لکھنؤ: معروف عالم دین، ممتاز محقق، مصنف اور بین الاقوامی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے سانحہ ارتحال پر جماعت اسلامی ہند یوپی مشرق کے امیر حلقہ ڈاکٹر ملک محمد فیصل نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالم اسلام کے لیے ایک عظیم علمی، اور دینی خسارہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا مرحوم نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی تعلیمات کی اشاعت، اسلامی فکر کی ترویج، علمی تحقیق، تصنیف و تالیف اور ملت کی رہنمائی میں صرف کردی۔ آپ نے دینی علوم، دعوت، سیرت نبوی ﷺ، اسلامی تہذیب اور معاصر مسائل پر متعدد گراں قدر علمی خدمات انجام دیں، جن سے ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے اہل علم و تحقیق نے استفادہ کیا۔
ڈاکٹر ملک محمد فیصل نے کہا کہ مولانا سلمان حسینی ندویؒ کو تحریک اسلامی سے خصوصی قلبی وابستگی تھی۔ وہ تحریک کی دعوتی و فکری جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور مختلف مواقع پر اپنی علمی سرپرستی اور رہنمائی سے نوازتے رہے۔ ان کی شخصیت کا نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ جس بات کو قرآن و سنت کی روشنی میں حق سمجھتے، اسے پوری جرأت، دیانت اور بے باکی کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ حق گوئی اور فکری دیانت ان کی شخصیت کا امتیاز تھی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اختلاف رائے کو علمی وسعت نظر کے ساتھ قبول کرتے، مخالف نقطۂ نظر رکھنے والوں سے تعلقات منقطع کرنے کے بجائے ان سے مکالمہ، تبادلۂ خیال اور دلیل کی بنیاد پر گفتگو کو ترجیح دیتے تھے۔ یہی علمی ظرف اور اخلاقی توازن انہیں ممتاز اہل علم کی صف میں نمایاں کرتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا مرحوم کی زندگی اس بات کی روشن مثال تھی کہ قرآن و حدیث کا گہرا فہم صرف علمی سرمایہ نہیں بلکہ عملی رہنمائی کا سرچشمہ بھی ہے۔ آپ نے ہمیشہ اپنے افکار و آراء کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کو بنایا اور امت کو اعتدال، حکمت، اتحاد اور خیرخواہی کا پیغام دیا۔
امیر حلقہ ڈاکٹر ملک محمد فیصل نے پسماندگان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی دینی، علمی اور دعوتی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہل خانہ، تلامذہ، متعلقین اور تمام سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
