(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر
محرم کا چاند نظر آتے ہی مسلمانوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے 72 ساتھیوں کی شہادت کو جگہ جگہ اُن کی یاد میں محفلیں منعقد کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
مختلف مقامات پر لوگوں نے کربلا میں یزید اور اس کے سپہ سالاروں کے ہاتھوں امام حسین اور ان کے 72 ساتھیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو یاد کرتے ہوئے ذکر حسین اور شہدائے کربلا کی شان میں مجلسیں منعقد کیا۔
اس دوران حافظ و مولانا قاری قطب الدین چشتی نے ایک پروگرام میں کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے دین اسلام کو نئی زندگی بخشا۔
واقعہ کربلا نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے عالم انسانیت کے لیے ایک درس ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان پر کتنا ہی ظلم اور مصیبت کا پہاڑ کیوں نہ آ جائےصبر و استقامت کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ کربلا میں امام حسین کے ساتھ اُن کے رفیقوں نے تین دن تک بھوکے پیاسے رہ کر اسلام کے تمام ضابطے اوراصولوں کو پورا کیا یہی وجہہ ہے کہ پوری دنیا ان کی قربانیوں اور شہادتوں کو آج بھی یاد کرتی ہے اور صبح قیامت تک یاد کرتی رہے گی۔
ڈاکٹر مولانا توصیف علوی نے کہا کہ جس نے واقعہ کربلا کو سمجھ لیا اس نے یقیناً اسلام کو پوری طرح سمجھ لیا کیونکہ کربلا نے ہمیں کسی ظالم کے سامنے نہ جھکنے کا سبق دیا ہے۔ چاہے مصیبت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو سچائی اور صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ما ں،باپ کا بیٹےسے، بھائی کا بھائی سے، چچا کا بھتیجا اور بھتیجی سے، پھوپھی کا بھتیجا اور بھتیجی سے، بہن کا بھائی سے، بھا ئی کا بہن سے، خالہ کا اس کے بھانجے، بھانجی سے اور شو ہر کا بیوی سے اور بیوی کا شو ہر سے کیسا اور کس طرح رِشتہ نبھانا چاہیے وہ بھی تب کوئی جب بھاری بھرکم مصیبت آن پڑے تو اُن کے ساتھ کیسا سلوک اختیار کرنا چاہیے اور اُن کے حقوق اور فرائض کو کیسے انجام دینا چاہیے اس سب کا سبق ہمیں کربلا سے بخوبی ملتا ہے۔
اگر مسلمان اس کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کر لیں تو وہی لوگ یقیناً سچے مسلمان اور سچے حسینی کہلانے کے حقدار ہوں گے۔
مولانا ارشاد احمد نظامی نے کہا کہ واقعہ کربلا نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ نماز کسی بھی حالت میں نہ چھوڑا جائے ۔ جس طرح کربلا کے میدان میں 72 شہداء تین دن تک بھوکے پیاسے رہ کر انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ نماز اور پردے کی پابندی کرتے رہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی صبر و استقلال کے ساتھ نماز اور پردے کی پابندی کرنی چاہیے۔ تب ہی ہم صحیح معنوں میں حسینی کہلانے لائق ہیں ہوں گے۔ امام حسین کا قافلہ کربلا میں شہید ہونے کے بعد بھی سیدزادیوں نے اپنے پردے کی پاسداری کی اور انھوں نے پرہ ترک نہیں کیا۔ آج مسلمانوں کے گھروں میں عورتوں کی حالت زار دیکھنے پر پتہ چلتاہے کہ ان کی بے حیائی اور بے شرمی کا تماشہ بنا ہوا ہے جس کی پوری دنیا گواہ ہے۔
10 محرم کو ضلع بھر میں محرم کے جلوس روایتی انداز میں نکالے گئے جس میں بچوں، بوڑھوں، نوجوانوں اور خواتین نے بڑھ ، چڑھ کر حصہ لیا۔
جلوس میں تعزیہ کی شاندار نمائش دیکھنے کو ملی۔
شائقین صدیوں پرانے کھیل، لاٹھی، بلم، تلوار بازی وغیرہ سے اپنے کھیلوں اور کرتبوں سے سامعین کو محظوظ کرتے رہے۔
محرم کا جلوس شہر کے کونے کونے سے ہوتا ہوا کربلا پہنچا جہاں نذر و نیاز کے بعد آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اس دوران میلوں میں لوگوں کا بڑا ہجوم نظر آیا۔ خاص طور پر ہندو مذاھب کے لوگوں نے بھی تعزیہ جلوس میں بڑی تعداد میں شرکت کرکے گنگا جمنی تہذیب اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔جہاں عقیدت مندوں کو تمام طرح کے پھل کےشربت، پانی پلائے گئے اور کہیں کہیں کھچڑی بھی تقسیم کیا گیا اور لوگوں کو کھلایا گیا۔ اس دوران پولیس فورس کی بڑی تعداد جلوس کو کور کرتی رہی جس کی مستعدی سے پورے ضلع میں کہیں بھی کوئی کشیدگی دیکھنے کو نہیں ملی۔

