ڈاکٹر عبید الرحمٰن ندوی

استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

اسلام میں عید الفطر اور عید الاضحی دو عظیم خوشی کے دن اور مسلم دنیا کے دو اہم تہوار ہیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”اللہ نے تمہارے لئے ان سے بہتر دو دن مقرر کیے ہیں: عید الاضحی کا دن اور عید الفطر کا دن۔” (ابو داؤد)

"عید” عربی زبان کا لفظ ہے، جو "عَوْد” سے مشتق ہے، جس کے معنی "بار بار لوٹنے” کے ہیں۔ چونکہ یہ دن ہر سال خوشی اور مسرت کے ساتھ لوٹ کر آتا ہے، اسی مناسبت سے اسے "عید” کہا جاتا ہے۔ اصطلاحِ شریعت میں عید سے مراد وہ مخصوص اسلامی تہوار ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطورِ انعام و رحمت اور خوشی و مسرت کے مسلمانوں کو عطا کیے گئے ہیں۔

جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں کے لوگ دو تہوار مناتے تھے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا:”یہ دو دن کیسے ہیں؟”انہوں نے عرض کیا: "ہم ان میں زمانۂ جاہلیت سے خوشیاں مناتے آئے ہیں۔”تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان دو دنوں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں: عید الفطر اور عید الاضحی۔” (سنن ابی داؤد: 1134)

نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلی عید الفطر کی نماز 2 ہجری میں مدینہ منورہ میں ادا فرمائی۔ اسی سال رمضان کے روزے فرض ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عید الفطر کی نعمت عطا فرمائی۔

سچ کہا جائے تو "عید الفطر درحقیقت اس روحانی تطہیر پر شکرانے کی پیشکش ہے جو رمضان المبارک میں روزے رکھنے کے ذریعے مکمل ہوتی ہے۔ یہ اللہ کی بے شمار نعمتوں، خصوصاً قرآن مجید کے نزول پر شکر ادا کرنے کا موقع بھی ہے، جو ہماری روحوں اور ذہنوں کو منور کرتا ہے اور انسانیت کو دنیا میں امن و سکون کے ساتھ جینے اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔”

یہ خوشی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق منائی جاتی ہے جیسا کہ سورہ یونس میں فرمایا گیا:”اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے، اور وہ دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا، ہدایت اور ایمان والوں کے لیے رحمت ہے۔ کہہ دو: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر انہیں خوش ہونا چاہیے، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔” (یونس 10:57-58)

عید نہ صرف ایک روحانی اور مقدس موقع ہے بلکہ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خوشی و مسرت کا دن بھی ہے۔ نئے کپڑے پہننا، گھروں اور مساجد کو سجانا، مزیدار کھانے تیار کرنا، مبارکبادی کارڈز اور تحائف کا تبادلہ کرنا سب اس دن کی خوشیوں کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ تاہم، اس موقع پر غریب اور ضرورت مندوں کو فراموش نہیں کیا جاتا۔ عید الفطر کے دن صدقہ فطر ادا کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے تاکہ غریب بھی اس خوشی میں شریک ہوسکیں۔ (Lift Up Your Hearts, 74)

قرآن مجید فرماتا ہے:”اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہیں کسی مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی کے دن پورے کرو اور اس پر تکبیر کہو جس نے تمہیں ہدایت دی تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔ اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو (اے نبی!) انہیں بتا دو کہ میں قریب ہوں۔ میں دعا مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔” (البقرہ 2:185-186)

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اس آیت میں اللہ مسلمانوں کو بتاتا ہے کہ وہ ان کے لیے آسانی چاہتا ہے اور انہیں کسی دشواری میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ رمضان کے روزے رکھنا کوئی ناممکن کام نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کو محدود دنوں کے لئے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے بعد انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ اللہ کی تکبیر کہیں کیونکہ اس نے انہیں ہدایت دی ہے۔ وہ اس بات کے پابند ہیں کہ اللہ کی نعمتوں پر اس کی حمد و ثنا کریں۔ انہیں اللہ کا شکر ادا کرنے اور اس کا شکرگزار بننے کی تلقین کی گئی ہے۔”

مزید فرماتے ہیں:”اللہ نے اس آیت میں ضمنی طور پر عید کا ذکر کیا ہے، اگرچہ اس کا نام نہیں لیا گیا۔ لیکن اس آیت میں عید کا مقصد، روح اور اس کی اہمیت کو واضح کر دیا گیا ہے۔ چونکہ اللہ نے ایک مسلمان کو رمضان میں روزے رکھنے اور رات کو قیام کرنے کی توفیق دی، اس لیے اسے اللہ کی بڑائی بیان کرنی چاہیے اور اس کی ہدایت پر شکر ادا کرنا چاہیے۔”

(Guidance from the Holy Qur’an ، ص 85-86)

ایک حدیث میں آتا ہے کہ عید کے دن فرشتے راستوں کے دونوں طرف کھڑے ہو کر اعلان کرتے ہیں:”اے ایمان والو! اپنے رب کی طرف چلو جو سب سے زیادہ کریم ہے۔ وہ تمہیں بھلائی اور نیکی سے نوازتا ہے اور تمہیں بڑا اجر عطا کرتا ہے۔ اس نے تمہیں رات کو نماز پڑھنے اور دن کو روزہ رکھنے کا حکم دیا، اور اب جب کہ تم نے اس کی اطاعت کی، آؤ اور اپنے انعامات وصول کرو۔” (طبرانی)

جب مسلمان عید کی نماز مکمل کر لیتے ہیں تو فرشتے پھر اعلان کرتے ہیں:”اللہ نے تمہیں بخش دیا، اپنے گھروں کو بہترین خیر و برکت کے ساتھ لوٹو۔ یہ انعام کا دن ہے، اور جنت میں بھی اس دن کو انعام کا دن کہا جاتا ہے۔” (طبرانی)M

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، محبت، رحم، ہمدردی، خیرات، اخوت، بھائی چارہ، توازن اور اعتدال کا درس دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عید کو اجتماعی طور پر منانے کے لیے زکوٰۃ الفطر (جو کہ ایک لازمی صدقہ ہے) نمازِ عید سے پہلے ادا کی جاتی ہے تاکہ غریب بھی خوشی میں برابر کے شریک ہو سکیں۔ صدقہ فطر کا ایک دوسرا اہم مقصد یہ بھی ہے کہ روزے کے حالات میں روزےدار سے جو بھی دانستہ و نادانستہ طور پر گناہ سرزد ہوئے ہوں صدقہ فطر اس کے تلافی کا سبب بنتا ہے-

مختصر یہ کہ عید الفطر خوشی اور اللہ کا شکر ادا کرنے کا تہوار ہے-


سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ یہ ایک محاسبہ نفس، اور اپنے مستقبل کو روشن بنانے کے لئے غور و فکر، اور الله تعالی کی طرف سے بے شمار انعامات و اکرامات کا دن ہے- یہ دن عبادت گزاروں کے لیے ایک طرح کی خوشخبری ہے کہ ان کی کاوشیں بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوئیں۔ عید الفطر کا اصل مقصد ظاہری مسرت و شادمانی کے ساتھ ساتھ باطنی طہارت اور اصلاح کا ذریعہ بننا بھی ہے۔ یہ موقع ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ ہم نے ماہِ صیام میں جو عبادت کی ہے، اس کا اثر ہماری آئندہ زندگی پر بھی باقی رہنا چاہیے۔ بندہ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اپنی کمزوریوں پر غور کرے، اور آئندہ کے لیے بہتر راستہ اپنانے کا عزم کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے