محمد عبید اللہ شریف
مدیر اعلیٰ روزنامہ پاسبان بنگلورو
دنیا کا سب سے بڑا ڈکٹیٹر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دنیا کا سب سے خطرناک وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی غنڈہ گردی عروج پر ہے۔ ان دونوں مل کرآخر کار ایران کے سپریم لیڈر اور روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای سمیت کئی سینئر لیڈروں کو قتل کر کے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ دنیا میں امن و امان نہیں طاقتور ممالک کی غنڈہ گردی چلے گی۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایران کے بہت قریبی مانے جانے والے ہندوستان کے وزیر اعظم نے امریکہ کے دباؤ میں آکر نہ صرف یہ کہ اسرائیل کا دورہ کیا بلکہ وہاں اسرائیل کے ساتھ ہر طرح کی ہمدردی اور اس کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان کیا لیکن وہیں اسرائیلی مظالم کے شکار فلسطینیوں کا ذکر تک نہیں کیا۔ کیا کہا جائے کہ ایران پر حملہ میں امریکہ و اسرائیل کے علاوہ کوئی اور ملک بھی شامل ہے۔ ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائی میں ان کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا، اسرائیلی دعوے کے مطابق اس دوران خامنہ ای بھی وہیں موجود تھے۔ اس اندوہناک خبر کے بعد ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا وہیں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اب امریکہ اور اسرائیل پر خطرناک حملے کئے جائیں گے۔ ہندوستان سمیت اکثر دنیا میں امریکہ اور اسرائیل کے مظالم کے خلاف احتجاجات ہو رہے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کو سنگ دلانہ قتل قرار دیا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق پوتن نے کہا کہ یہ واقعہ انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اپنے پہلے سرکاری بیان میں انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو روسی وفاق میں ایک نمایاں مدبر رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ میزائل حملوں کے بعد کشیدگی عروج پر ہے۔ علی خامنہ ای 1939 میں ایران کے شہر مشہد میں ایک مقامی مذہبی رہنما، جواد خامنہ ای کے گھر میں پیدا ہوئے اور انہوں نے نسبتاً غربت میں پرورش پائی، وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ انہوں نے مشہد میں ایک مدرسے میں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عراق کے شہر نجف سے فقہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں وہ آیت اللہ خمینی کے طالب علم تھے۔ وہ ایرانی ریاست کے طاقت کے مراکز میں مرکزی حیثیت رکھنے کے لیے مشہور رہے، بطور رہبر اعلیٰ، خامنہ ای کو کسی بھی حکومتی معاملے میں ویٹو کی طاقت حاصل رہی، اس کے علاوہ ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ جس کو چاہیں، کسی بھی عوامی دفتر کے امیدوار کے طور پر منتخب کر سکتے تھے۔ ریاست کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر ان چیف ہونے کے ناطے، وہ ایران کے سب کے طاقتور شخص کے طور پر جانے جاتے تھے۔ خامنہ ای کی شاعری میں دلچسپی ان کی عوامی شخصیت کا ایک معروف حصہ ہے، وہ اکثر اپنی تقریروں میں اشعار کا حوالہ دیتے تھے اور مشاعروں کی میزبانی کرتے تھے جہاں حکومت حامی شاعر اپنے اشعار پڑھتے اور ان کے تبصرے وصول کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ مذہبی علما میں خامنہ ای کی ادب میں دلچسپی کافی نایاب ہے، باغبانی میں ان کی دلچسپی کا بھی یہی حال تھا۔ ایرانی سپریم لیڈر کی موت پورے مشرق وسطیٰ کے پاور ڈائنامکس کو تبدیل کر سکتی ہے اور ایران کے لیے ایک ایسا نقصان ثابت ہو سکتی ہے جس کی بھرپائی نہیں کی جا سکتی۔ علی خامنہ ای نے 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد اسلامی جمہوریہ کی کمان سنبھالی تھی۔ آیت اللہ خمینی ایک کرشماتی رہنما تھے جنہوں نے ایک دہائی قبل اسلامی انقلاب کی قیادت کی تھی۔ خمینی اس انقلاب کے پیچھے کارفرما نظریاتی قوت تھے جس نے پہلوی بادشاہت کا خاتمہ کیا، لیکن خامنہ ای ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے وفوجی اور نیم فوجی نظام تشکیل دیا جو ایران کو اس کے دشمنوں سے بچاتا ہے اور اس کی سرحدوں سے باہر بھی اس کا دفاع کرتا ہے۔ علی خامنہ ای آج نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے شیعہ مسلمانوں کے رہنما مانے جاتے تھے، جبکہ حال ہی میں فلسطین کے حوالے سے ان کے موقف کے بعد سنی مسلمانوں میں بھی ان کی مقبولیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا۔ ان کی زندگی اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک شخصیت کے طور پر جانی جاتی رہے گی۔ 1960 کی دہائی سے شاہ کے خلاف مظاہروں میں سرگرم رہنے کی وجہ سے خامنہ ای کو کئی بار جیل بھی جانا پڑا۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد انہوں نے اہم کردار ادا کیا، وہ انقلابی کونسل کے رکن، نائب وزیر دفاع، کچھ عرصے کے لیے آئی آر جی سی کمانڈر اور ایران یرغمالی بحران کے مذاکرات میں اہم شخصیت رہے۔ انہوں نے ایران۔ عراق جنگ کے دوران ایران کے تیسرے صدر (1981-1989) کے طور پر کام کیا۔ 1989 میں خمینی کی وفات کے بعد ماہرین کی اسمبلی نے خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا اور وہ 36 سال سے زائد عرصے تک اس عہدے پر فائز رہے۔ خامنہ ای نے ملکی ایٹمی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھایا، جس پر امریکہ اور اسرائیل سے مسلسل تصادم ہوا، 2018 میں ٹرمپ کے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی ہتھیاروں کے درجے کے قریب تک پہنچادی۔ اندرون ملک، سیاسی جبر اور معاشی بدحالی کے باعث خامنہ ای کو 1997، 2009، 2019 اور 2022 میں مہسا امینی کی موت پر بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا جنہیں سیکیورٹی فورسز نے انتہائی سختی سے کچل دیا۔ دسمبر 2025 کے اواخر میں 9 کروڑ آبادی والے اس ملک میں دوبارہ شدید معاشی مظاہرے شروع ہوئے جس میں کھلے عام اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ 28 فروری 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فوجی آپریشن کرتے ہوئے ایران کی ایٹمی، میزائل اور قیادت کے مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں جس میں فضائی حملے اور میزائل بیراج شامل تھے، تہران میں خامنہ ای کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا جس میں وہ شہید ہو گئے۔ ایران نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ خامنہ ای کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی۔
