ریاستی منتظمہ کے اجلاس کے انعقا د کیلئے تلنگانہ کو چار زونس میں تقسیم کرنے کا فیصلہ،
جمعیة علماءتلنگانہ کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے ریاستی صدر ‘ جنرل سیکریٹری اور دیگر کے خطابات
حیدرآباد۔22جون( نمائندہ): جمعیة علماءتلنگانہ کی مجلس عاملہ اور مدعوئین خصوصی کا ایک اجلاس بمقام مدینہ ایجوکیشن سنٹر نامپلی زیر صدارت حضرت مولانا سید احسان الدین صاحب مدظلہ صدر جمعیة علماءتلنگانہ منعقد ہوا۔ابتداءمیں قاری محمد یونس علی خان صاحب کی قراءت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا اور مولانا پیر عبدالوہاب عمیر صاحب نے نعت پاک سنانے کی سعادت حاصل کی۔ بعد ازاں محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر جنر ل سیکریٹری جمعیة علماءتلنگانہ نے ایجنڈہ پیش کیا اور گذشتہ کی کاروائی اور کارگزاری سے اجلاس کو واقف کروایا۔اجلاس میں جمعیة علماءکے مختلف شعبہ جات کے استحکام پر تفصیلی غور وخوص کیا گیا اور کئی اہم فیصلے لئے گئے۔سب سے پہلے ریاست میں جاری SIRسے متعلق جمعیة کے کارکنو ں کو یہ ہدایت دی گئی کے وہ اپنے اپنے علاقوں میںBLOsکے ساتھ پوری مستعدی سے اس کام میں جڑ جائیں تاکہ کوئی بھی مستحق رائے دہندہ کا نام فہرست سے خارج نہ ہو۔جنرل سیکریٹری جمعیة علماءتلنگانہ نے کہا کہ اس سلسلہ میں صرف میاپنگ پر بھروسہ نہ کریں بلکہ 25جون سے شروع ہونے والے اصل کام پر بھر پورتوجہ دیں۔ BLOکے ساتھ جمعیة کا ایک نمائند ہ بھی رہے جو فارم پر کرنے اور دیگر امور میں رائے دہندوں کی رہنمائی کرے۔اجلاس میںSIRسے متعلق مشترکہ اپیل جاری کرنے اور ضلعی صدور کی جانب سے اپنے اپنے ضلع میں آڈیو پیام جاری کرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا۔
حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب نے اجلاس کو بتایا کہ اضلاع میں Enumarationفارم کو تلگوکے علاوہ اردو یا انگریزی میں بھی فراہم کرنے کیلئے جمعیة کی جانب سے نمائندگی کی گئی اور اس سلسلہ میں ایک درخواست بھی عدالت میں داخل کی گئی اور آج یا کل ریاستی جمعیة بھی اس مقدمہ میں فریق بننے کی تیاری کررہی ہے۔انہوں نے جمعیة کے ذمہ داروں سے کہا کہ 31جولائی کو مسودہ انتخابی فہرست کے اجرائی کے بعد رائے دہندوں کے ناموں کی عدم شمولیت پر اجتماعی نمائندگیوں ‘ عہدیداروں سے شکایات اور اپنا احتجاج درج کروانے کیلئے بھی تیاررہیں۔ اجلاس میں ریاستی مجلس منتظمہ کے اجلاس کے انعقاد کے علاوہ تذکرہ محاسن اکابر جمعیة و سدھ بھاونا اجلاسوں کے انعقاد کا بھی فیصلہ لیا گیا ۔ اس مقصد کیلئے مجلس عاملہ نے ساری ریاست کو 4 زونس میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت زون نمبر ایک میں حیدرآبا‘ متحدہ رنگاریڈی‘ متحدہ مید ک ۔ زون نمبر 2میں متحدہ نظام آباد‘متحدہ کریم نگر‘ متحدہ عادل آباد۔ زون نمبر 3میں متحدہ ورنگل ‘ متحدہ نلگنڈہ ‘ متحدہ کھمم اور زون نمبر 4میں محبوب نگر‘ناگر کرنول‘ گدوال ونپرتی شامل ہیں۔زون نمبر ایک کی مجلس منتظمہ کا اجلاس جولائی کے اوائل میں زون نمبر 2کے مجلس منتظمہ کا اجلاس جولائی کے اواخر میں اسی طرح زون نمبر3کے مجلس منتظمہ کا اجلاس اگست کے اوائل میں اور زون نمبر 4کی مجلس منتظمہ کا اجلاس اگست کے اواخر میں منعقد ہوگا۔ ان تمام اجلاسوں کا تواریخ کا عنقریب اعلان کیا جائیگا۔
مجلس عاملہ نے میڈیا کے ذریعہ مخالف اسلام پروپگنڈہ اور اسلام کی شبیہ کو متاثر کرنے کی سازشوں اور کوششوں کا سخت نوٹ لیتے ہوئے سوشل میڈیا ٹیم تیار کرنے کا فیصلہ لیاگیا اور ہر ضلع سے دس دس نوجوانوں کو اس کام کیلئے تیار کرتے ہوئے خصوصاً تلگوزبان میں ان مخالف اسلام تحریکوں کا موثر جواب دینے کیلئے ایک ٹریننگ کیمپ کے انعقاد کابھی فیصلہ لیا گیا۔اجلاس کے اختتام سے قبل مدعوءخصوصی محترم سید غلام افضل خسرو پاشاہ بیابانی صاحب نے ہندوستان کے موجودہ سنگین حالات میں مسالک ‘ مکاتب فکراور فرقوں سے بالاتر ہوکر کلمہ کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کے اتحاداور اجتماعی کوشش پر زور دیا اور کہاکہ یہ کام جمعیة علماءبہتر طریقہ سے انجام دے سکتی ہے۔
مولاناعبدالرحیم بانعیم صاحب مدعوءخصوصی نے اپنے خطاب میں تمام علماءکو جمعیة کے ساتھ جڑ کر تمام مسلمانوں کی فلاح وبہبود اور ان کی خیر خواہی کیلئے کام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ علماء بھی حکومتی اور دیگر مراعات کو حاصل کرنے میں تکلف نہ کریں۔ آخر میں صدر اجلاس حضرت مولانا سید احسان الدین صاحب مدظلہ صدر جمعیة علماءتلنگانہ نے جمعیة کے ذمہ داروں کو تلقین کی کہ اسلام کے محبت کے پیغام کو عام کریں اور پیا رومحبت سے تمام لوگوں کو اپنے ساتھ لیکر کام کریں۔صدر اجلاس نے کہا کہ ہمیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مکہ میں جس مقصد کے تحت دارالندوہ قائم کیا گیاتھا یعنی انسانیت کی خدمت اگر آج بھی وہ اس مقصد کے لئے مجھے مدعو کریں تو میں ضرور جاونگا۔ آخر میں صدر محترم کی دعاء پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔
جنرل سیکریٹری جمعیة علماءتلنگانہ محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب نے اجلاس کی کاروائی چلائی۔ اجلاس میں مولانا عبد الستار صاحب رکن عاملہ ریاستی جمعیة علماءتلنگانہ ‘ مولانا محمد سعد احمد صاحب نائب صدر جمعیة علماءتلنگانہ ‘ مولانا مصدق القاسمی صاحب نائب صدر جمعیة علماءتلنگانہ‘ مولانا عبد القادر صاحب رکن عاملہ ریاستی جمعیة علماءتلنگانہ‘ مفتی الیاس احمد حامد صاحب آرگنائز ریاستی جمعیة علماءتلنگانہ‘ مولانا عبد اللہ اظہر صاحب سکریٹری ریاستی جمعیة علماءتلنگانہ‘ مولانا مصباح الدین صاحب خازن ریاستی جمعیة علماءتلنگانہ ‘ مفتی یونس صاحب رکن عاملہ ریاستی جمعیةعلماءتلنگانہ‘ مولانا قاضی محمد مسیح الدین صاحب رکن عاملہ ریاستی جمعیة علماء تلنگانہ‘ مولانا سعد سمیع اللہ خان صاحب رکن ریاستی جمعیة علماء تلنگانہ‘ مفتی عبد السلام صاحب رکن ریاستی جمعیة علماء تلنگانہ‘ مولانا نعیم کوثررشادی صاحب رکن ریاستی جمعیة علماء تلنگانہ‘ مفتی اسلم سلطان صاحب رکن ریاستی جمعیة علماء تلنگانہ‘ مولانا عبد الوارث صاحب رکن ریاستی جمعیة علماء تلنگانہ‘ مولانا عبد القوی صاحب (مکتھل) رکن ریاستی جمعیة علماء تلنگانہ‘ محترم سید غلام افضل خسروپاشاہ بیابانی صاحب مدعوءخصوصی ریاستی جمعیةعلماءتلنگانہ‘ مولانا عبد الرحیم صاحب مدعوءخصوصی ریاستی جمعیة علماءتلنگانہ‘ مفتی عظیم الدین جنید صاحب مدعوخصوصی ریاستی جمعیة علماءتلنگانہ‘ مولانا احسن زاہد صاحب مدعو خصوصی ریاستی جمعیة علماءتلنگانہ‘ مولانا عتیق صاحب مدعوءخصوصی ریاستی جمعیة علماءتلنگانہ‘ محترم یونس صاحب میڑچل مدعوء خصوصی ریاستی جمعیة علماءتلنگانہ۔ مولانا حسان الدین فرقان مدعوء خصوصی ریاستی جمعیةعلماءتلنگانہ اور دیگر احباب بھی شریک تھے۔۔۔۔۔
