تعلیم، سماجی ہم آہنگی اور نئی نسل کی رہنمائی پر ایک فکر انگیز گفتگو
ممبئی(7مارچ): ممبئی کی سماجی، تعلیمی اور کاروباری دنیا میں ایک معتبر نام کے طور پر پہچانے جانے والے آصف فاروقی ان شخصیات میں شامل ہیں جو تجارت کے ساتھ ساتھ سماجی اور تعلیمی میدان میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ممبئی کی قدیم اور باوقار تعلیمی و سماجی ادارتی انجن۔ اسلام سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ملک کی دو اہم جامعات انجمن اسلام اور
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی سینیٹ کے سرگرم رکن رہ چکے ہیں۔ سیاسی میدان میں بھی وہ متحرک ہیں اور انڈین نیشنل کانگریس ممبئی کے سینئر رکن اور جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
رمضان المبارک کے موقع پر انہوں نے تعلیم، مسلم معاشرے کی موجودہ صورتِ حال، نئی نسل کی رہنمائی اور سماجی ذمہ داری کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک محض عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ یہ انسان کی روحانی تربیت اور سماجی شعور کو بیدار کرنے کا ایک جامع موقع ہے۔
آصف فاروقی کا کہنا ہے کہ ایک کاروباری شخص کی حیثیت سے ان کی زندگی مصروفیات سے بھرپور رہتی ہے، مگر اس کے باوجود وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ رمضان المبارک میں اپنی روزمرہ کی زندگی کو زیادہ منظم اور بامقصد بنائیں۔ ان کے مطابق رمضان انسان کو وقت کی قدر، نظم و ضبط اور اپنی ذات کے محاسبے کا درس دیتا ہے۔
وہ کہتے ہیں، “رمضان المبارک دراصل روحانی اصلاح کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں انسان اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ وہ معاشرے کے لیے کیا بہتر کر سکتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں صبر، برداشت، شکرگزاری اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔”
ان کا کہنا ہے کہ رمضان کی اصل روح صرف روزہ رکھنے یا عبادات تک محدود نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد انسان کے اندر ہمدردی اور انسانیت کے جذبات کو بیدار کرنا ہے۔ جب انسان خود بھوک اور پیاس کا احساس کرتا ہے تو اسے معاشرے کے ان لوگوں کی تکلیف کا بھی احساس ہوتا ہے جو سال بھر مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
اپنی زندگی کی یادگار یادوں کا ذکر کرتے ہوئے آصف فاروقی نے ایک دلچسپ اور متاثر کن واقعہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کئی مواقع پر برصغیر کے عظیم اداکار دلیپ کمار اور ان کی اہلیہ سائرہ بانو کے ساتھ رمضان کے دوران وقت گزارنے کا موقع ملا۔
وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وقت وہ عمر میں ان دونوں سے کافی چھوٹے تھے، مگر دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی شفقت اور محبت نے انہیں ہمیشہ متاثر کیا۔ “دلیپ صاحب نہایت محبت سے پوچھتے تھے کہ روزہ کیسا جا رہا ہے۔ وہ ہمیشہ صحت کا خاص خیال رکھنے کی نصیحت کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ عبادت کے ساتھ اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔”
آصف فاروقی کے مطابق ان ملاقاتوں کی سب سے خوبصورت بات یہ ہوتی تھی کہ جب بھی وہ لوگ اکٹھے ہوتے تو دلیپ کمار اور سائرہ بانو افطار کے انتظامات کے بارے میں خود پوچھتے اور اس بات کا خیال رکھتے کہ سب لوگ آرام سے اور خوشگوار ماحول میں روزہ افطار کریں۔
ان کے بقول یہ رویہ رمضان کی اصل روح کی بہترین مثال تھا۔ “رمضان صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور محبت بانٹنے کا بھی مہینہ ہے۔ دلیپ صاحب اور سائرہ جی کے رویے میں یہی خوبصورت پیغام نظر آتا تھا۔”
رمضان کے سماجی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے آصف فاروقی کہتے ہیں کہ اس مہینے میں معاشرے کے ہر فرد کو اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر رمضان کے اثرات انسان کی زندگی اور کردار میں نظر نہ آئیں تو پھر اس کی روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
مسلمانوں کی موجودہ سماجی صورتِ حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج مسلم معاشرے میں مختلف رجحانات اور طبقات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو جدید تعلیم اور جدید طرزِ زندگی کی طرف بڑھ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے افراد بھی ہیں جو دینی روایات سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ ہیں۔
ان کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ “جدید تعلیم بھی ضروری ہے اور دینی شعور بھی۔ اگر ان دونوں کو ساتھ لے کر چلیں تو ایک متوازن اور مضبوط معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔”
نوجوان نسل کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے آصف فاروقی کہتے ہیں کہ آج کے نوجوانوں میں دین کے حوالے سے مختلف رجحانات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کچھ نوجوان باقاعدہ دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور مذہبی معاملات میں سنجیدگی دکھا رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات حاصل کرنے پر اکتفا کر لیتے ہیں۔
وہ اس رجحان کو تشویش کے ساتھ دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ محض گوگل یا سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی معلومات ہمیشہ مکمل یا مستند نہیں ہوتیں۔ “اسلامی علوم کا ایک وسیع اور مستند ذخیرہ اردو زبان میں موجود ہے۔ فقہ، تفسیر اور حدیث کی بے شمار کتابیں اردو میں دستیاب ہیں۔ اگرچہ ان کا ترجمہ دوسری زبانوں میں بھی کیا جا رہا ہے، لیکن بعض اوقات ترجمے کے دوران مفہوم میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مستند علماء اور تعلیمی اداروں سے رہنمائی حاصل کریں۔”
تعلیم کے حوالے سے آصف فاروقی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے پچھلے چند برسوں میں تعلیمی میدان میں کچھ پیش رفت ضرور کی ہے، لیکن ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر بنیادی تعلیم پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔
ان کے مطابق تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے۔ “اگر تعلیم کے ساتھ اخلاقیات نہ ہوں تو معاشرہ مضبوط نہیں بن سکتا۔ بزرگوں کا احترام، چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور معاشرتی ذمہ داری کا احساس ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔”
آصف فاروقی کا کہنا ہے کہ آج کا دور تیزی سے بدل رہا ہے۔ انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ اس ماحول میں نوجوانوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
وہ کہتے ہیں، “ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات بہت ہیں لیکن رہنمائی کم ہے۔ ایسے میں قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جو انسان کو صحیح راستہ دکھا سکتی ہے۔ اگر نوجوان قرآن کو اپنی زندگی کا رہنما بنا لیں تو وہ فکری انتشار سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔”
سماجی فلاح و بہبود کے حوالے سے بھی آصف فاروقی کا کہنا ہے کہ مسلم معاشرے کو اس میدان میں زیادہ فعال ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق تعلیم کے ساتھ ساتھ رفاہی سرگرمیوں کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ غریب طلبہ کی مدد، تعلیمی اداروں کی سرپرستی، صحت کے مراکز کا قیام اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ایسے اقدامات ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
آصف فاروقی اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اسلام امن، اخلاق اور انسانیت کا پیغام دیتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ دعا گو ہوں کہ رمضان المبارک ہم سب کے لیے امن، صحت، اتحاد اور برکتوں کا ذریعہ بنے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے اور معاشرے میں خیر و بھلائی کے کاموں کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اگر ہم رمضان کی روح کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یقیناً ہمارا معاشرہ زیادہ مضبوط، متحد اور ترقی یافتہ بن سکتا ہے۔

