منیر احمد ندوی

مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر یوپی

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں رمضان المبارک جیسا عظیم اور بابرکت مہینہ عطا فرمایا، جو تمام مہینوں کا سردار ہے۔ اس مہینے میں اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور مغفرت بارش کی طرح نازل ہوتی ہے۔ یہ مہینہ صبر، عبادت، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا مہینہ ہے ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک و عنبر سے زیادہ محبوب ہے، اور روزہ دار کے لیے سمندر کی مچھلیاں بھی مغفرت کی دعائیں کرتی ہیں۔ اس مہینے میں جنت کو روزانہ سجایا جاتا ہے اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے، نیک نیتی سے مانگی ہوئی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔

یہ بابرکت مہینہ ہماری کمزور اور ناقص عبادتوں کے ساتھ بہت تیزی سے گزر گیا، جیسے پانی بہہ جاتا ہے یا برف آہستہ آہستہ پگھل جاتی ہے۔

آج کی رات کو لیلۃ الجائزہ کہا جاتا ہے، یعنی انعام و اکرام کی رات۔ اس رات اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو، جنہوں نے اخلاص کے ساتھ روزے رکھے، عبادت کی، قرآن کی تلاوت کی، صدقہ و خیرات کیا، اپنی رحمت سے نوازتے ہیں اور ان کی مغفرت فرماتے ہیں۔

لہٰذا اس موقع پر سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں رمضان المبارک کی نعمت عطا فرمائی اور عبادت کی توفیق دی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔”

ساتھ ہی ہمیں سچی توبہ بھی کرنی چاہیے، کیونکہ ہماری عبادتوں میں یقیناً کوتاہیاں رہ گئیں۔ ہمیں اپنے اللہ سے عرض کرنا چاہیے: "اے اللہ! ہم سے جو ظاہر و پوشیدہ گناہ ہوئے، انہیں معاف فرما دے، اور ہماری ناقص عبادتوں کو قبول فرما لے۔”اس مبارک رات میں ہمیں عبادت، دعا، ذکر اور استغفار میں مشغول رہنا چاہیے، اور فضول کاموں جیسے شور شرابہ، وقت ضائع کرنا اور غیر ضروری مصروفیات سے بچنا چاہیے۔

آخر میں دعا ہے کہ: اللہ تعالیٰ ہماری تمام عبادتوں کو قبول فرمائے، ہماری مغفرت فرمائے ، جہنم سے نجات دے، اور بار بار رمضان المبارک کی برکتوں سے نوازے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے