ریاست میں متعارف کرائی گئی ایمر جنسی سسٹم (ای آر ایس ایس) میں اُردو زبان کو شامل نہ کیے جانے پر ویلفئیر پارٹی کرناٹک کے ریاستی صدر ایڈوکیٹ طاہر حُسین نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ ریاست میں برسرِ اقتدار کانگریس حکومت کی اقلیتوں بلخصوص مسلمانوں کے ساتھ بے رُخی دن بہ دن بڑھتی ہی جارہی ہے، مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو تو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیاگیا ہے۔ اس بے رُخی کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اب حال ہی میں ملک کا پہلا ایمر جنسی ریسپانس سسٹم (ای آر ایس ایس) کا اجراء ریاست کے وزیر داخلہ جی پرمیشور صاحب نے کیا ہے جس میں مُلک کی دس زبانوں کو شامل کیا گیا ہے مگر اس ریاست کی دوسری سب سے بڑی زبان اُردو کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس ایمرجنسی سسٹم میں بنگالی، گجراتی، منی پوری، نیپالی، آسامی جیسی زبانوں کو شامل کیا گیا ہے لیکن ریاست میں کنڑا کے بعد سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اُردو کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نظام مقامی لوگوں کی مدد کے لئے بنایا گیا ہے، لیکن لاکھوں کی تعداد اُردو بولنے والے مقامی لوگوں کواس سے محروم کیا گیا ہے جبکہ بہت کم تعداد میں رہنے والے دیگر زبانوں کے لوگوں کا خیال رکھا گیا ہے۔
ایڈوکیٹ طاہر حُسین نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی سہولت کے لیے بنائے گئے اس انتہائی مفید ثابت ہونے والے ایمر جنسی ریسپانس سسٹم میں اُردو زبان کو بھی شامل کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے