غریب خاندانوں کے تقریباً 22 ہزار کروڑ روپے واجب الادا ہیں ،سابق چیئرمین ایس سی کارپوریشن وائی۔ نروتم کا مطالبہ

ظہیرآباد 30 جون(مشرقی آواز جدید): غریب خاندانوں کو انصاف دیا جائے۔ زیر التواء درخواستوں کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔تفصیلات کے بموجب مسٹر وائی نروتم نے بتایا کہ کانگریس پارٹی نے انتخابات کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ کلیانہ لکشمی اور شادی مبارک اسکیموں کے تحت موجودہ مالی امداد کے ساتھ ساتھ ہر اہل دلہن کو ایک تولہ (10 گرام) سونا بھی فراہم کیا جائے گا۔ اسی وعدے کی بنیاد پر عوام سے ووٹ لے کر اقتدار میں آئے۔ مگر اقتدار سنبھالنے کے ڈھائی سال گزر جانے کے باوجود اس وعدے پر عمل نہ کرنا عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔
دسمبر 2023 سے، یعنی کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک، ریاست بھر میں تقریباً 15 لاکھ درخواستیں موصول ہونے کا اندازہ ہے۔ موجودہ سونے کی قیمت کے مطابق اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 22 ہزار کروڑ روپے درکار ہوں گے۔
ریاست بھر میں تقریباً 50 ہزار درخواستیں ابھی تک زیر التواء ہیں۔ صرف ان کی مالی امداد کی مد میں 500 کروڑ روپے سے زیادہ واجب الادا ہیں، جبکہ اگر ایک تولہ سونا دینے کے وعدے کو بھی شامل کیا جائے تو کل رقم تقریباً 1,225 کروڑ روپے بنتی ہے۔
اگر ظہیرآباد اسمبلی حلقہ کی بات کریں تو یہاں تقریباً 5,000 درخواستیں درج کی گئی ہیں۔ ان مستحقین کے لیے موجودہ قیمت کے مطابق ایک تولہ سونا فراہم کرنے پر تقریباً 72.50 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومتِ تلنگانہ فوری طور پر کلیانہ لکشمی – شادی مبارک کے تمام مستحقین کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کرے، کانگریس حکومت کے دوران پہلے ہی فائدہ حاصل کرنے والے مستحقین اور نئے مستحقین، دونوں کو ایک تولہ (10 گرام) سونا فراہم کرے اور اپنا وعدہ نبھائے۔
اگر حکومت غریب خاندانوں کا اعتماد برقرار رکھنا چاہتی ہے تو صرف وعدے نہیں، بلکہ فوری عملی اقدامات کرے۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے