ممبئی کے ایک عظیم’ لینڈ مارک’ کا نیا سفر: شہری ہوابازی کی علامت سے ریاستی انتظامی مرکز تک
جاوید جمال الدین
ممبئی کی شناخت سمجھی جانے والی نریمان پوائنٹ کی تاریخی ایئر انڈیا عمارت اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ تقریباً نصف صدی تک ہندوستانی شہری ہوابازی کی علامت کے طور پر پہچانی جانے والی یہ عمارت اب مہاراشٹر حکومت کی ملکیت بن گئی ہے۔ ₹1,601 کروڑ مالیت کے معاہدے کی تکمیل کے بعد ریاستی حکومت نے اس مشہور عمارت کا باضابطہ قبضہ حاصل کر لیا ہے، جسے مستقبل میں ایک بڑے سرکاری انتظامی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔
منترالیہ میں منعقدہ ایک تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی موجودگی میں ریاستی تعمیراتِ عامہ محکمہ (PWD) اور ایئر انڈیا ایسیٹس ہولڈنگ لمیٹڈ (AIAHL) کے درمیان منتقلی کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کے ساتھ ہی ممبئی کی تجارتی اور شہری تاریخ کا ایک اہم باب اختتام کو پہنچا جبکہ ایک نئے انتظامی دور کا آغاز ہوا۔
ایک تاریخی معاہدہ
مہاراشٹر کابینہ نے اس عمارت کی خریداری کو تقریباً تین سال قبل منظوری دی تھی۔ بعد ازاں مرکزی حکومت نے 2024 میں اس لین دین کو حتمی منظوری فراہم کی۔ معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے زمین سے متعلق تقریباً 298 کروڑ روپے کے بعض واجبات اور متوقع آمدنی کے دعووں سے بھی دستبرداری اختیار کی، جس کے بعد خریداری کی راہ ہموار ہوئی۔
ریاستی حکومت کا خیال ہے کہ جنوبی ممبئی میں سرکاری دفاتر کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر یہ عمارت نہ صرف ایک موزوں سرمایہ کاری ہے بلکہ طویل مدت میں انتظامی اخراجات کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
ممبئی کی شناخت بن جانے والی عمارت
1974 میں مکمل ہونے والی ایئر انڈیا عمارت نریمان پوائنٹ کی اسکائی لائن کا ایک نمایاں حصہ ہے۔ بحیرہ عرب کے کنارے اور میرین ڈرائیو کے سامنے واقع یہ 23 منزلہ ٹاور کئی دہائیوں تک قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کا کارپوریٹ ہیڈکوارٹر رہا۔
عمارت کی ہر منزل پر تقریباً 10,800 مربع فٹ دفتر کی جگہ موجود ہے جبکہ اس کی مجموعی تعمیراتی گنجائش اسے جنوبی ممبئی کی اہم ترین تجارتی عمارتوں میں شمار کرتی ہے۔ عمارت کی چھت پر نصب ایئر انڈیا کا مشہور "سینٹور” نشان برسوں تک ممبئی کی پہچان سمجھا جاتا رہا اور شہر کے سمندری کنارے کا ایک منفرد منظر پیش کرتا تھا۔
تعمیر کی دلچسپ اور غیر معمولی داستان
ایئر انڈیا عمارت کی تعمیر کی تاریخ بھی کم دلچسپ نہیں۔ اس کا ڈیزائن نیویارک کی معروف آرکیٹیکچرل فرم جانسن/برجی کے معمار جان برجی نے تیار کیا تھا۔ منصوبے پر عملی کام 1967 میں شروع ہوا، لیکن اسی سال 11 دسمبر کو کوئنا نگر میں آنے والے شدید زلزلے نے پورے منصوبے کو متاثر کر دیا۔
زلزلے کے بعد حفاظتی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا عمارت اور اوبیرائے ہوٹل سمیت متعدد تعمیراتی منصوبوں پر عارضی طور پر کام روک دیا گیا۔ ماہرین اور انجینئروں کو جاپان بھیجا گیا تاکہ زلزلہ مزاحم عمارتوں کی جدید ٹیکنالوجی اور تعمیراتی اصولوں کا مطالعہ کیا جا سکے۔
بعد ازاں انہی تجربات اور سفارشات کی بنیاد پر ڈیزائن میں ضروری تبدیلیاں کی گئیں اور تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہوا۔ بالآخر 1974 میں یہ عمارت مکمل ہوئی اور جلد ہی ممبئی کے جدید تجارتی دور کی علامت بن گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے ہندوستان کی ابتدائی جدید تجارتی عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے ملک کی پہلی ایسی عمارت قرار دیا جاتا ہے جہاں عوامی استعمال کے لیے ایسکلیٹر نصب کیا گیا تھا۔ یہ ایسکلیٹر سڑک کی سطح سے مسافروں کو ایئر انڈیا کے بکنگ آفس تک لے جاتا تھا، جو اس زمانے میں ایک جدید اور منفرد سہولت سمجھی جاتی تھی۔تفریح کے لیے آنے والے سیاح خوب لطف لیتے تھے
نریمان پوائنٹ کی ترقی کا اہم ستون
ایئر انڈیا عمارت دراصل اس بڑے شہری منصوبے کا حصہ تھی جس کے تحت سمندر سے زمین حاصل کرکے نریمان پوائنٹ کو ترقی دی گئی۔ تقریباً 64 ایکڑ رقبے پر محیط اس منصوبے کا ابتدائی مقصد ممبئی میں زمین کی قلت اور رہائشی بحران کا حل تلاش کرنا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ علاقہ ملک کے اہم ترین تجارتی مراکز میں تبدیل ہو گیا اور یہاں متعدد بینکوں، مالیاتی اداروں اور کارپوریٹ کمپنیوں نے اپنے دفاتر قائم کیے۔ ایئر انڈیا عمارت ان اولین عمارتوں میں شامل تھی جنہوں نے نریمان پوائنٹ کو عالمی معیار کے تجارتی ضلع کی حیثیت دلانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اپنے نئے ہیڈکوارٹر کے افتتاح کے موقع پر ایئر انڈیا نے عمارت پر ایک دلچسپ اور یادگار جملہ آویزاں کیا تھا:
"Nariman had a point — and we are on it.”
یہ جملہ نہ صرف اشتہاری نقطۂ نظر سے کامیاب تھا بلکہ نریمان پوائنٹ کے ساتھ ایئر انڈیا کی وابستگی کی علامت بھی بن گیا۔
ایئر انڈیا عمارت کا ذکر اس کے مشہور "مہاراجہ” کے بغیر نامکمل ہے۔ ایئر انڈیا کا مہاراجہ دراصل ہندوستانی شہری ہوابازی کی تاریخ کا ایک منفرد اور عالمی سطح پر پہچانا جانے والا علامتی کردار تھا، جسے 1946 میں ایئر انڈیا کے تشہیری ادارے نے تخلیق کیا تھا۔ بڑی مونچھوں، شاہانہ لباس، پگڑی اور روایتی ہندوستانی انداز کے ساتھ پیش کیا جانے والا یہ کردار ہندوستانی مہمان نوازی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
مہاراجہ عموماً نوشیروانی اور پنجابی طرز کے شاہانہ لباس میں، سینے پر ہاتھ رکھے اور ہلکا سا جھک کر مسافروں کا استقبال کرتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ اس کا یہ انداز احترام، انکساری اور مشرقی تہذیب کی روایتی مہمان نوازی کی عکاسی کرتا تھا۔ دنیا بھر میں ایئر انڈیا کی تشہیری مہمات میں مہاراجہ کو مرکزی حیثیت حاصل رہی اور وہ رفتہ رفتہ خود ایئر انڈیا کی شناخت بن گیا۔
نریمان پوائنٹ کی ایئر انڈیا عمارت کے اوپری حصے پر نصب "سینٹور” کے نشان کے ساتھ ساتھ مہاراجہ کی شخصیت بھی اس ادارے کی عوامی شناخت کا حصہ تھی۔ کئی نسلوں کے لیے ایئر انڈیا صرف ایک فضائی کمپنی نہیں بلکہ مہاراجہ کی مسکراہٹ، روایتی استقبال اور ہندوستانی تہذیبی وقار کی علامت تھی۔ آج اگرچہ عمارت کی ملکیت تبدیل ہو چکی ہے، لیکن ایئر انڈیا کے مہاراجہ کی یاد اس تاریخی عمارت اور ہندوستانی شہری ہوابازی کی تاریخ سے ہمیشہ وابستہ رہے گی۔
1993 کے بمبئی دھماکوں کی تلخ یاد
12 مارچ 1993 کو ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں نے شہر کی تاریخ پر گہرے زخم چھوڑے تھے۔ ان حملوں میں ایئر انڈیا عمارت بھی دہشت گردی کا نشانہ بنی۔
عمارت کے تہہ خانے میں کھڑی ایک گاڑی میں دھماکہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہوئے۔ دھماکے سے گیراج کے اوپر واقع بینک آف عمان کے دفاتر کو شدید نقصان پہنچا جبکہ عمارت کے کئی حصے متاثر ہوئے۔
بعد ازاں اس حملے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلائے گئے ۔ یہ واقعہ آج بھی عمارت کی تاریخ کا ایک دردناک باب سمجھا جاتا ہے۔
نجکاری، منتقلی اور نئی ملکیت
ایئر انڈیا کو درپیش مالی مشکلات کے باعث 2011 کے بعد غیر بنیادی اثاثوں کی فروخت کا عمل شروع کیا گیا۔ اس دوران عمارت کی متعدد منزلیں خالی پڑی تھیں جبکہ کچھ حصے مختلف سرکاری اور نجی اداروں کو لیز پر دیے گئے تھے۔
فروری 2013 میں ایئر انڈیا نے اپنا کارپوریٹ ہیڈکوارٹر ممبئی سے نئی دہلی منتقل کر دیا۔ اس کے بعد اسٹیٹ بینک آف انڈیا، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ اور دیگر ادارے عمارت کے مختلف حصوں میں کام کرتے رہے۔
2021 میں ٹاٹا گروپ کے ذریعے ایئر انڈیا کے حصول کے بعد یہ جائیداد ایئر انڈیا ایسیٹس ہولڈنگ لمیٹڈ کے پاس منتقل کر دی گئی۔ بعد ازاں مہاراشٹر حکومت نے اس تاریخی عمارت کو حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا جو بالآخر کامیاب ثابت ہوئے۔ریزروبینک آف انڈیا ( آربی آئی)نے بھی عمارت کو حاصل کرنے کی کوشش کی ،لیکن کامیابی حکومت مہاراشٹر نے حاصل کی ۔
منترالیہ پر بوجھ کم کرنے کی کوشش
تقریباً 46,470 مربع میٹر رقبے پر پھیلی اس عمارت کو مستقبل میں مہاراشٹر حکومت کے ایک بڑے انتظامی کمپلیکس میں تبدیل کیا جائے گا۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ ممبئی کے مختلف علاقوں میں کرائے کی عمارتوں میں قائم سرکاری دفاتر کو یہاں منتقل کیا جائے۔
2012 میں منترالیہ میں لگنے والی شدید آگ کے بعد متعدد محکمے عارضی طور پر مختلف مقامات پر منتقل ہو گئے تھے، جس کے باعث دفتر کی جگہ کا مسئلہ مسلسل برقرار رہا۔ حکومت کو امید ہے کہ ایئر انڈیا عمارت اس دیرینہ مسئلے کے حل میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
تعمیراتِ عامہ کے وزیر شیویندرا سنگھ راجے بھوسلے نے عمارت کا معائنہ کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ کسی بھی تزئین و آرائش یا تعمیر نو کے منصوبے سے قبل مکمل اسٹرکچرل آڈٹ اور تکنیکی جانچ کی جائے تاکہ عمارت کی سلامتی اور پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایک تاریخی شناخت کا نیا کردار
تقریباً پچاس برس تک ہندوستانی شہری ہوابازی کی علامت رہنے والی ایئر انڈیا عمارت اب مہاراشٹر کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ بننے جا رہی ہے۔ یہ تبدیلی صرف ملکیت کی منتقلی نہیں بلکہ ممبئی کی شہری تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ایک ایسی عمارت جس نے ہوابازی، تجارت، شہری ترقی اور قومی تاریخ کے کئی اہم ادوار دیکھے، اب ریاستی انتظامیہ کی خدمت میں ایک نئے کردار کے ساتھ اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔
ممبئی کے افق پر نمایاں یہ تاریخی عمارت آنے والے برسوں میں بھی شہر کی شناخت رہے گی، البتہ اس بار اس کی پہچان ایک کارپوریٹ ہیڈکوارٹر کے بجائے مہاراشٹر حکومت کے ایک اہم انتظامی مرکز کے طور پر ہوگی۔
