رخسانہ نازنین 

بیدر، کرناٹک

” اے عامر….. ریت،  سیمنٹ لا رے…..ٹکر ٹکر کیا دیکھ رہا ہے ؟ "
چھوٹو نے جھلائے ہوئے لہجے میں کہا.
عامر نے سستی سے ٹوکری اٹھائی اور اس میں سیمینٹ ریت بھرنے لگا.
میں پچھلے چار دن سے یہی منظر دیکھ رہی تھی. ہماری کالونی میں کچھ نئی بلڈنگس تعمیر کی جارہی تھیں ۔ میں اکثر بالکونی میں کھڑی ان تعمیراتی کاموں کا مشاہدہ کرتی رہتی ۔ آج کل ہماری بلڈنگ سے متصل پلاٹ پر ہی کام شروع ہوا تھا ۔ اور کچھ دنوں سے عامر کام پر آرہا تھا۔اس کی سماعت کمزور تھی. اور جب اسے کسی کام کے لئے کہا جاتا تو وہ صرف لاچاری سے انکے چہرے کی طرف دیکھتا رہتا. وہ لوگ اسے سخت لہجے میں ڈانٹتے اور برا بھلا کہتے. ” نکما  کہیں کا…. کیوں آتا ہے کام پر ؟ جا… چلا جا گھر.!  ” وہ خاموشی کی تصویر بنا کھڑا رہتا. شاید دماغی طور پر بھی وہ کمزور تھا. 17 ، 18 سالہ لڑکا. چہرے پہ معصومیت اور بے چارگی جھلکتی تھی.
مجھے اسکی حالت پر بڑا ترس آرہا تھا.  چھوٹو بھائی سے پوچھا تو پتہ چلا کہ ” اسکے بابا بے روزگار ہیں.!  اور نشے کی لت میں بھی مبتلا ہیں ۔ سوتیلی ماں ہےجو اس پر دائرہ حیات تنگ کئے ہوئے ہے ۔اسی کی کمائی پر گزر بسر ہوتی ہے ۔ ایک دن بھی عامر کام پر نہ جائے تو ماں بابا سے شکایت کردیتی اور وہ بری طرح اسے پیٹتے ہیں ۔چھوٹے بھائی ، بہن ہیں. ان سب کی بھوک اسے کام پر آنے کے لئے مجبور کرتی ہے.” میرا دل یہ سب سنکر تڑپ اٹھا. مفلسی کے عذاب نے اس بچے کے ہاتھ میں قلم کے بجائے بیلچہ تھما دیا تھا. ستم ظریفی یہ کہ اسکی بے بسی جانتے ہوئے بھی سب اس سے نرمی سے پیش نہیں آتے تھے. بلکہ وہ انکے مزاح کا بھی نشانہ بنا کرتا تھا. حتی کہ اس سے یہ بھی پوچھکر ہنسی اڑاتے کہ ” کل کتنی مار پڑی رے ۔؟ ”  وہ چپ رہتا کوئی جواب نہ دیتا ۔ا
  اولاد کو زمانے کے رحم وکرم پر چھوڑ کر بےحس باپ اپنی دنیا میں مست تھا ۔سوتیلی ماں سنگدلی کی مورت ۔! وہ کرتا بھی کیا ۔!
 بے بسی کی تصویر بنا دن بھر محنت مشقت کرتا ، شام کو تھکا ماندہ گھر لوٹتا تو اسکا دل چاہتا کہ ماں کی گود میں سر رکھکر اپنی ساری تھکن دور کردے ۔بابا کے گلے سے لگ جائے ۔مگر ماں اس کے وجود سے بے نیاز اپنے بچوں سےلاڈ وپیار میں مصروف رہتی  اور بابا نشے میں دھت چارپائی پر پڑارہتا ۔ اسکی آنکھوں میں آنسو آجاتے ، وہ اپنا درد وغم کسی سے نہ کہہ پاتا اور اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ۔
ایک نیا سویرا طلوع ہوتا اور پھر سے اسکی آزمائش شروع ہوجاتی  ……!!!
 میں اسی کے بارے میں سوچتی رہی ۔میرے دل میں اس بے بس ولاچار لڑکے کے لئے ایک نرم گوشہ بن گیا تھا ۔میں اس کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی ۔ مگر کیسے؟  کچھ سوجھ نہ رہا تھا ۔پہلے سوچا کہ اسکے بابا سے بات کروں اور انہیں احساس دلاؤں مگر پھر سوچا وہ زن مرید جوبیوی کے اشارے پر جسمانی طور پر کمزور بیٹے پرتشدد کرتا ہے وہ میری بات پہ کیا غور کرے گا ؟ اسکا ضمیر تو مردہ ہوچکاہے ۔ اسے بس عامر کی کمائی کی ضرورت ہے ۔ ! بیٹے کے زخمی دل پر مرہم رکھنے کا خیال اسے کیسے آئے گا ۔؟
کافی سوچ بچار کے بعد میں نے اپنے
شوہر ظفر احمد سے بات کی اور کہا کہ ” آپکو میری مدد کرنی ہوگی ۔ اس لڑکے کا دکھ مجھ سے دیکھا نہیں جاتا ۔ ہمارے بیٹے کا ہی تو ہمعمر ہے اگر ہمارا ایک اور بیٹا ہوتا تو کیا ہم اسکی پرورش اور تعلیم وتربیت کا خرچ برداشت نہیں کرتے ۔؟ اللہ نے ہمیں بہت نوازا ہے ۔ہم ایک لڑکے کی کفالت باآسانی کر سکتے ہیں ۔ ہم اسکے بابا سے بات کریں گے ۔ انہیں عامر کی جتنی کمائی روز ملا کرتی ہے وہ بھی ملتی رہے گی بس عامر کام پر نہ جائے گا اور پڑھائی کرے گا ۔!” ظفر فطرتاً نرم مزاج اور نیک دل انسان تھے ۔انہوں نے خندہ پیشانی سے میری تجویز قبول کرلی ۔
ہمارا لیدر کا بزنس تھا ۔ ہم دونوں  عامر کے گھر گئے اور اسکے بابا سے بات کی ۔انہیں کوئی اعتراض نہ تھا ۔ انہیں صرف اسکی کمائی چاہئے تھی چاہے کسی بھی صورت ملے ۔!
ظفر نے عامر کو اپنے کارخانے میں ایک آسان کام پر رکھ لیا ۔اور روز اتنی ہی اجرت دینے لگے جتنی اسے مزدوری کرکے ملا کرتی تھی ۔ پھر شام میں اسے ایک ٹریننگ سنٹر میں داخلہ دلوایا جہاں پڑھائی کے ساتھ ایسے بچوں کو تربیت بھی دی جاتی ہے کہ وہ کسی سہارے کے بناء جی سکیں ۔اور بہتر زندگی گزار سکیں ۔ اس کا سارا خرچ ظفر نے اٹھایا ہوا تھا ۔ اب عامر کی حالت میں کافی سدھار آگیا تھا ۔وہ اب خوش دکھائی دیتا ۔مسکراتا رہتا ۔ ہم دونوں اسکی خبر گیری کرتے رہتے.
کچھ سال بیتے ۔ عامر کی شخصیت میں اب کافی تبدیلی آگئی تھی ۔ وہ پراعتماد ہوگیا تھا ۔ ظفر نے بتایا کہ وہ کام میں بھی بھرپور دلچسپی لیتا ہے ۔ انہوں نے اسے ترقی دے دی اور کارخانے کا انچارج بنا دیا ۔ اس کے بابا اور ماں بھی بہت خوش تھے اور اب اسکے ناز اٹھایا کرتے تھے ۔ عامرہم دونوں کو بھی ماں،  بابا ہی کہنے لگا تھا ۔ اسکی آنکھیں تشکر سے بھری ہوتیں ۔عقیدت سے ظفر کا ہاتھ تھام کر چوم لیتا ۔ اور میرے دل میں سکون اور اطمینان کی لہریں موجزن ہوتیں کہ میری ذرا سی کوشش سے ایک ٹوٹے بکھرے لڑکے کی تاریک زندگی میں روشنی کی کرنیں بکھر گئیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے