور اور بندگی کا حسین امتزاج بھی پایا جاتا ہے۔
عید کی اصل خوشی کیا ہے؟
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے:
"عید اس کی نہیں جس نے نیا لباس پہنا، بلکہ عید اس کی ہے جو عذابِ آخرت سے محفوظ ہو گیا۔”
اسی طرح سیدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"حقیقی عید اس کی ہے جس کے گناہ معاف ہو گئے اور جس نے سچی توبہ کر لی۔”
گویا عید کی اصل خوشی اللہ تعالیٰ کی رضا، مغفرت اور قربِ الٰہی میں مضمر ہے، نہ کہ محض ظاہری زیب و زینت میں۔
عیدالفطر: ایک عملی رہنمائی (Checklist)
عید کی رات عبادت، دعا اور استغفار میں گزاریں،صدقۂ فطر بروقت ادا کریں،نمازِ عید کا اہتمام کریں،تکبیرات کا ورد جاری رکھیں
والدین، بزرگوں اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کریں،
یتیموں، مسکینوں اور محتاجوں کا خاص خیال رکھیں،صلہ رحمی اور معاف کرنے کا جذبہ اپنائیں،خوشی کے موقع پر بھی گناہوں سے بچیں-
عید کے دن کی عام غلطیاں’
آج کل عید کے موقع پر بعض غیر مناسب امور بھی دیکھنے میں آتے ہیں، جن سے بچنا ضروری ہے:
بے جا اسراف اور فضول خرچی،لباس و زیورات پر فخر و نمائش،غیر محرم مرد و خواتین کا بے پردہ اختلاط، موسیقی، فلموں اور بے حیائی میں وقت کا ضیاع۔
نمازِ عید میں سستی یا غفلت-
یاد رکھیے! اگر ہماری عید اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں گزر جائے تو یہ خوشی نہیں بلکہ محرومی ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ عیدالفطر ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو تقویٰ، اخلاص، محبت اور خدمتِ خلق سے آراستہ کریں۔ یہ دن صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ اپنے اندر ایک نئی روحانی زندگی پیدا کرنے کا موقع ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں عید منانے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری عبادات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل کرے جن کے لیے یہ دن دنیا و آخرت دونوں میں سعادت و کامیابی کا ذریعہ بن جائے۔
آمین یا رب العالمین، بجاہ سید المرسلین ﷺ
