(فائل فوٹو: علامہ سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ)
حسن مدنی ندوی (ریسرچ اسکالر)
موت ہر ذی نفس پر آتی ہے، یہ کائنات کا وہ اٹل قانون ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، مگر بعض موتیں محض ایک نبض کے رکنے کا نام نہیں ہوتیں، وہ دراصل ایک پورے عہد کے کسی تابناک باب کا ہمیشہ کے لیے بند ہو جانا ہوتی ہیں۔ ایسی موت کے بعد سورج معمول کے مطابق طلوع ہوتا ہے، بازار آباد رہتے ہیں، گھڑیاں اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہیں، مگر کہیں کوئی ایسی شے بجھ چکی ہوتی ہے جس کا نعم البدل کسی اور چراغ سے ممکن ہی نہیں۔ یہی وہ کیفیت تھی جو مجھ پر اس وقت طاری ہوئی جب حرمِ کعبہ کے مطاف میں، طلوعِ فجر کے انتظار کی نیم تاریک ساعتوں میں، موبائل کی اسکرین نے وہ خبر اگل دی جس نے دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لیے روک دی، مرشد و مربی استاد محترم، علامہ سید سلمان حسینی ندوی، علم و عرفان کی اس بزم سے، جسے انہوں نے نصف صدی تک اپنے وجود سے معمور رکھا تھا، رختِ سفر باندھ چکے ہیں۔ مطاف کی سنگِ مرمر فرش وہیں کی وہیں رہی، حجرِ اسود کا غلاف وہیں جگمگاتا رہا، طواف کرنے والوں کے قدم وہیں رواں رہے، مگر دیکھنے والی آنکھ بدل چکی تھی، اور سینے میں وہ سکوت اتر آیا جسے زبان بیان کرنے سے قاصر ہے۔ کاش یہ افسوس ان کے سفرِ آخرت پر ہوتا، مگر جس نے دین کی راہ میں اپنی زندگی کا ہر سانس نچھاور کر دیا ہو، اس کے لیے یہ سفر تو وصال کا سفر ہے، عند اللہ مقبولیت کا سفر، افسوس تو اس خلا کا ہے جو اب کسی صورت پر نہیں ہو سکتا۔
وہ ایک دل جو دمک رہا تھا خلوص و ایماں کی تابشوں سے
خلوص و ایماں کے دشمنوں کو خبر سناؤ کہ وہ بھی ڈوبا
ایک عالم کی موت دراصل ایک نہیں، کئی موتیں ہوتی ہیں۔ پہلی موت وہ ہے جسے آنکھ دیکھتی اور کان سنتا ہے، جسم کا مٹی میں اتر جانا۔ مگر اس سے بھی زیادہ گہری موت وہ ہوتی ہے جب اس عالم کے سینے میں برسوں کے مطالعے، مشاہدے اور مجاہدے سے تعمیر ہونے والی وہ منفرد فکری کائنات بھی دفن ہو جاتی ہے، جسے دوبارہ کسی اور ذہن میں اسی شکل میں جنم دینا ممکن نہیں، کہ دو عالم ایک ہی کتابیں پڑھ کر بھی الگ الگ نتائج تک پہنچتے ہیں، ہر صاحبِ علم اپنے اساتذہ، اپنے تجربات اور اپنی بصیرت کا ایک ایسا سنگم ہوتا ہے جو دوبارہ نہیں دہرایا جا سکتا۔ اور اس سے بھی زیادہ خاموش، اور اسی لیے زیادہ خطرناک، تیسری موت وہ ہوتی ہے جب وہ اپنے ساتھ مستقبل کے وہ تمام امکانات بھی لے جاتا ہے جنہیں دنیا نے ابھی دیکھا ہی نہیں تھا، وہ کتابیں جو ابھی لکھی جانی تھیں، وہ ادارے جن کا خاکہ ابھی ذہن میں تھا، وہ سوالات جو ابھی کسی نے پوچھے ہی نہیں تھے۔ علامہ سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ کی رحلت کو اسی پیمانے پر تولنا چاہیے، کہ سوال یہ نہیں کہ ہم نے کیا کھویا، سوال یہ ہے کہ آنے والی نسلیں کیا کھونے والی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا کسی عالم کی موت محض اس کے جسم کا رک جانا ہے؟ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ علم کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ ایک امانت ہے: إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ (الأحزاب: 72)، اور یہ کہ امامت آسمان سے نہیں ٹپکتی بلکہ صبر اور یقین کی طویل تربیتی مشقت سے جنم لیتی ہے: وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ (السجدہ: 24)۔ خود رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن نے بنیادی طور پر ایک معلّم کی بعثت کے طور پر بیان کیا: يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (الجمعہ: 2)۔ علامہ سلمان حسینی اس سبق سے خوب آگاہ تھے۔ کرونا کے ایام میں جب ایک علمی ادارے کی دعوت پر تشریف لے گئے تو وہاں کے طلبہ کے ذوق سے اس قدر متاثر ہوئے کہ فرمایا: ملت کو اب جلسوں اور سیمیناروں سے زیادہ اساتذہ کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے، کیوں کہ تہذیبیں عمارتوں سے نہیں، اساتذہ کے سینوں سے زندہ رہتی ہیں۔ یہ جملہ آج ان کی موت کے بعد ایک امتحان بن کر ہر اس ادارے کے سامنے کھڑا ہے جو ان کے سوگ میں شریک ہے۔
تو سوال یہ نہیں کہ علامہ نے ہمیں الوداع کہہ دیا، سوال یہ ہے کہ کیا ہماری درس گاہیں اب بھی اس قابل ہیں کہ امرِ ربی کے تحت کوئی اور سلمان حسینی پیدا کر سکیں؟ کیا ہم محض جنازے پڑھنے والی قوم رہیں گے، یا علماء حق تیار کرنے کا فن جاننے والی قوم بنیں گے؟ بقولِ حیدر ندوی:
تمہیں تو ندوہ مرحوم کی آواز برحق تھے
چلے ہو تم بھی شبلی اور سید کی ڈگر دیکھو
1954ء میں مظفر نگر کے قصبہ منصورپور میں، سادات بارہہ کے اس گھرانے میں، جس کی شناخت ہی علم و تقویٰ سے وابستہ رہی ہے، جب ایک بچہ آنکھ کھولتا ہے تو شاید کسی کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ بچہ آگے چل کر برصغیر کی علمی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب بنے گا۔ مگر نسب کی برکت کم نہ تھی، یہ بچہ مفکر الاسلام مولانا سید ابو الحسن علی میاں ندوی کے برادرِ اکبر، ڈاکٹر سید عبد العلی حسنی، کا نواسہ تھا، اور آگے چل کر خود علی میاں کی شاگردی کا شرف بھی اسے نصیب ہوا، گویا نسب کا رشتہ علم کے رشتے میں ڈھل گیا۔ دار العلوم ندوۃ العلماء کی بابرکت فضاؤں میں تربیت پائی، 1976ء میں فضیلتِ حدیث کی سند سے سرفراز ہوئے، اور پھر ریاض کی جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ کا رخ کیا جہاں 1980ء میں ایم اے کی تکمیل ہوئی، اور یہ سعادت بھی نصیب ہوئی کہ علمی مقالہ علامہ عبد الفتاح ابو غدہ جیسے دقیق النظر محقق کی نگرانی میں مکمل ہوا۔ سلوک و طریقت کی راہ میں شاہ نفیس الحسینی لاہوری، سید محمد رابع حسنی ندوی اور شامی نقشبندی شیخ سراج الدین رحمہم اللہ سے اجازت و خلافت پائی۔ یاد رہے کہ قرآن جب انبیاء کی وراثت کا ذکر کرتا ہے تو وہ کبھی مال و دولت کی بات نہیں کرتا، بلکہ فکر و کردار کے تسلسل کی بات کرتا ہے، جیسا کہ زکریا علیہ السلام کی دعا میں ہے: فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ "مجھے اپنی طرف سے ایسا وارث عطا کر جو میرا اور آلِ یعقوب کا وارث ہو”۔ علامہ سلمان حسینی بھی اسی معنی میں ایک عظیم وراثت کے وارث تھے۔
ان کی ذات کسی ایک سانچے میں ڈھلنے کے لیے بنی ہی نہ تھی۔ جب وہ تفسیر کے دروازے کھولتے تو ایسا لگتا جیسے کسی نے قفل شدہ خزانوں کی کنجیاں ہاتھ میں تھما دی ہوں، آیات کے پردے یوں اٹھتے کہ سامع کو محسوس ہوتا گویا طبری و ابن کثیر کی تاویل خود زبان پاکر بول رہی ہو۔ حدیث کے میدان میں اسناد کے جوہری تھے، روایت اور درایت کی کسوٹی پر ہر لفظ کو ایسے پرکھتے جیسے کوئی جوہری اصلی موتی کو نقلی سے الگ کرتا ہے، اور اسماء الرجال کی باریکیوں میں ان کی نظر اتنی گہری تھی کہ انہیں وقت کا انور شاہ کشمیری کہنا کسی مبالغے کے زمرے میں نہیں آتا۔ فقہ و اصول میں ندوۃ العلماء کے اس تاریخی سیمینار کو کیسے بھلایا جائے، جہاں انہوں نے حنفیت کی ایسی مدلل ترجمانی کی کہ سننے والے دنگ رہ گئے، اور اس کے باوجود دیگر مسالک کا ذکر اس احتیاط سے کیا کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ عربی، اردو اور انگریزی تینوں زبانوں پر یکساں دسترس رکھتے تھے، اور یہ ان کا ایسا اعزاز تھا جسے دوست تو دوست، ان کے ناقدین بھی تسلیم کرنے پر مجبور تھے کہ اللہ نے انہیں ایسی شیریں بیانی اور شعلہ فشانی سے نوازا تھا جو ان کے معاصرین میں خال خال ہی نظر آتی تھی۔
اور خطابت! یہ تو گویا ان کی شخصیت کا جوہر تھی، کوئی ضمنی وصف نہیں۔ جب منبر پر کھڑے ہوتے تو الفاظ خود بخود علم کا لباس پہن لیتے، اور ہزاروں کا مجمع سانس روکے سنتا رہ جاتا۔ ان کی آواز محض ہندوستان کی سرحدوں میں محصور نہ رہی، وہ عرب کے کوہساروں اور ریگزاروں تک پہنچی، فلسطین کے دکھ پر بھی بلند ہوئی، اور غزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بھی۔ برصغیر کی اس عظیم روایتِ خطابت کے، جس کے سرخیل ابو الکلام آزاد، سید سلیمان ندوی، اور علی میاں ندوی رہے، وہ ایک باوقار کڑی تھے، اور انہوں نے زبان کو محض تفہیم کا نہیں، تہذیب اور تعمیر کا ذریعہ بنا دیا تھا۔ مگر وہ کسی کمرۂ درس یا منبر تک محدود رہنے والے عالم نہ تھے، وہ میدانِ عمل کے مرد تھے۔ جمعیۃ شباب الاسلام کی بنیاد رکھی، جامعہ سید احمد شہید کٹولی کو اپنے خون جگر سے سینچا، اور سیاسی و سماجی محاذوں پر بھی اسی جرأت سے اترے جس جرأت سے منبر پر اترتے تھے۔
بابری مسجد کے اس نازک ترین مرحلے کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے جب پوری ملت اضطراب کی کیفیت میں تھی، اور انہوں نے پرسنل لا بورڈ کے پلیٹ فارم سے وہ تجویز پیش کی جو محض ایک مذہبی رد عمل نہیں بلکہ ایک دور اندیش مدبر کی فراست کا ثبوت تھی، کہ متنازعہ زمین کے عوض حکومت مسجد اور ایک عظیم تعلیمی ادارے کے لیے الگ وسائل فراہم کرے تاکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ رہے۔ یہ تجویز سرکاری سطح پر پذیرائی پا گئی، مگر روایتی مذہبی سیاست کے علم برداروں نے، روحانی پنڈتوں نے، جن کی پوری شناخت روزی روٹی ہی بابری کے نام پر استوار تھی، اسے گوارا نہ کیا، اور علامہ کو پرسنل لا بورڈ سے کنارہ کش ہونا پڑا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، امتیں اپنے دوربین مفکرین کو اسی لمحے رد کر دیتی ہیں جب ان کی بصیرت سب سے زیادہ درکار ہوتی ہے، اور پھر صدیوں بعد انہی کے قدموں کو بوسہ دیتی ہیں۔
اور پھر وہ موقف، جس نے ان کے آخری برسوں کو ایک نئے امتحان سے دوچار کیا۔ آلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عظمت، ولایت مولی علی کا اقرار،ذکر محاسن و مناقب اہل البیت جس کا فقدان سنی حلقوں میں محسوس ہونے لگا تھا، علامہ نے اس خلا کو بروقت بھانپا، اور مدلل انداز میں حقائق پیش کئے، وہیں اہم وجہ یہ بھی تھی کہ مسلمانوں کے اس روئیے سے آپسی دوریاں، خلفشار اور انتشار بڑھ رہے تھے، لہذا مولانا نے وحدت امت کا پیام عام کرتے ہوئے فرض کفایہ ادا کیا اور اسے قرآن کے اس فرمان سے جوڑا: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۔ متعدد بیانات اور انٹرویوز میں انہوں نے دو ٹوک کہا کہ ان کا پیغام شیعہ اور سنی دونوں کے لیے یکساں ہے، کسی تفریق کے بغیر، کہ قرآن خود فرماتا ہے: إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً (سورہ انبیاء) "بے شک تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے”، اور یہ کہ جنہوں نے اپنے دین کو فرقوں میں بانٹ دیا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی واسطہ نہیں (سورہ انعام، آیت 159)۔ مولانا کہا کرتے تھے کہ امت کے دشمن کی سب سے کارگر چال یہی ہے "فرّق تسُد” تفریق ڈالو اور حکومت کرو، اور جو شخص امت میں تفریق پیدا کرے وہ امت کا خیر خواہ نہیں بلکہ اس کا خائن ہے۔ موجودہ عالمی کشیدگی کے اس نازک ترین دور میں، جب خطہ آگ و خون کی لپیٹ میں رہا، ان کی یہ آواز فلسطینیوں، ایرانیوں، ترکوں اور عربوں سب کے لیے یکساں طور پر گونجی۔
مگر شاید یہ مرد حق بھول گیا تھا کہ سچ کہنے والوں کا انعام ہمیشہ سچ سننے والوں کی محبت نہیں ہوتا۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی آلِ بیت کی محبت میں اپنی جان کی پروا نہ کی تھی اور اسی راہ میں اذیتیں جھیلیں، اور آپ بھی اپنے زمانے کے امام نسائی بن کر ابھرے۔ یزیدی فکر کو، جسے آپ نے امت کے لیے ایک ناسور سمجھا، علانیہ رد کیا تو سنی خیموں کے بعض روحانی پنڈتوں نے تاریخ کے قاتلوں نے وہی بدتمیزی کا بازار گرم کیا جو تاریخ میں ہمیشہ مصلحینِ امت کے ساتھ روا رکھا گیا، وہی روش جو کبھی قاری طیب کے ساتھ تھی، کبھی مودودی، کبھی اقبال، کبھی سر سید، کبھی ابو الکلام آزاد، کبھی یوسف القرضاوی، کبھی حسن البنا و محمد قطب کے ساتھ تھی، بلکہ ماضی بعید میں امام بخاری، امام نسائی اور امام شافعی رحمہم اللہ بھی اپنے عہد کے تنگ نظر طبقوں مولوی نما پنڈتوں کی زد میں رہے، کہ یہ اہل علم حق کے علمبردار کیوں رہیں، یہ تو اجماع واجتماعیت ومصلحت كے خلاف ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اجماع جس میں تشریع نہ ہو، یا سیاسی دباؤ کی زد میں جو اجماع قائم ہو، وہ باطل ہے مردود ہے، اجماع صرف قرآن و سنت کی روشنی میں ہی قائم ہوسکتا ہے، مگر ناصبیت زدہ افراد جو یزیدی فکر کے حاملین تھے روز اول سے ہی یہ کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح امت اہل البیت کی راہ سے منحرف ہو، اور فرمان نبوی کو خاموشی کے ساتھ نظر انداز کیا گیا بلکہ صحابہ کی آڑ لیکر ضعیف و مسترد روایات کا سہارا لے کر قیل و قال کیا گیا تانکہ امت میں اختلافی روش برقرار رہے، روزی روٹی چلتی رہے، جب کہ حضور نے تو قرآن اور اہل بیت کی تعلیمات پر چلنے کو کہا تھا، ” إني تاركٌ فيكم ما إن تمسَّكتُم به لن تضلُّوا بعدي، أحدهما أعظم من الآخر: كتاب الله حبل ممدود من السماء إلى الأرض، وعترتي أهل بيتي، ولن يتفرَّقا حتى يرِدا عليَّ الحوضَ” مگر سلطنت کے نشے میں چور جو روایات امویوں نے گڑھیں اور ناصبیوں نے جس کی ترجمانی کری، امت میں یہ گمراہی آئی کہ دین کا ماخذ ہی بدل دیا گیا، اور ضعیف روایات و سواد اعظم کا نام لے کر لوگوں کو ڈرایا جانے لگا، کیونکہ اگر اتحاد ہوگا، ملة واحدہ کا قیام ہوگا، تو سیادت چلی جائے گی، یہ وہی روش تھی جس کی ابتداء مولی علی کے خلاف بغاوت سے ہوئی، جس کی انتہاء جہالت اور تعصب کے آخری درجے پر ہے، جس کا خمیازہ ملت اسلامیہ کے نوجوان خواہ عرب ہوں یا عجم، فلسطینی ہوں یا ایرانی بھگت رہے ہیں، اور ناصبیت کے اس ناسور اور سیاسی ہتکنڈے کے بیچ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان ناصبیوں کو اسی کے ساتھ ساتھ ایک دکھ یہ تھا کہ دیگر اداروں کی طرح لاکھ کوششوں کے باوجود وقف ندوہ کا قیام عمل میں کیوں نہیں آیا، کیونکہ مولانا کی ذات پر ہر طرح کا کیچڑ اچھالا گیا، ان کو بھی اکسایا گیا اور ان کے ساتھ منافقانہ روش اختیار کی گئی تانکہ یہ ندوے کے دو ٹکڑے ہوتا دیکھ مسرور و محظوظ ہوں، لیکن مولانا ثابت قدم رہے، اور یہی وہ سنتِ الٰہی ہے کہ مصلحین کو ان کا اپنا زمانہ اجنبی بنا دیتا ہے مگر مولانا کی شخصیت اس اجنبیت کا آخری دم تک مقابلہ کرتی رہی، اور زمانہ گواہ ہے کہ تاریخ کے صفحات بعد میں ایسے ہی افراد کو سینے سے لگاتے ہیں، جو حق کی خاطر جیتے ہیں مرنے سے کہیں ڈرتے ہیں ۔
پھر وہ گھڑی آن پہنچی جس کا ٹلنا کسی کے بس میں نہ تھا۔ چند ہی روز پہلے علامہ حسینی روضۂ امامِ حسین ع-س کی زیارت سے واپس لوٹے تھے، گویا دل کسی اور ہی سفر کے لیے مچل رہا تھا۔ فرزندِ ارجمند سفیان الحسینی کے بقول، رات سونے سے قبل ان کی زبان سے جو آخری جملہ نکلا، وہ کسی دنیاوی خواہش کا نہیں بلکہ علمِ حدیث کی دو عظیم شرحوں فتح الباری اور عمدۃ القاری کو میز پر رکھنے کی فرمائش تھی۔ جس زبان نے ساری عمر کتاب سے رشتہ جوڑے رکھا، موت بھی اسے اس رشتے سے جدا نہ کر سکی۔ 29 جون 2026ء بمطابق 14 محرم الحرام 1448ھ کی صبح، لکھنؤ کا آسمان معمول کے مطابق روشن ہوا، مگر علم کا ایک آفتاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو چکا تھا۔ بہتر برس کی عمر میں علامہ نے داعئ اجل کو لبیک کہا۔ جامعہ سید احمد شہید کٹولی، ملیح آباد میں ہزاروں سوگواروں نے نمازِ جنازہ ادا کی، ترکی سمیت کئی ممالک میں غائبانہ نمازیں پڑھی گئیں، اور ہندوستان سے پاکستان تک، خلیج سے ترکی تک، ہر علمی و دینی حلقے نے اپنے رنج و غم کا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ ندوہ سے بعض اختلافات کے باوجود، حضرت مہتمم مولانا عبد العزیز بھٹکلی، جو ان کے زمانۂ طالب علمی کے ساتھی تھے، بڑے دکھ کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا کرتے، اور آج خود ان کے گھر اور پھر کٹولی تشریف لے گئے اور نماز جنازہ میں شامل ہوئے۔ یہ منظر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ بڑے دلوں میں اختلاف کے باوجود محبت کی جگہ کبھی تنگ نہیں پڑتی، اور ندوی روایت کبھی مانند نہیں پڑتی۔
علم کا یہ روشن چراغ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، مگر اپنی روشنی ہزاروں دلوں اور ایک پوری روایت میں چھوڑ گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے علم و قلم و تربیت کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ رَبِّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاجْزِهِ عَنِ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِ الْعِلْمِ خَيْرَ الْجَزَاءِ، آمین۔
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

