پریس ریلیز لکشمی پور:ممتاز عالمِ دین، مفکرِ اسلام، صاحبِ قلم، بہترین خطیب اور ملتِ اسلامیہ کے معروف رہنما مولاناسید سلمان الحسینی ندوی کے انتقال کی خبر کے بعد دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ میں ایک تعزیتی نشست ادارہ کے سربراہ اعلی مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں اساتذہ وطلبائے دارالعلوم کے علاوہ مصلیانِ مسجد” النور،، نے شرکت کی، بعدازاں قرآن خوانی اور آیات کریمہ کے ذریعہ مرحوم کے حق میں ایصال ثواب کرکے دعائے مغفرت کی گئی۔
سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا سید حسینی کی شخصیت جامع الکمالات تھی ، عرب ہو یا عجم سبھی آپ کے دیوانے اور عاشق تھے، آج وہ اتنی عظیم شخصیت اپنی مدت حیات پوری کرکے اپنے رب کے پاس حاضر ہو چکی ہے، اس حادثہ کو سن کر پوری دنیا میں پھیلے ہوئے لاکھوں شاگردوں، متعلقین اور اہلِ علم سوگ میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ملک و بیرونِ ملک کے علمی، دینی اور مذہبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔بلا شبہ مولانا سلمان الحسینی ندوی نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی اشاعت، قرآن و سنت کی خدمت، تعلیم و تربیت، دعوت و اصلاح اور علمی و فکری رہنمائی میں صرف کی۔ آپ اپنی غیر معمولی علمی بصیرت، وسیع مطالعے، متوازن فکر، مدلل اندازِ بیان اور موثر خطابت کے باعث علمی دنیا میں منفرد مقام رکھتے تھے۔ عربی و اردو ادب، اسلامی علوم اور عصری مسائل پر آپ کی گہری نظر کو اہلِ علم ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔
دارالعلوم کے ناظم اعلیٰ مولانا ڈاکٹر سعد رشید ندوی نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی علمی خدمات، تصانیف، خطابات اور فکری رہنمائی ایک ایسا علمی سرمایہ ہے جس سے آئندہ نسلیں بھی استفادہ کرتی رہیں گی۔ آپ نے ہمیشہ امت کے اتحاد، اعتدال، حکمت اور اخلاص کا پیغام عام کیا اور بے شمار علماء، طلبہ اور دانشوروں کی فکری تربیت فرمائی۔
دارالعلوم فیض محمدی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے مولاناحسینی کے انتقال کو علمی دنیا کا ایک ناقابلِ تلافی خسارہ قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اسے ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم سانحہ قرار دیا ہے۔آپ کی بے باکی ، جرات اظہار ، اور حق گوئی ہمیشہ یا د رکھی جائے گی۔اور آپ کی جرات مندانہ روش اہل علم وفکر کے لئے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔
مفتی احسان الحق قاسمی نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ندوی ہمارے لئے خصوصاً طلباء، علماء، اور اہل علم کے لئے کوہ نور کی مانند تھے ، ان کی علمی بصیرت ، فکری رہنمائی اور مخلصانہ تربیت نے ہزاروں دلوں کو علم وعمل کی روشنی عطا کی ، ان کا وصال بلاشبہ ایک ایسی شمع کے بجھ جانے کے مترادف ہے جس کی روشنی میں نسلیں فیض یاب ہوتی رہی ہیں۔ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی نے کہا کہ عالم اسلام کا وہ شیر جس کی ایک آواز سے باطل کے خیموں میں زلزلہ پیدا ہوجاتا تھا ، آج امت اپنے اس بہادر ترجمان وشعلہ بیاں خطیب سے محروم ہوگئی۔مولانا ظل الرحمان ندوی نے اپنے استاذ محترم کے تعلق سے کہا کہ ان کی یہ خصوصیت تھی کہ جس بات کو حق سمجھتے تھے اسے ڈنکے کی چوٹ پر کہتے تھے۔وہ کسی ملامت گر کی کسی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔
اس تعزیتی نشست میں دارالعلوم کے طلبہ کے علاوہ مفتی احسان الحق قاسمی، مولانا محمد صابر نعمانی ، مولانا ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی ، مولانا ظل الرحمان ندوی، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا شکراللہ قاسمی،مولوی ظہیر الدین، حافظ صلاح الدین ، ماسٹر فیض احمد ، ماسٹر جاوید احمد، ماسٹر محمد عمر خان، ماسٹر جمیل احمد ، ماسٹر شمیم احمد ، حافظ وقاری محمد اسجد ، محمد قاسم وغیرہ موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے