محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک

۱۔ نظر 
وہ سوچ رہاتھا، اگرترقی یافتہ اے آئی (آرٹی فیشل انٹلی جنسی؍مصنوعی ذہانت) انسانوں کے درمیان لاکرمکمل طورپر کھڑا کردیاگیاتو پھر خود اس دنیا کو انسانوں کی کتنی ضرورت رہے گی ؟سارے کام جب اے آئی کرے گاتو پھر انسان کیاکرے گا؟پچھلے پندرہ دن سے اس کا سر یہی سوچ کر پھٹاجارہاتھا۔ اسکی اکلوتی بہن اپنے اکلوتے بھائی کو حوصلہ دیتی کہ’’ بھیا، ایسا نہیں ہوگاکہ انسان ناکارہ ہوجائے۔ دنیا بنی ہی انسان کے لئے ہے، انسان ہی دنیا کامرکز ہے وغیرہ وغیرہ‘‘ ۔ایک دن بہن نے اس کو سمجھاتے ہوئے کہا’’انسان جب ناکارہ ہوجائے گاتو پھریہ دنیا ختم ہوجائے گی‘‘
وہ جو لیٹاہواتھا، اچانک’’ وہی تو وہی تو‘‘ کہتاہوا اٹھ بیٹھا۔ اور کہنے لگا’’وہی تو کہہ رہاہوں کہ دنیا کاخاتمہ کہیں قریب تو نہیں ہے ؟‘‘ اس کے اس سوال سے بہن ڈر گئی۔ پھر اس نے دل گھٹ کرکے کہا’’کوئی بات نہیں بھیا۔ دنیا اگر ختم ہوجائے گی تو کیاہوا، اُخروی دنیا تو ملے گی ، یہ دنیا تو چار دن کی ہے نا؟وہاں ہمیں جنت ملے گی جنت ‘‘ بہن کی بات سن کر وہ ڈرگیاکہ کیااس دنیا کو چھوڑ کر جاناپڑے گا؟ عجیب سچویشن تھی بھائی بہن کی ۔درست با ت ہے کہ جب دلوں میںکسی چیزکا خوف بیٹھ جاتاہے تو کہہ نہیں سکتے کہ انسان پر کیاگزرتی ہے ۔ بھائی نے تو جنت ملنے کی بات پر بھی توجہ نہیں دی تھی۔ ہائے افسوس ، انسان کی سوچ کو آخر کیاہوگیاہے ۔اس کو کسی کی نظر تو نہیں لگ گئی؟ دنیاسے اس قدر محبت ؟
۲۔ بہادری کی بات 
والد نے پیٹھ تھپتھپائی اور کہا’’میر ابیٹا روزہ رکھ رہاہے ۔ تیرہ گھنٹے کاروزہ رکھنا بڑی بات ہوتی ہے ‘‘ والد کے دوستوں نے بھی بچے کی خوب خوب تعریف کی ۔ بچہ کچھ کہناچاہتاتھالیکن والد نے ہاتھ دبادیا۔وہ خاموش ہوگیا۔ والد کے دوستوں کے چلے جانے کے بعد بچے نے کہا’’ابوجی ، مجھے روزہ محسوس ہی نہیں ہوتا‘‘ والد خوش ہوگئے۔ ’’الحمد للہ ، میرابیٹا بہادر ہے ‘‘ بچے نے ایک طرح سے ناراض ہوتے ہوئے کہا’’ابو جی ، آپ بات سنتے نہیں ہیں، سننے سے پہلے ہی میری تعریف کردیتے ہیں ‘‘ والد نے کہا’’ہاں بتاؤ ، کیابات ہے ؟ویسے تم ہوتعریف کے قابل ہی‘‘ بچے نے دھیمے لہجے میں کہا’’میں سحری کرکے سوجاتاہوں ، صبح دس بجے اٹھتاہوں ۔ دوتین گھنٹے گھر ہی میں پڑھنے کے بعد ایک دیڑھ بجے ظہر پڑھ کر پھر سوجاتاہوں ۔ امی مجھے زبردستی سلادیتی ہیں یہ کہہ کرکہ قیلولہ کرناضروری ہے۔ پھر پانچ بجے اٹھتاہوں ۔ دیڑھ گھنٹہ بعد روزہ کھل جاتاہے۔ اس طرح میراروزہ تو ساڑھے چار پانچ گھنٹے کاہوانا۔ اس میں بہادری کی کون سی بات ہے ؟‘‘
والد صاحب سوچ رہے تھے ، بچہ غلط نہیں کہہ رہاہے۔ بہادری کی بات تو نہیں ہے ۔
۳۔ بہرے لوگ 
انسان اس طرف محنت کررہے ہیں اور دوسری جانب نئے نئے نام سے مشینیں آئی ہوئی ہیں اور وہ اپناپرفارمنس بہتر کرنے کی فکر میں ہیں۔ انسان سوچ رہاہے کل تک میرامقابلہ انسان سے تھا۔ لیکن آج کل میںمشینوں سے مقابلہ کرنے پر مامور کردیاگیاہوں ۔ اتناذلیل پہلے نہیں ہواتھا۔ مشینوں کی آمد کے ساتھ ہی بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے۔ کیاانسان واقعی انسان کا دشمن ہے کہ بے روزگاری کو بڑھتاہوادیکھنا چاہتاہے ؟ جواب ندارد تو نہیں ہے لیکن اس جواب کوکمزور اور محنت کش انسان سننا نہیں چاہتا۔بہرہ بن کر زندگی گزارنااچھالگتاہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے