امریکہ، اسرائیل اور ایران کے جنگ کی آنچ ہندوستان تک بھی پہنچنے لگی ہے۔
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے ہندوستانی بھی متاثر ہو رہے ہیں۔جنگ جاری ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے اس کی آنچ ہندوستان تک بھی پہنچنے لگی ہے۔
سوچیے یہ جنگ اگر طویل مدت اختیار کرتی ہے تو پوری دنیا میں کتنا کہرام بپا ہوگا اس کا اندازہ لگا نا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگا۔
جہاں ایک طرف کچھ ہندوستانی کھل کر امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں تو دوسرے ایران کی حمایت کر رہے ہیں۔ لیکن ہر کوئی یہ بھول رہا ہے کہ جنگ پورے عالم انسانیت کے لیے خطرہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ جنگ انسانی وجودکا کھلہ دشمن بھی ہے۔جنگ کے ذریعےکوئی ملک تو جیتا جا سکتا ہے مگرکئی معصوم ننھی جانوں کو قربان کر انسانیت کا جنازہ نکالنے والےقاتلوں کاسر کبھی سرنگو ں نہیں ہو سکتا ہے۔اس کے دور رس اور سنگین نتائج کا اندازہ اس بات سےہی لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے ہر شہر میں اب گیس کی قلت ابھی سے دکھنے لگی ہے۔
گیس ایجنسیوں نے بلیک مارکیٹنگ کا دھندہ زوروں پر شروع کر دیا ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کے بار بارتنبیہ کرنے کے باجود بھی ان گیس ایجنسیوں کا رویہ بدستور جاری ہے اور ان کے کان پر جوں تک رینگنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ضلع ہیڈ کوارٹر پر گیس لینے والوں کاہجوم، گیس ایجنسی کا روزانہ چکر کاٹنا اور گیس ایجنسی کے گوداموں پر لگے تالے حکومت اور انتظامیہ کےحکم کی عدولی اوران کا کھلامذاق اڑاتے نظر آرہے ہیں۔اتنا ہی نہیں گیس ایجنسیوں کے ذریعے ناجائز رقم کی ڈمانڈ بھی کی جا رہی ہے اور زبردستی گیس پائپ کے نام پور دو سو روپئے بھی چارج کیے جا رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک بتایا کہ گیس سبسڈی کا پیسہ بھی ایجنسی ہڑپ لے رہی ہے جس کی وجہ سے گیس سبسڈی کا پیسہ بھی لوگوں کے کھاتے میں نہیں آ رہا ہے۔اس طرح گیس ایجینسیاں پوری طرح آج کل من مانی پر اتر آئی ہیں۔یہاں تک کہ گیس کی گاڑی کو گیس گودام کے احاطے میں کھڑا کرگیٹ پر گیس ایجنسی کے ورکروں نے تالا لگا دیا ہے جس سے عوام گودام کی اور گیس کے گاڑی کی جانچ نہ کر سکیں۔
کچھ لوگوں نے اس کے متعلق حکومت اور انتظامیہ کو شکایتی خطوط لکھ کر گیس کی قلت اورتمام مسئلے سے آگاہ کیا ہے تاہم گیس کا حصول تاحال ان کے لیے مشکل کام ثابت ہو رہا ہے۔
اس حوالے سے جب گیس ایجنسی کے مالک سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے فون نہیں اٹھایا اور نہ ہی ڈسٹرکٹ سپلائی آفیسر سے ہی رابطہ ہو سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے