ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ڈائریکٹر مرکز تعلیم القرآن۔دہلی

دنیا کی تاریخ میں بہت سی کتابیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے علم و ادب کے ذخیرے میں اضافہ کیا، بعض نے فلسفیانہ افکار کو جنم دیا اور بعض نے مخصوص قوموں کی سیاسی یا معاشی رہنمائی کی لیکن قرآن مجید وہ واحد کتاب ہے جس نے نہ صرف انسان کے فکر و عقیدہ کو بدلا بلکہ اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست اور تہذیب و تمدن کے پورے ڈھانچے میں ایک ہمہ گیر انقلاب برپا کیا۔
یہ انقلاب محض نظری نہیں تھا بلکہ عملی تھا۔ قرآن ایک ایسے معاشرے میں نازل ہوا جہاں شرک، ظلم، نسلی تفاخر، عورتوں کی بے قدری، معاشی استحصال اور سیاسی انتشار عام تھا۔ لیکن صرف 23؍برس کے مختصر عرصے میں اسی معاشرے کو قرآن نے دنیا کی ایک مثالی امت میں تبدیل کر دیا۔اللہ تعالیٰ اپنے اس احسان کو یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے :’’اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی تو تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، حالانکہ تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔‘‘َ (آل عمران:103)

قرآن کا تصور انقلاب
عام طور پر انقلاب سے مراد سیاسی بغاوت کے ذریعہ حکومت کی تبدیلی یا معاشی نظام کی تبدیلی لی جاتی ہے، لیکن قرآن کا تصورِ انقلاب اس سے کہیں زیادہ ہمہ گیر، ہمہ جہت اور گہرا ہے۔ قرآن محض اقتدار کی منتقلی نہیں چاہتا بلکہ وہ انسان کے فکر، عقیدہ، اخلاق، معیشت، سیاست، معاشرت اور تہذیب سب کی اصلاح اور تطہیر چاہتا ہے۔ وہ اپنے سوا تمام باطل نظریات اور غیر عادلانہ نظام ہائے زندگی کو رد کرتا ہے اور ایک ایسے نظام کا قیام چاہتا ہے جو عدل، مساوات، انسانیت اور خدا پرستی پر قائم ہو۔ قرآن مجید میں رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد یہی بیان کیا گیا ہے:
’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام نظام ہائے زندگی پر غالب کردے اگرچہ مشرکوں کو یہ ناپسند ہو۔‘‘(التوبہ:33)
قرآن کا انقلاب جبر، تشدد، تلوار اور خونریزی کا انقلاب نہیں بلکہ دعوت، تذکیر، اصلاح اور اخلاقی تربیت کا انقلاب ہے۔ قرآن نے واضح اعلان کردیا:لَا إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ (البقرۃ:256)’’دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔‘‘اسی طرح نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’پس آپ نصیحت کرتے رہیے، آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں۔‘‘(الغاشیۃ:21-22)
بلکہ فرمایا:وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینَ (الأنبیاء:107)’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
اسلام کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے انسانوں کے دل جیتے، ان کے ضمیر کو بیدار کیا اور انہیں سوچنے پر مجبور کیا۔ قرآن نے انسان سے کہا کہ وہ اپنے باطل عقائد پر غور کرے۔ اس نے شرک کو غیر عقلی قرار دیتے ہوئے فرمایا:أَفَلَا یَعْقِلُونَ (یونس:16)’’کیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘
قرآن نے بتایا کہ طبقاتی تفریق، نسلی برتری، معاشی استحصال اور انسانی تحقیر پر مبنی نظام غیر منصفانہ ہیں۔ اس نے انسانی مساوات کا عظیم اعلان کیا:
یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَیٰ وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ، إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللّٰہِ أَتْقَاکُمْ (الحجرات:13)’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘
رسول اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے عظیم اجتماع میں اسی قرآنی عدل و مساوات کو ان الفاظ میں واضح فرمایا:
’’کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے ذریعے۔‘‘ (مسند احمد)
یہ وہ انقلاب تھا جس نے غلاموں کو عزت بخشی۔ حضرت بلالؓ جیسے حبشی غلام کو وہ مقام ملا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے قدموں کی آواز سنی۔‘‘ (متفق علیہ)
یہ وہ انقلاب تھا جس نے عورتوں کو وراثت، عزت اور سماجی مقام عطا کیا۔ قرآن نے فرمایا: ’’اور عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے سے ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں۔‘‘ (البقرۃ:228)
قرآن کا انقلاب انسان کے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ وہ صرف تخت بدلنے کو انقلاب نہیں کہتا بلکہ انسان کی سوچ، کردار اور ترجیحات بدلنے کو اصل انقلاب قرار دیتا ہے۔ اسی لیے فرمایا:
إِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّیٰ یُغَیِّرُوا مَا بِأَنفُسِہِمْ (الرعد:11)
’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔‘‘
نبی اکرم ﷺ نے بھی فرد کی اصلاح کو معاشرتی انقلاب کی بنیاد قرار دیا:
’’سنو! انسانی جسم میں ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہوجاتا ہے تو سارا جسم درست ہوجاتا ہے اور جب وہ خراب ہوجاتا ہے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے، سنو! وہ دل ہے۔‘‘ (بخاری)
یہی قرآن کا حقیقی انقلاب ہے؛ ایسا انقلاب جو صرف ایوانوں کو نہیں بلکہ دلوں کو فتح کرتا ہے، صرف حکومت نہیں بلکہ انسانیت کو بدل دیتا ہے، جو تلوار کے زور سے نہیں بلکہ کردار کی قوت، دلیل کی طاقت اور اخلاق کی روشنی سے برپا ہوتا ہے۔

قرآن کا طریقہ ٔ انقلاب
قرآن کا انقلابی طریقہ کار محض نظری نعروں یا جذباتی ابھار پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ وہ حکمت، تدریج، تربیت، صبر اور عملی نمونے پر قائم ایک ہمہ گیر عمل کے ذریعہ برپا ہوتاہے۔ انسانی تاریخ میں اکثر انقلابات اچانک بغاوت، خونریزی اور طاقت کے زور پر برپا کیے گئے، لیکن ایسے انقلابات اکثر ایک ظلم کو ختم کرکے دوسرے ظلم کو جنم دیتے رہے۔ قرآن نے انسانی زندگی میں حقیقی اور پائیدار تبدیلی کے لیے ایک بالکل مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے پہلے انسان کے فکر و عقیدہ کو بدلا، پھر اس کے اخلاق کو سنوارا، اس کے بعد معاشرے کی اصلاح کی اور آخر میں ایک عادلانہ نظام قائم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنی انقلاب وقتی ہنگامہ نہیں بلکہ ایک دیرپا اور ہمہ جہت تبدیلی کا نام ہے۔
قرآن کے انقلابی طریقہ کار کی پہلی نمایاں خصوصیت تدریج ہے۔ قرآن نے انسانی معاشرے کی گہری جڑوں میں پیوست برائیوں کو ایک ہی حکم کے ذریعے ختم کرنے کے بجائے مرحلہ وار اصلاح کا طریقہ اختیار کیا۔ شراب عرب معاشرے کا ایک عام رواج تھی۔ اگر ابتدا ہی میں اس کی قطعی حرمت کا اعلان کردیا جاتا تو لوگ اسے قبول کرنے میں دشواری محسوس کرتے۔ چنانچہ پہلے فکر و ذہن میں اس کے نقصان کو بٹھایا گیا ہے:
یَسْأَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ? قُلْ فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُہُمَا أَکْبَرُ مِن نَّفْعِہِمَا (البقرۃ:219)
’’لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، مگر ان کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ بڑا ہے۔‘‘
اس کے بعد نماز کے وقت نشہ کی حالت میں آنے سے منع کیا گیا:
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاۃَ وَأَنتُمْ سُکَارَیٰ (النساء:43)
’’اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔‘‘
یعنی نشہ کے اوقات متعین کردیے گئے اور انسان کو ترک نشہ کی عادت ڈلوائی گئی۔
پھر حرمت شراب کا قطعی حکم نازل ہوا:
إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (المائدۃ:90)
’’بے شک شراب، جوا، آستانے اور فال نکالنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘
اس کے بعد اگلی آیت میں فرمایا گیا:
إِنَّمَا یُرِیدُ الشَّیْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَائَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلَاۃِ فَہَلْ أَنتُم مُّنتَہُونَ (المائدۃ:91)
’’شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کردے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آؤ گے؟‘‘
اس تدریجی حکمت عملی نے ثابت کیا کہ قرآن انقلاب کو فطری انداز میں نافذ کرنا چاہتا ہے تاکہ تبدیلی دلوں میں اتر جائے اور پائیدار بن سکے۔
قرآنی انقلاب کا دوسرا اہم مرحلہ افراد کی ہمہ جہت تربیتِ کا ہے۔ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک رسول اللہ ﷺ نے کسی سیاسی اقتدار کے حصول کی جدوجہد نہیں کی بلکہ انسان سازی پر توجہ دی۔ اس دور میں نازل ہونے والی آیات میں توحید، آخرت، اخلاق، صبر، تقویٰ اور کردار سازی پر زور دیا گیا۔ ایک ایسی جماعت تیار کی گئی جو ہر قربانی کے لیے آمادہ ہو۔ قرآن نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:
ہُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّینَ رَسُولًا مِّنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ (الجمعۃ:2)
’’وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیات پڑھتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘ یہی تربیت یافتہ افراد بعد میں اسلامی انقلاب کے علمبردار بنے۔
قرآنی انقلاب کا تیسرا اصول صبر اور استقامت ہے۔ حق کی دعوت پیش کرنے والوں کو آزمائشوں، مخالفتوں اور مصائب سے گزرنا پڑتا ہے۔ مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں نے ظلم و ستم برداشت کیا، معاشی بائیکاٹ جھیلا، ہجرت کی تکلیف اٹھائی، لیکن اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔ قرآن نے رسول اللہ ﷺ کو بھی یہی ہدایت دی:
فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (الأحقاف:35)
’’آپ صبر کیجیے جیسے اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا۔‘‘
ایک اور مقام پر فرمایا:
وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ إِلَّا بِاللّٰہِ (النحل:127)
’’صبر کیجیے اور آپ کا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔‘‘
بلکہ اہل ایمان کو اس انقلاب کے لیے صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنے کی تعلیم دی گئی :
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاۃِ ، إِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِینَ (البقرۃ:153)
’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
قرآن کے انقلابی طریقہ کار کی چوتھی اور سب سے مؤثر خصوصیت عملی نمونہ ہے۔ قرآن نے صرف نظری تعلیمات نہیں دیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو ان تعلیمات کا عملی نمونہ بنا دیا۔ آپ ﷺ نے جس چیز کی دعوت دی، پہلے خود اس پر عمل کیا۔ آپ کی سیرت قرآن کی جیتی جاگتی تفسیر تھی۔قرآن نے رسول اللہ ﷺ کو بہترین نمونہ قرار دیا:
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الأحزاب:21)
’’یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔‘‘
یہی عملی قیادت تھی جس نے صحابہ کرامؓ کے دلوں کو بدلا اور ایک نئی تاریخ رقم کردی۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا انقلابی طریقہ کار آج بھی انسانیت کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر معاشروں میں حقیقی اور مثبت تبدیلی مطلوب ہو تو جذباتی نعروں، تشدد اور فوری نتائج کی خواہش کے بجائے قرآن کے اسی حکیمانہ راستے کو اختیار کرنا ہوگا جو انسان کی فکر بدلتا ہے، کردار سنوارتا ہے اور پھر ایک صالح معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ یہی وہ انقلاب ہے جو انسان کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں دیتا ہے اور دنیا میں عدل، امن اور فلاح کی بنیاد رکھتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے