ابو احمد مہراج گنج 

نون غنہ (ں) اردو زبان کا وہ حرف ہے جو محض آواز کا جادو نہیں جگاتا، بلکہ یہ لہجے میں ادب اور مٹھاس کا رس گھول دیتا ہے۔ جب ہم "بیٹھو” کے بجائے "بیٹھیں” یا "سنو” کے بجائے "سنیں” کہتے ہیں، تو دراصل ہم مخاطب کو عزت کے اس مقام پر فائز کر دیتے ہیں جہاں سے محبت اور احترام کے چشمے پھوٹتے ہیں

اردو زبان میں "نون غنہ” کی حیثیت وہی ہے جو پھول میں مہک اور لہجے میں مٹھاس کی ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا حرف ہے جو لفظوں کے آخر میں آکر انہیں تیکھے پن سے بچاتا ہے۔ اور گفتگو کو ایک تہذیبی جامہ پہنا دیتا ہے۔ لیکن یاد رکھیے، نون غنہ محض ایک لسانی علامت نہیں، بلکہ یہ "عجز و انکساری” کا ایک پورا فلسفہ ہے۔

جب ہم اپنی زبان کو "کرو، کھاؤ، جاؤ” جیسے کھردرے الفاظ سے پاک کر کے "کریں، کھائیں اور تشریف لے جائیں” کی خوشبو سے سجاتے ہیں، تو سننے والے کے دل میں ہمارے لیے قدر و منزلت کی ایک نئی شمع روشن ہو جاتی ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے بدلاؤ انسان کی شخصیت کو عام سے خاص بنا دیتے ہیں۔ آپ کے الفاظ ہی آپ کے اندرونی خلوص کے سفیر ہوتے ہیں۔

اس نون غنہ کو صرف کتابوں اور مکالموں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔جس طرح نون غنہ آواز کو نرم کر دیتا ہے، اسی طرح اپنے رویوں میں نرمی لائیں۔یہ حرف سکھاتا ہے کہ مخاطب چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو غریب،شہری ہو یا دیہاتی ،عالم ہو یا جاہل اسے عزت دینے سے آپ کی اپنی عزت میں "چار چاند” لگ جاتے ہیں۔

  زندگی میں نون غنہ شامل کرنے کا مطلب ہے کہ ہم اپنی انا (میں) کو چھوڑ کر دوسروں کی اہمیت (آپ) کو تسلیم کریں

جو معاشرہ "تم” اور "تو” کے بجائے "آپ” اور "جی” کے سائے میں پروان چڑھتا ہے، وہاں تلخیاں کم اور محبتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ نون غنہ کا استعمال دراصل سامنے والے کے وجود کا احترام ہے۔ جب آپ کی گفتگو میں یہ شائستگی آ جائے گی، تو لوگ آپ کی بات صرف سنیں گے نہیں بلکہ اسے دل سے تسلیم بھی کریں گے۔

آئیے رمضان المبارک کے اس مبارک مہینے میں عہد کریں کہ ہم اپنی زبان کو نون غنہ کی حلاوت سے شیریں بنائیں گے اور اپنے عمل کو اس کی عاجزی سے منور کریں گے۔ کیونکہ الفاظ تو سبھی بولتے ہیں، لیکن "اعلیٰ ظرف” وہ ہے جس کے لفظوں سے کسی کی دل آزاری نہ ہو بلکہ دلداری ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے