افتخاراحمدقادری

موجودہ عالمی سیاست اس حقیقت کی غماز ہے کہ دنیا اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران محض مقامی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کے معاشی اور سیاسی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ جدید عالمی نظام میں توانائی کے وسائل، تیل و گیس کی ترسیل اور معاشی استحکام باہم اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ کسی بھی جنگ یا سیاسی کشیدگی کا پہلا اثر توانائی کی قیمتوں اور عوامی زندگی پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بڑا تنازع پیدا ہوتا ہے تو اس کے ارتعاشات دنیا کے دیگر ممالک تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ آج اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی اور جنگی ماحول نے عالمی منڈیوں کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام سے دو چار کر دیا ہے جس کے اثرات بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بھارت کی معیشت بڑی حد تک توانائی کے بیرونی ذرائع پر منحصر ہے۔ ملک کی بڑی آبادی روزمرہ زندگی میں ایل پی جی گیس، پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتی ہے۔ جب عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومتِ ہند کی جانب سے گھریلو گیس کی قیمتوں میں اچانک اضافہ اور ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کے درمیانی وقفے کو بڑھانے کا فیصلہ اسی عالمی تناظر کا ایک حصہ ہے۔

   مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب صارفین گھریلو گیس سلنڈر 21 دن کے بجائے 25 دن بعد ہی بک کر سکیں گے۔ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ یہ فیصلہ ایل پی جی کے اضافی ذخائر کو برقرار رکھنے اور ممکنہ کالابازاری کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ انتظامی اور حفاظتی نوعیت کا معلوم ہوتا ہے لیکن سیاسی اور معاشی حلقوں میں اس پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق حکومت کا یہ قدم دراصل اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی جنگی حالات کے باعث توانائی کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ مغربی ایشیا میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس خطے کو دنیا میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر اور ترسیلی راستوں کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ جب بھی اس علاقے میں جنگی ماحول پیدا ہوتا ہے تو تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور توانائی کی عالمی سپلائی غیر یقینی صورتحال سے دو چار ہو جاتی ہے۔ یہی صورتحال اس وقت بھی دیکھنے میں آ رہی ہے جس کے نتیجے میں بھارت میں گھریلو گیس کی قیمتوں میں یکدم 60 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد 14.2 کلو گرام والے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 879 روپے سے بڑھ کر 939 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ نئی قیمت فوری طور پر نافذ بھی کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کا اثر صنعتوں، بجلی گھروں اور دیگر شعبوں پر پڑنا ناگزیر ہے۔ یوں یہ محض ایک سلنڈر کی قیمت میں اضافہ نہیں بلکہ اس کے اثرات معیشت کے مختلف طبقات تک پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس سے قبل عوام کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور ملک کی ریفائنریوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ پیداوار میں اضافہ کریں تاکہ کسی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔ لیکن عالمی سیاسی حالات نے ان تمام دعووں کو ایک حد تک غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں کے بڑھنے اور ترسیل کے خدشات نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ داخلی سطح پر قیمتوں میں اضافہ کرے اور گیس کی فراہمی کو منظم کرنے کے لیے نئے اقدامات اختیار کرے۔ یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف عالمی حالات ہی اس بحران کے ذمہ دار ہیں یا داخلی پالیسیوں میں بھی کہیں نہ کہیں کمزوریاں موجود ہیں؟ سیاسی مبصرین کے نزدیک بھارت کی توانائی پالیسی ابھی تک بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتی ہے جس کی وجہ سے عالمی بحرانوں کے اثرات ملک کے اندر براہِ راست منتقل ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی اور بایو فیول کو فروغ دینے کی کوششیں کی ہیں لیکن ابھی تک یہ ذرائع اتنے مضبوط نہیں ہو سکے کہ تیل و گیس پر انحصار کو مکمل طور پر کم کر سکیں۔ اسی پس منظر میں عوام کے ذہنوں میں مختلف سوالات گردش کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں کمی واقع ہو سکتی ہے؟ اگر ایسا ہوا تو اس کا اثر نہ صرف گھریلو استعمال بلکہ صنعتوں، ٹرانسپورٹ اور روزگار کے مواقع پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دوسرا خدشہ یہ ہے کہ اگر سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو کہیں کالابازاری اور ذخیرہ اندوزی میں اضافہ نہ ہو جائے جو پہلے بھی کئی مواقع پر عوام کے لیے مشکلات کا باعث بن چکی ہے۔ حکومت نے بکنگ کے درمیانی وقفے کو بڑھا کر 25 دن کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اسے اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے گیس کے استعمال کو منظم کیا جا سکے گا اور ذخائر کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھا جا سکے گا۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دراصل اس بات کی علامت ہے کہ حکومت ممکنہ قلت کے خدشات کو محسوس کر رہی ہے اور اسی لیے پہلے سے احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو توانائی کی قیمتیں ہمیشہ حکومتوں کے لیے ایک حساس مسئلہ رہی ہیں۔ مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عوامی ناراضی کو جنم دیتا ہے اور اس کے اثرات سیاسی فضا پر بھی پڑتے ہیں۔ بھارت جیسے جمہوری ملک میں جہاں کروڑوں لوگ متوسط اور نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست عوامی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے کو سیاسی بحث کا موضوع بنا رہی ہیں اور حکومت سے وضاحت طلب کر رہی ہیں۔ دورِ حاضر کی سیاست میں توانائی کا مسئلہ محض معاشی نہیں بلکہ تزویراتی اور جغرافیائی سیاسی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں توانائی کے وسائل اور ان کی ترسیل کے راستوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی بھی اسی عالمی طاقت کے کھیل کا ایک حصہ سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں بھارت جیسے ممالک کو اپنی توانائی پالیسی کو مزید مضبوط اور متنوع بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی بحرانوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی جنگی ماحول میں صرف قیمتوں کا بڑھنا ہی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ سپلائی چین کا عدم استحکام بھی ایک بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔ اگر تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو جائے تو اس کا اثر پورے معاشی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ صنعتیں متاثر ہوتی ہیں، ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے اور بالآخر مہنگائی کا بوجھ عوام کے کندھوں پر آ پڑتا ہے۔ آج کی دنیا میں توانائی کو اکثر نئی سیاست کا ایندھن کہا جاتا ہے۔ جس ملک کے پاس توانائی کے وسائل زیادہ ہوتے ہیں وہ عالمی سیاست میں زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کے گرد گھومنے والی سیاست روز بروز پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ بھارت کے لیے بھی یہ ایک اہم لمحہ ہے کہ وہ اپنی توانائی کی حکمت عملی کو نئے سرے سے مرتب کرے اور داخلی وسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے امکانات تلاش کرے۔ موجودہ صورتحال میں عالمی سیاست اور مقامی معیشت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان ہزاروں میل دور ہونے والی جنگ کا اثر جب بھارت کے ایک عام گھر کے باورچی خانے تک پہنچ جاتا ہے تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جدید دنیا ایک باہم جڑی ہوئی حقیقت بن چکی ہے۔

اگر حکومت توانائی کے ذخائر کو محفوظ رکھنے اور عوام کو ممکنہ بحران سے بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتی ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہوگا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ عوام کو بھی شفاف انداز میں صورتحال سے آگاہ رکھا جائے تاکہ بے چینی اور افواہوں کو فروغ نہ ملے۔ کیونکہ سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کسی بھی بحران سے نمٹنے کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ توانائی کے مسئلے کو وقتی انتظامی فیصلوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ایک طویل المدتی قومی حکمت عملی کے تحت اس کا حل تلاش کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہر عالمی بحران کے ساتھ بھارت کی معیشت اور عوامی زندگی اسی طرح عدم استحکام کا شکار ہوتی رہے گی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال صرف ایک معاشی خبر نہیں بلکہ دورِ حاضر کی عالمی سیاست، توانائی کی حکمت عملی اور عوامی زندگی کے باہمی تعلق کی ایک واضح مثال ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت اس بحران کو کس حد تک مؤثر طریقے سے سنبھالتی ہے اور کیا وہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔

  ان حالات کے پس منظر میں ایک بنیادی سوال بار بار ابھر کر سامنے آتا ہے کہ آخر اس مسلسل مہنگائی اور معاشی دباؤ کو عوام کب تک برداشت کرتے رہیں گے؟ کسی بھی جمہوری نظام میں حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہوتی ہے کہ وہ عوام کی بنیادی ضروریات کو آسان اور قابلِ برداشت بنائے۔ خوراک، رہائش اور ایندھن جیسی بنیادی ضروریات اگر مہنگائی کی زد میں آجائیں تو اس کا براہِ راست اثر عوامی زندگی کے ہر پہلو پر پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں بھارت میں مہنگائی کا مسئلہ ایک مستقل معاشی اور سیاسی بحث کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ گیس، پیٹرول اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی زندگی کو دن بہ دن مشکل بنا رہا ہے۔ ایل پی جی گیس جو کبھی متوسط طبقے کے لیے سہولت کی علامت سمجھی جاتی تھی آج بہت سے گھرانوں کے لیے ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے طبقات میں پہلے ہی معاشی دباؤ موجود ہے اور جب گیس سلنڈر کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ اثر انہی طبقات پر پڑتا ہے۔ بہت سے گھرانے ایسے بھی ہیں جو مہنگائی کے باعث دوبارہ لکڑی اور کوئلے جیسے روایتی ایندھن کی طرف لوٹنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ نہ صرف ماحولیاتی اور صحت کے مسائل کو جنم دیتا ہے بلکہ اس سے خواتین اور بچوں کی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے جو گھریلو کاموں میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مہنگائی صرف مالی دباؤ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے سماجی اور انسانی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ جب کسی گھر کے سربراہ کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے تو ذہنی دباؤ اور مایوسی بڑھنے لگتی ہے۔ بعض اوقات یہی دباؤ ایسے افسوسناک واقعات کا سبب بھی بن جاتا ہے جن میں لوگ شدید پریشانی کے باعث اپنی جان تک گنوا بیٹھتے ہیں یا صحت کے مسائل میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ معاشی تنگی اور بے یقینی کا ماحول کسی بھی معاشرے کے لیے ایک خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ترقی، خود کفالت اور معاشی استحکام کے بڑے بڑے وعدے کیے تھے۔ عوام نے بھی ان وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے امید باندھی تھی کہ ملک کی معیشت مضبوط ہوگی اور عام آدمی کی زندگی آسان ہو جائے گی۔ لیکن موجودہ حالات میں جب گیس، پیٹرول اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں تو عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا واقعی وہ معاشی استحکام حاصل ہو سکا ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر مہنگائی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اس کے اثرات نہ صرف معاشی میدان میں بلکہ سیاسی میدان میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں عوامی صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ لوگ وقتی مشکلات کو برداشت کر لیتے ہیں اگر انہیں یہ یقین ہو کہ مستقبل میں حالات بہتر ہوں گے لیکن اگر مہنگائی مستقل شکل اختیار کر لے اور حکومت کی طرف سے کوئی واضح اور مؤثر حکمت عملی سامنے نہ آئے تو عوامی بے چینی بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھارت کے مختلف حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ حکومت کو توانائی اور مہنگائی کے مسئلے پر ایک جامع اور دیرپا پالیسی اختیار کرنی چاہیے تاکہ عوام کو مسلسل بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ سے نجات مل سکے۔ یاد رکھیں کہ عالمی حالات ہمیشہ کسی حکومت کے اختیار میں نہیں ہوتے۔ جنگیں، بین الاقوامی کشیدگیاں اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ ایسے عوامل ہیں جن سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن ایک ذمہ دار حکومت کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ ان حالات کے اثرات کو اپنے عوام تک کم سے کم منتقل ہونے دے۔ اگر مناسب منصوبہ بندی، شفاف پالیسی اور بروقت فیصلے کیے جائیں تو عالمی بحرانوں کے باوجود عوام کو بڑی حد تک تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے حکومت وقتی اقدامات تک محدود نہ رہے بلکہ توانائی کے بحران اور مہنگائی کے مسئلے کو ایک وسیع قومی تناظر میں دیکھے۔ متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور داخلی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنا وہ اقدامات ہیں جو مستقبل میں ایسے بحرانوں کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھا جائے کیونکہ کسی بھی جمہوری حکومت کی اصل طاقت اس کے عوام ہی ہوتے ہیں۔ بالآخر یہی کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات بھارت کی سیاسی اور معاشی قیادت کے لیے ایک اہم آزمائش کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ آزمائش صرف معاشی اعداد و شمار کی نہیں بلکہ عوامی فلاح اور حکمرانی کی صلاحیت کی بھی ہے۔ اگر حکومت اس بحران کو سنجیدگی اور دور اندیشی کے ساتھ حل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف معیشت کے لیے بلکہ سیاسی استحکام کے لیے بھی مثبت ثابت ہوگا۔ لیکن اگر مہنگائی اور معاشی دباؤ اسی طرح بڑھتا رہا تو عوام کے ذہنوں میں یہ سوال مزید شدت اختیار کرے گا کہ آخر وہ اس بوجھ کو کب تک برداشت کرتے رہیں گے۔ یہی سوال اس پورے منظرنامے کا سب سے اہم پہلو ہے۔ کیونکہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوام کی زندگی، ان کا سکون اور ان کی بنیادی ضروریات ہی وہ معیار ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر کسی حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہی حقیقت سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آ رہی ہے اور آنے والا وقت ہی یہ بتائے گا کہ حکومت اس چیلنج کا مقابلہ کس حد تک مؤثر طریقے سے کر پاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کریم گنج، پورن پور، پیلی بھیت، مغربی اترپردیش 

   (مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے