سدھارتھ نگر
پیر کے روز آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے ضلع صدر نشاط علی کی صدارت میں صدر جمہوریہ ہند کو مخاطب
ضلع مجسٹریٹ سدھارتھ نگر کے توسط سے ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں نازیہ الٰہی خان کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرے کرنے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گمراہ کن خیالات پھیلانے کے الزام میں سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیال

میمورنڈم میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع صدر نشاط علی نے کہا کہ ’’یہ ایک سنگین معاملہ ہے کہ نازیہ الٰہی خان نے یوٹیوب چینل انڈیا ڈاٹ کام پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے ہیں جس سے ان کی توہین کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مقامات پر ایف آئی آر درج ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر الزامات سامنے آئے ہیں کہ مختلف میڈیا کے ذریعے نشر ہونے والا مواد مبینہ طور پر قرآن پاک اور حدیث کی تعلیمات کی غلط تشریح کرتا ہے، گمراہ کن اشتعال انگیز اور تشد دکو ہوا دینے والے عمل ہے۔ اس طرح کے مواد سے نہ صرف مسلم کمیونٹی کے ہی مذہبی جذبات مجروح نہیں ہوئے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی اور باہمی بھائی چارے پر بھی منفی اثرات پڑنے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔”
ہندوستان کے آئین کے مطابق
ہر شہری کو اپنے مذہب، مذہبی کتابوں، پیغمبروں اور عقائد کا احترام کرنے کا حق ملا ہے۔
قابل احترام شخصیات یا کسی خاص مذہب کے مذہبی عقائد کے بارے میں توہین آمیز گمراہ کن یا اشتعال انگیز بیانات معاشرے میں تناؤ اور عداوت کو فروغ دے سکتے ہیں جو کہ جمہوری اور آئینی اقدار کے خلاف ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ضلع سدھارتھ نگر نےصدر جمہوریہ سے
مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوے غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات دی جائیں کہ وہ نازیہ خان کے خلاف پیشگی قانونی مقدمہ درج کرکے سخت اور مناسب قانونی کارروائی کو یقینی بنائیں۔

انہو نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مستقبل میں کسی بھی مذہب کے پیغمبر یا برادری کے خلاف نفرت، عداوت کو فروغ دینے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی سرگرمیوں کو مؤثر طریقے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائےجائیں۔

اس موقع پر ہدایت اللہ شمسی، معراج چودھری، نعیم اختر انصاری، رضوان ظفر اللہ، عبدالاحد خان، عطاء اللہ چودھری، احسان خان، مقبول خان، معراج احمد، محمد شاہنواز، عبدالسلام، شمس تبریز، اظہار الحق خان، عبدالرحمن، شمس الدین، خان، محمد عاطف، خان، احمد، خان، عاطف، عاطف، خان اور دیگر بھی موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے