مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
قاری طاہر حسین رحمانی 2026ءمطابق3/محرم 1448ھ بروز شنبہ بوقت صبح آٹھ بجے دنیا سے رخصت ہوگیے، ایک وقت کی نماز باجماعت بھی قضا نہیں ہوئی، فجر پڑھ کر گھر آئے، معمولات کے مطابق تلاوت کیا، تھوڑی دیر بعد متلی ہوئی اور چل بسے، موت کی دستک محسوس کرلی تھی، اس لیے چند روز قبل کفن کا کپڑا خرید کر رکھ لیا تھا، یکہتہ مدھوبنی کے رہنے والے تھے، ادھر کئی سال سے گھر پر ہی تھے، جنازہ کی نماز اسی دن بعد نماز ظہر مولانا حسیب الرحمن شائق یکہتوی نے مدرسۃ البنات میں پڑھائی، جو ان کے گھر سے متصل ہے، اہلیہ ساجدہ خاتون بنت عبد الحفیظ مرحوم مہاراج پور، یکہتہ تین سال پہلے ہی فوت ہوچکی تھیں، اپنے پیچھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی کو چھوڑا، دونوں شادی شدہ ہیں، میں اس دن سفر پر تھا، اس لیے جنازہ میں شرکت خواہش کے باوجود نہیں ہوپائی، دل مسوس کر رہ گیا، تدفین یکہتہ مدھوبنی کے مقامی قبرستان میں ہوئی۔
قاری طاہر حسین رحمانی (ولادت یکم جنوری1950 بن فرید الدین عرف منا خلیفہ بن غلام علی بن علی بخش بن امید علی یکہتہ مدھوبنی کے غریب خاندان میں آنکھیں کھولیں، ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسہ رحمانیہ میں ہوئی، وہاں سے دارالعلوم مؤ اترپردیش تشریف لے گیے، حفظ قرآن میں ہم دونوں کی درسگاہ ایک ہی تھی، حفظ میں حافظ محمد یوسفؒ ہم دونوں کے مشترکہ استاذ تھے، واقعۃً بزرگ تھے، تجوید کی مشق میں حضرت قاری عبد الرشید صاحب مدظلہ میرے استاذ تھے اور وہ قاری محمد یٰسین کی درسگاہ سے منسلک تھے، حفظ قرآن کے بعد میں نے چند دور قاری طاہر صاحب کو بھی سنایا تھا، حضرت مولانا نیاز احمد صاحب کے بھتیجا قاری ارقم بھی ہم لوگوں کے ساتھ ہوا کرتے، قرآن دور میں سننے کی وجہ سے وہ کبھی مجھے اپنا شاگرد کہا کرتے تھے، میرے تعلقات ان سے ہر دور میں مخلصانہ اور رفیقانہ ہی رہے، قرآن اچھا یاد تھا، تلاوت کا معمول تھا، ادھر چند سالوں سے تراویح میں قرآن نہیں سناتے تھے، مختلف قسم کے اعذار اور غم روزگار کی وجہ سے نحیف ہوگیے تھے، پہلے کی طرح توانائی نہیں تھی، اس لیے امامت کا کام چھوڑ دیا تھا، حالاں کہ ان کی پوری زندگی مسجد میں امامت کرنے میں گذری، ویشالی ضلع کے انورپور حاجی پور، حسن پور گنگٹھی، چین پور حسن پور وسطی وغیرہ میں برسوں امامت کرتے رہے۔
مزاج میں سختی تھی اور جلالی کیفیت کا غلبہ تھا، یکہتہ میں ایک قاری مطیع الرحمن صاحب اور دوسرے قاری طاہر حسین جلالی مشہور تھے، قاری مطیع الرحمن کا جلال تو میں نے نہیں دیکھا، حالاں کہ ان کی بحالی مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں میری ہی اکسپرٹ رپورٹ پر ہوئی تھی، لیکن قاری طاہر حسین کے جلال کا مشاہدہ کئی بار ہوا، اس جلال کے نتیجہ میں وہ بہت دنوں تک کسی گاؤں میں امامت کے فرائض انجام نہیں دے پاتے تھے، چھ ماہ سے ایک سال بہت ہوا کرتا تھا، مدرسہ احمدیہ ابابکرپور کے ایک استاذ نے ان سے کہا کہ آپ غیرمستقل مزاج ہیں تو ان پر برس پڑے، کہنے لگے کہ بورڈ کے مدرسہ میں سرکاری لقمہ پر لگے ہوئے ہیں تو آپ کے اندر مستقل مزاجی ہے، میری طرح پرائیوٹ ملازمت کرکے دیکھیے تب آپ کی مستقل مزاجی میں بھی دیکھوں، اپنی اس صفت خاص کی وجہ سے ہروقت ایک استعفیٰ نامہ لکھ کر جیب میں ڈالے رہتے، جہاں کمیٹی کے کچھ لوگوں نے اعتراض کیا، استعفیٰ منہ پر پھینکتے اور کہتے کہ رکھو اپنی نوکری، کوئی کچھ کہتا تو کہتے کہ پرائیوٹ کی نوکری، دریا کنارے کی جھونپڑی اور طوائف کی چھوکڑی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا، کب کدھر کا رخ کرلے، پرائیوٹ ہی نوکری کرنی ہے تو دوسری جگہ کرلوں گا۔
وہ امامت کے میدان میں کبھی، دَبُّو امام نہیں رہے، جواب منہ در منہ دینے کے قائل تھے، ایسے لوگوں کو پہلے بھی برداشت نہیں کیا جاتا تھا اور ان کے دور میں تو بالکل نہیں، ایک دفعہ گاؤں والا ان کی شکایت کر رہا تھا تو انہوں نے سن لیا اور اٹھا کر پٹک دیا، ایک مقتدی نے کہا کہ لوٹا گندہ ہے، چٹائی آپ سیدھی نہیں کرتے، کہنے لگے تیرے ہاتھ ٹوٹ گیے ہیں تم کیوں نہیں چٹائی سیدھی کرتا، لوٹا صاف کرنے کے لیے میں ہی ہوں، تم لوگ کیا کرتے ہو، کچھ ثواب تم بھی کما لیا کرو۔
ایک دن فجر کی نماز میں پانچ منٹ لیٹ آئے، مقتدیوں نے متوجہ کیا کہ آپ بہت لیٹ ہیں، کہنے لگے: ”امام جس وقت مصلی پر آئے وہی نماز کی جماعت کا وقت ہوگا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث نہیں سنی، ”لاتقوموا حتی ترونی“ مجھے دیکھنے کے بعد ہی کھڑا ہوا کرو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں گھڑی تھی کیا؟ بڑے آئے گھڑی دیکھنے والے“۔
انہوں نے میرے گاؤں حسن پور گنگٹھی، بکساما، ویشالی میں بحیثیت امام آٹھ سال گذارے، یہ ان کی زندگی میں ایک جگہ ٹکے رہنے کا سب سے بڑا واقعہ تھا، وجہ ایک مجھ سے محبت تھی اور دوسرے ان کی رہائش اور کھانے کا نظام اپنے گھر سے متعلق ہوتا تھا، دعوت کوئی دیتا تو دوسروں کے یہاں بھی کھا لیتے، کہیں دعوت نہیں تو میرا دسترخوان ان کے لیے حاضر ہوتا، والد صاحب مرحوم باحیات تھے، ان کی داد ودہش کا بھی اپنا طریقہ تھا، والد صاحب کے حوالہ سے وہ کہا کرتے تھے کہ ”امام کو پورا باغیچہ چاہیے، یہاں تو صرف ایک ہی پیڑ ہے، کام کیسے چلے گا؟“
اس زمانہ میں تراویح میں قرآن سنانے کا ان کا معمول تھا، میری چھوٹی بستی میں کئی حفاظ تھے، پندرہ دن تراویح پڑھا کر مختلف جگہوں سے یہ حفاظ کرام لوٹتے اور ان کے مقتدی بن جاتے، ایک بار ایسا ہوا کہ کسی حافظ نے انہیں پیچھے سے غلط لقمہ دیدیا، سلام کے بعد بانہیں ٹونگ کر کھڑے ہوگیے، اے! کس نے لقمہ دیا ہے، بڑا تم کو قرآن یاد ہے، چل پڑھا، دیکھوں کتنا یاد ہے، گاؤں کے بڑے بوڑھوں نے منت سماحت کرکے ان کا غصہ فرو کیا اور کہا کہ حافظ صاحب پھر سے پڑھ دیجیے نا، چنانچہ انہوں نے اس سورہ کو دوبارہ پڑھا اور بالکل صحیح صحیح پڑھا، کہیں غلطی نہیں ہوئی، سلام کے بعد پھر تن گیے، لوگوں نے پوچھا اب کیا ہوا، کہنے لگے ”میں نے ٹینشن میں پڑھا تو کوئی غلطی نہیں ہوئی، بغیر ٹینشن کے پڑھنے میں کیسے غلطی ہوگی“۔
ایسے تھے ہمارے قاری طاہر حسین، خانقاہ رحمانی مونگیر میں حضرت امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی سے بیعت تھے، اسی لیے رحمانی لکھتے تھے، جو اوراد واذکار انہوں نے بتائے اس پر عامل تھے، لیکن آنا جانا خانقاہ نہیں ہوتا تھا، کچھ تو امامت کی ذمہ داری بھی مانع تھی کہ چھٹی نہیں ملاکرتی تھی، کچھ قلت معاش بھی سفر کی اجازت نہیں دیا کرتی تھی۔
مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے، خبر ملنے کی دیر ہوئی کہ میں یکہتہ آیا ہوں، وہ فوراً حاضر ہوجاتے، میری خیریت پوچھتے، دنیا جہان کی باتیں کرتے، وقت ہوتا تو مسلسل ساتھ رہتے، البتہ اگر دعوت نہیں ہوتی تو کھانے کے وقت لازماً الگ ہوجاتے اور اپنی خودداری کو مجروح نہیں ہونے دیتے، اقبال نے کہا ہے: ”مفلسی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے“
اللہ تعالیٰ قاری صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کی سیاٰت کو درگذر کرے، ان کی امامت اور اعمال کا بڑا بدلے، پس ماندگان اور ان کے شاگردوں کو صبر جمیل کی توفیق دے، آمین یارب العٰلمین۔
