جمعیۃ علماء کا عظیم الشان سدبھاؤنا اجلاس 10 مئی کو منعقد ہوگا، برادرانِ وطن کی بھی ہوگی شرکت
ظہیرآباد 4/ مئی (مشرقی آواز جدید): ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، نفرت اور سماجی دوریوں کے ماحول کے پیشِ نظر امن، بھائی چارگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر جمعیۃ علماء ریاست تلنگانہ کی ہدایت پر، جمعیۃ علماء ضلع سنگاریڈی کے زیرِ اہتمام ظہیرآباد میں ایک عظیم الشان اجلاسِ عام برائے قومی یکجہتی و سدبھاؤنا منعقد کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اجلاس ریاست گیر سدبھاؤنا مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت ہر ضلع، تعلقہ اور منڈل میں پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کو ختم کیا جائے اور محبت، اعتماد اور باہمی احترام کی فضاء کو فروغ دیا جائے۔ اسی مہم کی ایک اہم کڑی کے طور پر ظہیرآباد میں یہ بڑا اور تاریخی اجتماع منعقد ہو رہا ہے۔
یہ اہم پروگرام 10 مئی بروز اتوار، بعد نمازِ مغرب تا رات 9 بجے، ملن پیلس فنکشن ہال، نزد ملن ہوٹل، اولڈ چیک پوسٹ مین روڈ، ظہیرآباد میں منعقد ہوگا، جس میں مختلف مذاہب کے سرکردہ رہنما، علماء کرام، ائمہ مساجد، حفاظ، دانشوران اور معززینِ شہر کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔
اس موقع پر حضرت مولانا عتیق احمد صاحب قاسمی (سرپرست، جمعیۃ علماء ضلع سنگاریڈی)، حضرت مولانا مفتی اسلم سلطان صاحب قاسمی (صدر)، حضرت مولانا مفتی عبدالصبور صاحب قاسمی (جنرل سکریٹری)، حافظ محمد اکبر صاحب خازن جمعیتہ علماء ضلع سنگاریڈی، حضرت مولانا عبدالمجیب صاحب قاسمی (صدر، جمعیۃ علماء ظہیرآباد)، محترم عبدالقدیر صاحب (جنرل سکریٹری، تعلقہ ظہیرآباد)، مفتی خلیل احمد صاحب قاسمی (صدر، سٹی جمعیتہ ظہیرآباد)، مفتی عبدالواسع صاحب رحمانی (جنرل سکریٹری، سٹی جمعیتہ ظہیرآباد) نے مشترکہ طور پر عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم پروگرام میں بھرپور شرکت کریں۔
اسی طرح دیگر ذمہ داران مفتی عبدالباسط صاحب مظاہری (صدر، منڈل کوہیر)، مفتی ضمیر الدین صاحب رحمانی (صدر، منڈل نیالکل)، مولانا عیسیٰ رشادی صاحب (صدر، منڈل مگڈم پلی)، مولانا ہدایت علی صاحب قاسمی (دگوال یونٹ)، اور مفتی فردوس صاحب قاسمی (جنرل سکریٹری، منڈل جھرا سنگم) نے بھی عوام سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوں۔
ذمہ داران نے خاص طور پر علماء کرام، ائمہ، حفاظ، مدارس کے طلبہ، علم دوست احباب اور معززینِ شہر سے اپیل کی ہے کہ وہ نہ صرف خود شرکت کریں بلکہ اپنے ساتھ برادرانِ وطن (ہندو، سکھ، دلت وغیرہ) کو بھی مدعو کریں، تاکہ یہ اجتماع حقیقی معنوں میں قومی یکجہتی، بین المذاہب ہم آہنگی اور بھائی چارگی کی ایک زندہ مثال بن سکے۔
منتظمین کے مطابق اس اجلاس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہوگی کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ساتھ شریک ہوں گے اور آخر میں اجتماعی طعام کا اہتمام کیا جائے گا، جو محبت، رواداری اور اتحاد کی عملی تصویر پیش کرے گا۔
جمعیۃ علماء کے ذمہ داران نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں اس طرح کے پروگرام وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں، اور ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ نفرت کے ماحول کو ختم کرنے اور امن و محبت کے پیغام کو عام کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔۔۔۔۔
