طلبہ و طالبات کی شاندار تقاریر، نظمیں اور قومی ترانے حافظ صفی الرحمن فرقانوی نے تعلیم تربیت اور مدرسے کی ترقی کے لیے والدین و اہلِ گاؤں کو محبت بھرا پیغام دیا

پرسیا کرہیا گوشایئں، سدھارتھ نگر (15 اگست 2026): یومِ آزادی کے موقع پر مدرسہ رئیس العلوم پرسیا کرہیا گوشایئں سدھارتھ نگر یوپی میں ایک پُروقار اور بامقصد تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا آغاز پرچم کشائی سے ہوا، جس کے بعد مدرسے کے طلبہ و طالبات نے آزادی کی اہمیت، وطن سے محبت تعلیم اور قومی ذمہ داریوں کے موضوعات پر شاندار تقاریر خوبصورت نظمیں اور قومی ترانے پیش کیے۔

بچوں کی پُراعتماد پیش کش اور ملی جذبات سے بھرپور پروگرام نے حاضرین کو متاثر کیا تقریب میں اس بات کا خصوصی احساس اجاگر کیا گیا کہ یومِ آزادی محض خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ وطن کی تعمیر و ترقی امن و بھائی چارے اور نئی نسل کی بہتر تعلیم و تربیت کے عزم کی تجدید کا موقع بھی ہے۔

تقریب کے دوران مدرسے کے خادم حافظ صفی الرحمن فرقانوی نے نہایت سادہ، مؤثر اور فکر انگیز انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت صرف اساتذہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے محبت بھرے انداز میں اہلِ گاؤں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مدرسہ آپ ہی کا ہے۔ آپ جتنی دلچسپی اور محبت کے ساتھ اس کے ساتھ رہیں گے ان شاء اللہ یہ ادارہ اتنا ہی آگے بڑھے گا۔ میں تو ایک خادم ہوں میری کوشش خدمت کرنا ہے، لیکن بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سب کا تعاون اور دلچسپی ضروری ہے۔

انہوں نے والدین کو خاص طور پر اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ بچوں کو صرف مدرسے بھیج دینا کافی نہیں بلکہ ان کی تعلیمی ضروریات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ والدین ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ اپنے بچوں کا بستہ ضرور دیکھیں اور اطمینان کریں کہ ان کے پاس ضروری کتابیں کاپیاں قلم اور دیگر تعلیمی سامان موجود ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح والدین اپنے بچوں کے لباس صفائی اور دیگر ضروریات کا خیال رکھتے ہیں اسی طرح ان کی تعلیم اور تعلیمی سامان کی طرف بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے کیونکہ تعلیم ہی وہ سرمایہ ہے جو بچوں کے مستقبل کو روشن بناتا ہے۔

حافظ صفی الرحمن فرقانوی نے اہلِ گاؤں سے اپیل کی کہ مدرسے کے تعلیمی ماحول اور بچوں کی ضروریات کے حوالے سے اپنی دلچسپی برقرار رکھیں انہوں نے واضح کیا کہ ان کی گفتگو کا مقصد کسی فرد سے شکوہ یا شکایت کرنا نہیں بلکہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سب کو محبت کے ساتھ متوجہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم سب مل کر اپنے بچوں کی تعلیم تربیت اور ضروریات کا خیال رکھیں گے تو اس کے بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔

اس موقع پر انہوں نے خصوصاً ان ماؤں اور بہنوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جو تقریب میں شریک ہوئیں اور بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے تشریف لائیں انہوں نے اس شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تعلیم میں ماؤں اور بہنوں کی دلچسپی بھی بہت اہم ہے۔

اپنی گفتگو کے دوران مدرسے اور بچوں کے مستقبل کی فکر بیان کرتے ہوئے حافظ صفی الرحمن فرقانوی کی آنکھیں نم ہوگئیں ان کے جذبات سے یہ احساس نمایاں تھا کہ ان کی تمام تر فکر بچوں کی تعلیم تربیت اور ادارے کے بہتر مستقبل کے لیے ہے۔

انہوں نے اہلِ گاؤں کو محبت کے ساتھ یہ پیغام دیا کہ مدرسے کے بارے میں کسی بھی بات کو سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر نہ دیکھا جائے بلکہ اپنے بچوں اور اپنے ادارے کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے مثبت انداز میں اس کی ترقی میں حصہ لیا جائے۔

اسلام نے بھی نیکی کے کاموں میں باہمی تعاون اور علم کی فضیلت پر خصوصی زور دیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى: اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (سورۃ المائدہ 2)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ۔

 جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ (صحیح مسلم 2699)

یہی وجہ ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں اساتذہ والدین اور معاشرے کا باہمی تعاون ایک روشن اور مضبوط مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

یومِ آزادی کی اس تقریب نے جہاں بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا وہیں والدین اور اہلِ گاؤں کو نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ایک مثبت پیغام بھی دیا۔

تقریب کے اختتام پر مدرسے کے اساتذہ طلبہ و طالبات والدین اور تمام اہلِ گاؤں کے لیے خیر و برکت باہمی محبت اتحاد اور مدرسے کی مزید ترقی کی دعا کی گئی۔

یومِ آزادی کے اس موقع پر یہ پیغام بھی سامنے آیا کہ وطن کی حقیقی خدمت صرف جشن منانے تک محدود نہیں بلکہ اپنی نئی نسل کو تعلیم یافتہ بااخلاق ذمہ دار اور مفید شہری بنانا بھی وطن کی تعمیر میں ایک اہم کردار ہے۔

مدرسہ ایک فرد کا نہیں پوری بستی کی امانت ہے بچے آج کے طالب علم اور کل کے معمار ہیں ان کی تعلیم میں ہماری توجہ محبت اور تعاون ہی ان کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے